(9480)…اِصْطَخْرقلعے کے رہائشی حضرت سیِّدُناغِیاث بن واقدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: جس چیزکاتمہیں علم نہ ہواسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپردکردو، مرجی نہ ہوجانا اور یاد رکھو کہ تمہیں جو کچھ پہنچا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہے اور قدری نہ ہوجانا اور فرمایا: مرجیہ نے (اعمال کو غیر ضروری قرار دے کر) اس دین کو سابری کپڑے سے بھی زیادہ باریک (انتہائی کمزور) کر دیا ہے ۔
(9481)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: نمازاورزکوٰۃ ایمان سے ہیں اور ایمان بڑھتا ہے (1)لوگ ہمارے نزدیک مومن مسلمان ہیں (خاتمے کا حال تو اللہ عَزَّ وَجَلَّہی جانے ) لیکن ایمان ایک جیسا نہیں ہوتا، حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام تم سے افضل ایمان والے ہیں۔
(9482)…حضرت سیِّدُنا ابو داؤد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کہا: کیا آپ قدری ہیں؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر میں قدری ہوں تو بہت بُرا شخص ہوں اور اگر نہیں ہوں تو میں نے تمہیں معاف کیا۔ جب ثور بن یزید(قدری)مکہ آیاتو حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کا ہاتھ پکڑ کر دُکان میں لے گئے اور اس سے گفتگو کرنے لگے ۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اُون کا لباس پہنے ایک شخص سے کہا: تمہارا یہ لباس بدعت ہے ۔ تو اس نے کہا: تمہارا ثور بن یزید کا ہاتھ پکڑ کر دُکان میں لے جانابھی بدعت ہے ۔
(9483)…حضرت سیِّدُنا عبد الواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا ایوب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میرے ذریعے حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو یہ کہلوایا کہ ” عَمْروبن عُبَیْدکی صحبت اختیارنہ کرو۔ “ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے یہ کہاتوانہوں نے فرمایا: ” میں اس کے
________________________________
1 - اس مقام کی تفصیل ووضاحت کے لئے مکتبۃ المدینہکی مطبوعہاحیاء العلوم مترجم، جلد1، صفحہ384تا394کامطالعہ فرمالیجئے ۔