Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
54 - 361
(9507)…عبْدُالغفاربن حسن کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے  ” کتاب العجائب “  سے کوئی بات پوچھی جاتی توآپ(اس کے مصنف)مقاتل بن سفیان کی طرفجانے کا اشارہ کر دیتے تھے ۔ 
(9508)…حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے :  حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جب کسی کو ململ کی ٹوپی پہنے دیکھتے تو اس سے بات نہیں کرتے تھے ۔ 
رونے کی انوکھی وجہ: 
(9509)…حضرت سیِّدُنامحمد بن یزیدخُنَیْسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا ہمارے ساتھ حضرت سعید بن سائب طائفی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی)بھی تھے ، دوران گفتگو وہ رونے لگے اور اتنا روئے کہ مجھے اُن پر ترس آنے لگا۔ میں نے پوچھا: سعید! کیوں روتے ہو حالانکہ تم نے مجھے جنتیوں کا ذکر کرتے سنا ہے ؟ وہ کہنے لگے :  سفیان!اگر آپ بھلائیوں کا ذکر کریں اور مجھے اُن سے روگرداں دیکھیں تو کیا مجھے اِس پر رونا نہیں چاہیے ؟ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  ایسے شخص کو تو رونا ہی چاہئے ۔ 
مخلص طالب علم کی قدر ومنزلت: 
(9510)…حضرت سیِّدُنامحمدبن یزیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کہا: اگر آپ اپنے علم کو پھیلائیں تو مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے ذریعے اپنے بعض بندوں کو نفع پہنچائے گااور آپ اس عمل پر اجر پائیں گے ۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  خدا کی قسم!اگر مجھے ایسے طالب علم کا پتا چلے جو اِس علم کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اجر و ثواب چاہتا ہو تو میں اپنا وہ علم اُس کے گھر جا کر اُسے دے آؤں گاجس سے مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے ذریعے اسے نفع پہنچائے گا۔ 
دل محبَّتِ دنیاسے بھر جائیں گے : 
(9511)…حضرت سیِّدُنا  سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے :  ” لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں لوگوں کے دل دنیا کی محبت سے بھر جائیں گے پھر اس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خوف داخل نہیں  ہو گا۔  “ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  اِسے یوں سمجھ لو کہ تم کسی تھیلے میں کچھ ڈالویہاں تک کہ