کامنتظررہوں گا۔ مگراس کے بعدآپ بصرہ ہی میں بیمارہوکروصال فرماگئے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پررحم فرمائے ۔ (امین)
خلیفہ سے بھاگنے کی وجہ:
(9536)…حضرت سیِّدُنا عصام بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے جب مجھے خلیفہ مہدی کے پاس بھیجنے کا ارادہ کیا تو میں نے ان سے عرض کی: میں پہاڑوں کا رہنے والا ایک نوجوان ہوں کہیں میں آپ کا کوئی راز فاش کرکے آپ کی رسوائی کا سبب نہ بن جاؤں۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: تم میرے پاس آنے والوں کودیکھتے ہو، اگر میں ان میں سے کسی کویہ کام کہوں گا تو وہ یہ سمجھے گا کہ ” میں حکمرانوں کے ساتھ حسن سلوک کرتاہوں “ جبکہ مجھے تم پر بھروسا ہے تم جوجانتے ہو وہ کہہ دینا اور جونہیں جانتے وہ نہ کہنا۔ جب میں خلیفہ سے مل کرواپس حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس آیا تو اُن سے عرض کی: آپ کس وجہ سے اس شخص سے بھاگتے ہیں حالانکہ وہ تو کہتا ہے : اگر حضرت سفیان میرے پاس آجاتے تو میں ان کے ساتھ بازار جا کر لوگوں کونیکی کا حکم کرتا اورانہیں برائی سے رُوکتا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے سُست وڈھیلاکہا اور فرمایا: اس لئے بھاگتا ہوں تاکہ وہ جو جانتا ہے اس پر عمل کرے پس اگر وہ اپنے علم پر عمل کرے گا توپھر ہمیں اس کے پاس جاکر اُسے وہ بتانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا جو وہ نہیں جانتا۔
خط لکھنے میں اسلاف کی پیروی:
(9537)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد کابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مجھ سے خلیفہ مہدی کو خط لکھواتے ہوئے فرمایا: لکھو ” یہ خط سفیان بن سعید کی جانب سے محمد بن عبداللہ کے لئے ہے “ میں نے عرض کی: اگرمیں نے یہ لکھا تو وہ اسے نہیں پڑھے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: توپھرجیسے چاہولکھ دو۔ میں نے لکھ دیا۔ پھرفرمایا: لکھو ” فَاِنِّيْ اَحْمَدُاِلَيْكَ اللهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّاهُوَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی وَهُوَ لِلْحَمْدِاَهْلٌ وَّهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ یعنی میں تیرے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بڑی برکت والا اور بلند ہے ، وہی تمام تعریفوں کا مستحق اور ہر شے پر قادر ہے ۔ “ میں نے عرض کی: اس طرح خط کی ابتداکون کرتاتھا؟آپ نے فرمایا: مجھے حضرت منصورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْرنے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ابو عَبْلَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ لکھا کرتے تھے ۔