عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جب مجھے پکڑکرخلیفہ مہدی کے دربار میں لے جایا گیا تو میں نے دل میں کہا: اے نفس!میں پھنس چکا ہوں اب تو مجھے سنبھال کر رکھنا۔ جب میں اندرداخل ہواتو میری ایک جانب (خلیفہ مہدی کا وزیر) ابو عُبَـیْدُاللہ بیٹھا تھا، اس نے مجھ سے کہا: کیا تم سفیان ثوری نہیں ہو؟میں نے کہا: کیوں نہیں۔ اسں نے کہا: کبھی کبھارتمہارے خطوط ہمارے پاس آتے ہیں۔ میں نے کہا: میں نے تمہیں کبھی کوئی خط نہیں لکھا۔ اس پر وہ خود سے کہنے لگا: پھر انہیں کیا چیز یہاں لائی ؟
(9527)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اگرکوئی شخص حکمرانوں سے سواری اور زین یا لگام عاریتًا(یعنی عارضی طورپراستعمال کے لئے )مانگتا ہے تو اس کا دل ان کے لئے بدل جاتا ہے ۔
سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی بددعا:
(9528)…حضرت سیِّدُنا عبد الرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں: خلیفہ ابو جعفر جب مَکۂ مکرمہ جانے کے لئے نکلا تو لکڑی کا کام کرنے والوں کو حکم دے کر بھیجا کہ اگر تم سفیان ثوری کو دیکھو تو انہیں سولی دے دینا لہٰذا اُن بڑھیّوں نے وہاں آکر ایک شہتیر نصب کر دیا اور حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے لئے منادی کرا دی گئی۔ اس وقت آپ اپنا سر حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب کی گود میں جبکہ پاؤں حضرت سیِّدُناسفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی گود میں رکھے آرام فرما تھے ، لوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے عرض کی: ابو عبداللہ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈریئے اورہم پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیجئے ۔ یہ سن کر آپ کعبے کے پردوں کی طرف بڑھ گئے اور ان میں داخل ہو گئے پھر وہ پردے پکڑ کر فرمانے لگے : ” اگر ابوجعفر مکہ مکرمہ میں داخل ہوجائے تو میں اس سے بری ہوں ۔ “ راوی کہتے ہیں کہ ابوجعفر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مرگیا۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کویہ خبر دی گئی تو آپ نے کچھ نہ کہا ۔
(9529)…حضرت سیِّدُناوُہَیْب مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرمایاکرتے تھے : یہ عراقی(یعنی حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) کیا کرتاہے کہ اُمرا سے بے رُخی برتتا اور فقرا کو قریب کرتا ہے ؟ یہ کیا کرتا ہے !
خلیفہ کے منہ پر مذمت:
(9530)…حضرت سیِّدُنا عبد الرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں: خلیفہ ابوجعفر نے حضرت سیِّدُنا