Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
50 - 361
 تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  جب میں کسی شخص کو  رضائے الٰہی کے لئے بھائی بناؤں، پھر وہ کوئی بدعت ایجاد کرے اور میں اُس سے کنارہ کشی  نہ کروں تومیرا اسے بھائی بنانا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر نہ ہوگا۔ 
(9491)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جب تماللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر کسی سے محبت کروپھروہ اسلام میں کوئی بدعت ایجادکرے اوراِس پرتم اُسے بُرانہ جانوتوتمہاری اس سے محبتاللہ عَزَّ   وَجَلَّ کی خاطر نہیں ہے ۔ 
زندگی تین چیزوں کا مجموعہ ہے : 
)9492(…حضرت سیِّدُنا عبدالواحدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  زندگی اختیار، آزمائش اور سزا کا مجموعہ ہے ۔ میں نے اس بات کی تعریف کی بلکہ ان کی تائید کرتے ہوئے کہا:  اختیار کے لائق یہ ہے کہ  اس سے راضی رہو، آزمائش کے لائق یہ ہے کہ اس پر صبر کرو اور سزا کے لائق یہ ہے کہ اس سے بچنے کا سامان کرو۔ 
دنیاوآخرت کی خرید وفروخت: 
(9493)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا علی بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: جان لو کہ سنت کی دو قسمیں ہیں(۱)…وہ سنت جس  پر عمل ہدایت اوراُسے چھوڑنا گمراہی ہے اور (۲)…وہ سنت جس پرعمل ہدایت اوراس کا ترک گمراہی نہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نفل قبول نہیں کرتا حتّٰی کہ فرض بھی ادا کیا جائے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ایک حق رات میں ہے جسے وہ دن میں کرنے پرقبول نہیں فرماتا اور ایک حق دن میں ہے جسے وہ رات میں قبول نہیں فرماتا۔ وہ قیامت کے دن بندے سے فرائض کا حساب لے گا، اگر فرائض پورے ہوں گے تو اُس کے فرائض ونوافل دونوں قبول کر لئے جائیں گے اور اگر بندے نے فرائض ادا کرنے کے بجائے ضائع کردیئے تو نوافل کو فرائض سے ملادیا جائے گا، اب اگراللہ عَزَّ  وَجَلَّ  چاہے گا تومعاف فرمادے گااور چاہے گا تو عذاب دے گا۔ سب سے زیادہ اہم فرض حرام اورلوگوں کا مال دبانے سے باز رہنا ہے ، بے شکاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے : 
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ 
ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہتمہیں حکم دیتاہے کہ امانتیں