اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ (پ۵، النسآء: ۵۸)
جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔
اورفرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ- (پ۵، النسآء: ۵۸) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہتمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے ۔
اور فرماتا ہے :
وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘- (پ۲، البقرة: ۱۹۷) ترجمۂ کنز الایمان: اور توشہ(سفر کا خرچ)ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے ۔
یہاں آیتِ مبارکہ میں تقوٰی (پرہیز کرنے )سے مرادلوگوں کے اموال دبانے سے باز رہنا ہے یعنی یوں نہ کرو کہ لوگوں کے مال دبا کرانہیں نیک اعمال میں خرچ کرو۔
اے میرے بھائی!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف رکھو، سچ بولو، نیت خالص رکھو، مختلف نیک اعمال بجالاؤ جن میں کھوٹ ہو نہ دھوکاکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں دیکھ رہا ہے اگر چہ تم اسے نہیں دیکھ رہے ، تم جہاں بھی رہو وہ تمہارے ساتھ ہے ، تمہارا کوئی معاملہ اس سے پوشیدہ نہیں ، تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دھوکا دینے کی کوشش نہ کرنا کہ وہ تمہیں سزا دے کیونکہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دھوکادینے کی کوشش کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے غافل کر کے مارتا ہے اور اس کا ایمان لے لیتا ہے اور اسے شعور بھی نہیں ہوتا۔ کسی مسلمان کے ساتھ بُری چال نہ چلنا کہ بُری چال خود اپنے اوپر ہی پڑتی ہے اور کسی مسلمان کے ساتھ زیادتی نہ کرناکیونکہ ارشادِ ربانی ہے :
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْۙ- (پ۱۱، یونس: ۲۳) ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگوتمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے ۔
کسی مسلمان کو فریب نہ دینا کیونکہ ہمیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث پہنچی ہے کہ ” جس نے کسی مسلمان کوفریب دیاوہ مسلمانوں سے الگ ہوگیا۔ (1) “ کسی مسلمان کودھوکا ہرگزنہ دیناکہ یہ عمل تمہارے دل کا نفاق ہے ۔ حسد اور غیبت ہر گز نہ کرو کہ تمہاری نیکیاں ضائع ہو جائیں گی، ایک فقیہ غیبت کی وجہ سے ایسے
________________________________
1 - مسند حارث، کتاب الصلاة، باب فی خطبة قد كذبها... الخ، ۱ / ۳۱۳، حدیث: ۲۰۵، مفھوما