اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی محبت معزز لوگوں کے دلوں میں ہی جمع ہوتی ہے ۔
اَئمہ پانچ ہیں:
(9474)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اَئمہ پانچ ہیں: (۱)…حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق (۲)…حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم (۳)…حضرت سیِّدُنا عثمان غنی (۴)…حضرت سیِّدُنا مولیٰ علی اور (۵)…حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔
(9475)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے نبیذ کی سبیل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ نشہ دینے والی ہو تو نہ پیو۔
سنت کی موافقت:
(9476)…حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے فرمایا: قول عمل کے ساتھ ہی درست ہے اور قول وعمل دونوں نیت کے ساتھ ہی درست ہیں اورقول، عمل اورنیت سنت کی موافقت کے ساتھ ہی درست ہوتے ہیں۔
(9477)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: عمل اور نیت کے بغیر قول مقبول نہیں۔
(9478)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: ایمان لباس کی طرح ہے اگر چاہو تو پہن لواور چاہو تو اُتار دو۔
(9479)…حضرت سیِّدُنایوسف بن اَسباطرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اونچی آواز میں فرمایا: جو ” اَنَا مُؤْمِنٌ اِنْ شَاءَ اللهُیعنی اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو میں مومن ہوں “ کہنے کو ناپسند جانے وہ میرے نزدیک مرجی ہے ۔ (1)
________________________________
1 - عقائد کے باب میں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے ۔ مرجیہ ” انا مؤمن ان شاءالله “ کہنے کو ناپسند جانتے ہیں کیونکہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: مرجیہ خودکو عنداللہمومن کہتے ہیں۔ (شرح السنة، ۱ / ۷۹، تحت الحدیث: ۱۹) ان کے رد میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ فرمایا ہے اور امام ابومعین نسفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ” بحر الکلام “ میں فرمایا: اہلسنت وجماعت کہتے ہیں کہ جب بندہ ایمان لے آیاتواسے شک کئے بغیر ” اَنَامُؤْمِنٌ حَقًایعنی میں یقیناًمومن ہوں۔ “ کہنا چاہئے ۔ (بحر الكلام، ص۱۵۳)اورامام اعظم ” اَنَامُؤْمِنٌ اِنْ شَآءَ اللهُیعنی اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو میں مومن ہوں “ کہنے کو اس لئے نامناسب خیال کرتے ہیں کہ اس سے ایمان پر شک کا وہم ہوتا ہے جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ381 صفحات پر مشتمل کتاب ” شرح عقائد نسفیہ “ کے صفحہ289پر ہے : ” اَنَا مُؤْمِنٌ اِنْ شَآءَ اللهُ یعنی اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو میں مومن ہوں “ کہنا مناسب نہیں کیونکہ اگر یہ شک کی وجہ سے کہا تو قطعی طور پر کفر ہے لیکن اگر ادب اور معاملات کو مشیت خداوندی کے سپرد کرنے یا موجودہ و زمانَۂ حال والی حالت میں شک کیے بغیر عاقبت وانجام کے بارے میں شک کرنے یا ذِکْرُاللہ سے برکت حاصل کرنے یا تزکیہ نفس سے براءت کا اظہار اور اپنے حال پر حیرانی کی وجہ سے کہا تو نہ کہنا بہتر ہے اسی لئے نامناسب کہا ہے ناجائز نہ کہا کیونکہ اگر یہ شک کی وجہ سے نہ کہا ہو تو عدمِ جواز کی کوئی صورت نہیں اور یہ ناجائز کیسے ہو سکتا ہے جبکہ بزرگان دین حتّٰی کہ صحابَۂ کرام و تابعین نے بھی یہ الفاظ کہے ہیں۔