سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا گریبان پکڑا اور اپنا چہرہ کعبے کی سمت گھما کر کہنے لگا: ربّ تعالیٰ گواہ ہے ! تمہیں اس گھرکے رب کی قسم ! بتا ؤتم مجھے کیسا انسان سمجھتے ہو؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ” اس گھر کے رب کی قسم! میں تجھے بُرا انسان سمجھتا ہوں ۔ “ یہ کہہ کر آپ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔
(9531)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ایک بارفرمایا: ابو جعفر مجھ سے کیا چاہے گا ؟ خدا کی قسم! اگر میں اس کے سامنے کھڑا ہواتو اس سے ضرورکہوں گا: اس جگہ سے اٹھ جاکیونکہ کوئی اور تجھ سے زیادہ اس جگہ کامستحق ہے ۔
(9532)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے عرض کی گئی: آپ حکمرانوں کے پاس جایاکریں۔ آپ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے یہ سوال فرمائے کہ میں نے وہاں کیاکہا؟عرض کی گئی: آپ کہیں اوراحتیاط کریں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم کہتے ہو کہ سمندر میں تیراکی کروں اور میرے کپڑے گیلے نہ ہوں؟
حضرت سیِّدُنا حَیَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ فرمایاتھا: ” میں حکمرانوں کی مار سے نہیں ڈرتابلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ اپنی دنیا مجھ پر اُنڈیل نہ دیں اورپھر میں ان کی بُرائی کو برائی نہ سمجھوں۔ “
(9533)…حضرت سیِّدُنا یزید بن ابوحکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکْرِیۡم فرماتے ہیں: ہم مسجد الحرام میں تھے پس لوگوں نے خلیفہ کی بیعت کرنا شروع کردی ۔ اس وقت حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نئے تہبند اور نئی چادر میں ملبوس تھے توآپ ایک مسکین کے پاس آئے جودوبوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھا، آپ نے اُس سے فرمایا: کیا تم میرے نئے کپڑے لے کرمجھے یہ پُرانے کپڑے دے سکتے ہو؟اُس نے موقع غنیمت جانا اور کہا: ہاں۔ پس آپ نے نئے کپڑے اُسے دئیے اور پُرانے لے کرپہن لئے پھرمسجد کی طرف آگئے ، حفاظت پر مامور حارسین (پہرے داروں) نے آپ کو پکڑلیا اور مسجدسے باہر نکال کر بولے : اے گندے انسان! تمہارا یہاں کیا کام ؟
خلیفہ کو اعتدال کادرس:
(9534)…حضرت سیِّدُنامحمد بن یُوسُف فِریابیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ