ہوگئے ، حج کے موقع پر امیر مکہ عبد الصمد بن علی ہاشمی بھی موجود تھا، کسی نے دوازہ کھٹکھٹایا تو ہم نے پوچھا: کون ہے ؟ اس نے کہا: امیر۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اُٹھ کر کمرے میں چلے گئے جبکہ امام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے کھڑے ہو کر اس سے ملاقات کی۔ عبد الصمد بن علی نے کہا: اے شیخ! آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ابوعَمْرواَوزاعی۔ عبْدُالصَّمَدبن علی نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کوسلامت رکھے !آپ کے خطوط ہمارے پاس آتے تھے اور ہم آپ کی ضروریات پوری کر دیا کرتے تھے ، حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا کیا حال ہے ؟اس پر میں نے کہا: وہ کمرے میں چلے گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ان کے پاس جا کر کہا: یہ شخص فقط آپ کے لئے آیا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے غصہ کے ساتھ باہر آکر فرمایا: سَلَامٌ عَلَیْکُم! تم کیسے ہو؟ عبد الصمد نے ان سے کہا: میں آپ سے مروی مناسک حج لکھنے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس سے کہا: میں اس سے بڑھ کر نفع بخش بات پر تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ اس نے کہا: وہ کیا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ” اپنا عہدہ چھوڑ دو۔ ‘‘اس نے کہا: میں خلیفہ ابو جعفر کی نافرمانی کیسے کر سکتا ہوں؟آپ نے اس سے فرمایا: اگرتم اپنی مراد اور مقصود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بنا لو تو وہ ابو جعفر سے تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اُس کے جانے کے بعدحضرت سیِّدُنا امام اوزاعی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کہا: ابو عبداللہ! یہ لوگ تم سے اپنی عزت وعظمت منوائے بغیر راضی نہ ہوں گے ۔ آپ نے فرمایا: اے ابو عَمرو!ہم انہیں مار تو نہیں سکتے مگر کم از کم ایسی اذیت تو دے سکتے ہیں جو آپ نے دیکھی ۔ حضرت سیِّدُنا مُفَضَّل کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے میری طرف متوجہ ہوکرفرمایا: یہاں سے چلتے ہیں کیونکہ مجھے اِس امِیرِ شہر سے خوف ہے کہ وہ کسی ایسے کو بھیج دے جو ہماری گردنوں میں پھندے ڈال دے جبکہ ہمارے ان حضرت (سفیان ثوری) کو کوئی پرواہی نہیں۔
عہدہ چھوڑنا مشکل ترین کام:
(9517)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: میں نے کسی بھی شے کوچھوڑناعہدہ وسربراہی چھوڑنے سے زیادہ آسان دیکھا ہے ۔ تم دیکھو گے کہ کوئی شخص کھانا، پانی، مال اور کپڑے تو چھوڑسکتا ہے مگر جب اس سے عہدہ وسربراہی کے معاملے میں جھگڑا کیا جائے تو وہ اس کا دفاع کرے گا اور دشمنی پر اُتر آئے گا۔