Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
53 - 361
  غصہ پی جایا کرو اور زیادہ نہ ہنسو کہ یہ دلوں کو مردہ کرتا ہے ۔  “ 
وقت کی قَدَر: 
(9501)…حماد بن عیسٰیجُہَنیکا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو مکہ میں دیکھا، آپ نے کوئی چیز کھائی پھر اپنا ہاتھ ریت میں ڈال کر رگڑلیا، میں نے کہا:  ابو عبداللہ!آپ اسے دھو ہی لیتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: زندگی کچھ ہی دنوں کی تو ہے (یعنی دھونے میں لگنے والا وقت بچا کر نیکیوں میں صرف کرنا چاہیے )۔ 
(9502)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  جب میں لوگوں کو کسی کے گرد جمع دیکھتا تھا تو اس پر رشک کرتا تھا اور جب میرے ساتھ یہ معاملہ ہوا تو میں یہ آرزو کرنے لگا کہ میں ان سے اس برابری پر چھوٹ جاؤں، نہ مجھے نفع ہو نہ ہی نقصان۔ 
(9503)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: میں کسی کی دنیا سے محبت کو اس کے دنیا داروں کو سلام کرنے سے جان لیتا ہوں۔ 
(9504)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن مہدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: لوگ کا گمان تھا کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نمازِ عصر میں تاخیر کرتے ہیں جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمارے ہاں ان مساجد کی تلاش میں رہتے تھے جہاں نماز جلد ہوتی اور نبیذ پلائی جاتی ہو اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بیماری کے لئے دوا تجویز کی اور پوچھا:  کیا ہم آپ کے لئے نبیذ لائیں؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  نہیں، بلکہ میرے لئے شہد اور پانی لاؤ۔ 
(9505)…حضرت سیِّدُناابواسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے : حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  حضرت مَجْمَع تَیْمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے مجھے پھٹا ہوا تہبند پہنے دیکھا توپاس بلایا اور چار درہم دیتے ہوئے کہا:  یہ لو اور اس سے نیا تہبند خرید لو۔ 
(9506)…حضرت سیِّدُناابوسہم حکم کلبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکابیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے پاس کھڑے ہو کرانہیں پکارا: اے  ابو عبداللہ۔ تو آپ نے اپنا سر میری طرف اٹھایا اور(سامنے موجود اوراق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )فرمایا:  یہ بستی والوں کے مسائل ہیں۔