رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکوفرماتے ہوئے سناکہ مجھے منٰی میں ابوجعفرکے پاس لایاگیاتومیں نے اس سے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو، تم آج جو اِس مقام پرٹھہرے ہوئے ہواوریہاں تک پہنچے ہو یہ مہاجرین وانصار صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تلواروں کی بدولت ہے اورآج انہی کے بچے بھوک سے مررہے ہیں، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی حج کیامگراس میں صرف15دینارخرچ کیے تھے اوروہ(عالیشان خیموں کے بجائے )کسی درخت کے نیچے قیام کیا کرتے تھے ۔ یہ سن کر خلیفہ نے مجھ سے کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری طرح ہوجاؤں؟ میں نے کہا: میری طرح نہ بنوبلکہ میری اوراپنی موجودہ حالت کے درمیان والے بن جاؤ۔ اس نے مجھ سے کہا: یہاں سے چلے جاؤ۔
خلیفہ مہدی کے تاثرات:
(9535)…حضرت سیِّدُناعصام بن یزیدجبررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہے : حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے مجھے خلیفہ مہدی، اس کے وزیر ابو عبداللہ اور یعقوب بن داؤد کے پاس مکتوب دے کر روانہ کیا، مجھے خلیفہ کے پاس لے جایا گیاتومیں نے اپنی گفتگو کی پھر خلیفہ نے کہا: اگر ابو عبداللہ! ہمارے پاس آجاتے تو ہم اپنے ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیتے ، ایک چادر اوڑھتے اور دوسری سے تہبندباندھ لیتے پھر بازار جاکر لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اوربُرائی سے منع کرتے لیکن جب ابوعبداللہ(حضرت سفیان ثوری)جیسے لوگ ہمارے پاس نہ رہے تو ہمارے پاس تمہارے وہ علما آئے جو تمہارے ہی علما تھے ، انہوں نے مجھے نیکی کا حکم دیا، بُرائی سے منع کیا اور نصیحتیں کیں اور وہ روئے بھی مگر وَاللہ !ان کا رونامیری خاطرتھا تومیں بھی ان کے لئے جھوٹ موٹ رویا۔ پھریہ کہ ان میں سے جو بھی آیااُس نے اپنی آستین سے ایک رُقعہ نکال کرمجھے دیاجس میں ایسامضمون تھاکہ ” میرے لئے یہ کردو، میرے لئے وہ کردو “ تومیں نے ان کی حاجتیں پوری کردیں مگرمیں اُن کے ایساکرنے پراُن سے سخت ناراض ونالاں بھی ہوا۔
راوی کہتے ہیں : حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے خلیفہ مہدی کو فقط امان طلب کرنے کے لئے خط لکھا تھا کیونکہ اُن کی روپوشی کافی طویل ہوگئی تھی ۔ چنانچہ خلیفہ نے آپ کو امان دے دی تو میں یہ پروانہ لے کر ان کے پاس بصرہ پہنچ گیا۔ امان نامے میں خلیفہ نے یہ بھی کہا تھا: آپ اپنے گھر والوں کے پاس چلے جائیں کیونکہ آپ کو روپوش ہوئے بہت عرصہ بیت چکا ہے ، ان کے پاس کچھ عرصہ رہیں پھر مجھ سے کوفہ آکر ملیں، میں آپ