Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
58 - 361
 قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کیجئے ۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنے ہاتھ میں وہ انگوٹھی لے کرفرمایا: امیرالمؤمنین!کچھ کہنے کی اجازت دیجئے ۔ حضرت عُبَیْدنے حضرت عَطابن مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے پوچھا:  کیا حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے  ” یا امیرالمؤمنین “ کہا تھا؟ انہوں نے جواب دیا:  ہاں۔ پھر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے کہا: جان کی امان پاؤں تو کچھ کہوں؟ اس نے کہا:  جی ہاں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جب تک میں خود تمہارے پاس نہ آؤں کسی کو مجھے بلوانے مت بھیجا کرو اور جب تک میں خود تم سے نہ مانگوں مجھے کچھ مت دیا کرو۔ یہ سن کر خلیفہ غصے میں آگیا اور ان کے قتل کا ارادہ کیا تو اس کے کاتب نے کہا: امیرالمؤمنین!کیا آپ نے انہیں امان نہیں دی تھی؟ اس نے کہا:  کیوں نہیں۔ جب آپ وہاں سے نکلے تو آپ کے ساتھی آپ کو گھیر کر  پوچھنے لگے : ابو عبداللہ! جب خلیفہ نے آپ کویہ حکم دیا کہ  ”  اس اُمت کے معاملے میں قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرو۔  “ تو کس چیز نے آپ کو اس سے روکا؟راوی کہتے ہیں: آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں کم عقل جانا اور وہاں سے نکل کربصرہ چلے گئے ۔ 
(9524)…حضرت سیِّدُنا داؤد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے ساتھ تھا، ہم ایک سپاہی کے پاس سے گزرے جوسورہاتھاجبکہ نمازکاوقت بھی ہوچکاتھا، میں اسے جگانے کے لئے آگے بڑھا تو آپ نے مجھے پکار کر کہا:  رُک جاؤ۔ میں نے کہا: ابو عبداللہ! وہ نماز پڑھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: اسے چھوڑدواللہ عَزَّ  وَجَلَّاس پررحم نہ کرے ، جب تک یہ سونہ جائے لوگ سکون نہیں پاتے ۔ (1)
(9525)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  اگر ان حکمرانوں میں سے کوئی تم سے رہنمائی طلب کرے تو اس کی رہنمائی مت کرو ۔ 
(9526)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن مہدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیسے مروی ہے : حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری 



________________________________
1 -   حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سپاہی کو جگانے سے شاید اس لئے منع کیا کہ خلیفہ کے سپاہی عوام وخواص پر بہت ظلم وستم ڈھاتے تھے اور رعایا کو ان کے سونے کے وقت ہی آرام ملتا تھا ورنہ حکم  یہی ہے کہ اگرکوئی شخص نمازپڑھے بغیرسورہا ہوتو اُسے جگادینا چاہیے ۔ چنانچہ بہارشریعت، حصہ4، جلد1، صفحہ701پرمذکور ہے : کوئی سو رہاہے یا نماز پڑھنا بھول گیاتوجسے معلوم ہواس پرواجب ہے کہ سوتے کوجگادے اوربُھولے ہوئے کویاددلادے ۔ (ردالمحتار، ۳ / ۴۲۰)(ورنہ گنہگارہوگا) یادرہے ! جگانایایاددلانااس وقت واجب ہوگاجبکہ ظَنِّ غالِب ہوکہ یہ نَمازپڑھے گاورنہ واجِب نہیں۔ (نمازکے احکام، ص۳۳۲)