Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
55 - 361
 وہ بھر جائے پھر تم اس میں کچھ اور ڈالنا چاہو تو تمہیں اس میں کوئی خالی جگہ نہ ملے ۔ 
(9512)…حضرت سیِّدُنامحمد بن یزید خَنِیْسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جب مسجدحرام میں لوگوں کو حدیث بیان کرکے فارغ ہوتے تواُن سے فرماتے : اب تم طبیب یعنی حضرت سیِّدُناوُہَیْب بن وَرْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جاؤ۔ 
کتابیں دفن کرنے کی وصیت: 
(9513)…حضرت سیِّدُنا اَصْمَعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے وصیت فرمائی کہ ان کی کتابوں کو دفن کر دیا جائے کیونکہ وہ اُن رِوایات پر نادِم تھے جوانہوں نے ضعیف راویوں سے لی تھیںاورارشاد فرمایا:  مجھے اس کام پر حدیث کی شدید خواہش نے ابھارا تھا ۔ 
(9514)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: رحمتِ الٰہی کی اُمیدرکھنے والافاسق اُس عبادت گزارسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے زیادہ قریب ہے جوانعاماتِ باری تعالیٰ کے حصول کاذریعہ صرف اپنے عمل کوسمجھتا ہے ۔ 
حکام سے بے خوفی اوربے اعتنائی: 
(9515)…حضرت سیِّدُنامحمدبن نعمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں:  حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مَکۂ مکرمہ میں بیمار ہو گئے ، حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیان کے ساتھ  تھے ، ان کے پاس امیر مکہ عبد الصمد بن علی آیا تو حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنا منہ دیوار کی طرف پھیر لیا، حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے امیر مکہ سے کہا: ابو عبداللہ گزشتہ رات جاگتے رہے ہیں شاید وہ سونا چاہتے ہیں ۔ توحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: میں سو نہیں  رہا، میں سونہیں رہا۔ یہ سن کر امیرِ مکہ اٹھ کر چلا گیا، حضرت سیِّدُناامام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کہا:  تم عنقریب قتل کر دئیے جاؤگے اور تمہارے ساتھ رہنا کسی کے لئے بھی روا نہیں۔ 
(9516)…حضرت سیِّدُنا مُفَضَّل بن مُہَلْہَل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان  ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ہمراہ حج کے لئے نکلا ، جب ہم مَکۂ مکرمہ پہنچے تو وہاں حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے پاس آئے اور حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری، حضرت سیِّدُناامام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَااور میں ایک گھر میں اکٹھے