Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
46 - 361
نہ کہناحتّٰی کہ لوگ اس پر متفق ہوجائیں۔ 
تمام صحابہ سے یکساں محبت کرو: 
(9471)…حضرت سیِّدُنا رواد بن جراح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا عطا بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: تم آج حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کیسی محبت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا:  شدید۔ پوچھا:  حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے کیسی محبت رکھتے ہو؟انہوں نے کہا:  شدید۔ پوچھا:  حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے لئے کیسی محبت رکھتے ہو؟انہوں نے اس کے جواب میں کھنچ کر شدت کے ساتھ کہا:  شدید۔ اس پر حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  اے عطا!یہ شدت تمہیں داغ دار کرنا چاہتی ہے ۔ 
(9472)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  جو نبیذ نہ پیے (1)، بکری کے بچے کا گوشت نہ کھائے اور موزوں پر مسح نہ کرے تو اپنے دین کی خاطر اس شخص کو بُرا جانو۔ 
(9473)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا علی و حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ 



________________________________
1 -   نبیذ یعنی کھجور یا منقے کو پانی میں بھگویا جائے وہ پانی نشہ پیدا ہونے سے پہلے پیا جائے یہ جائز ہے احادیث سے اس کا جواز ثابت ہے ۔ (بہارشریعت، ۳ / ۶۷۳)اور فتاوٰی قاضی خان میں ہے : نبیذاس  مشروب کو کہتے ہیں جس میں کھجوریں ڈالی جائیں تو پانی میٹھا ہوجائے مگر(اعضاکو)سست کرنے والااورنشہ آورنہ ہو، نشہ آورہوتواس کاپیناحرام ہے ۔ (فتاوٰی خانية، ۱ / ۹) حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے متعلق جو نبیذپینے کی روایات ہیں وہ اس پر محمول ہیں کہ آپ پہلے نبیذپیا کرتے تھے مگربعد میں پینا چھوڑی دی یایہ مراد ہے کہ آپ ایسی نبیذپیا کرتے تھے جو نشہ آور نہ ہو جیساکہ درج ذیل روایات سے واضح ہے : حضرت سیِّدُنا امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مجھ سے اس شرط کے ساتھ جدا ہوئے کہ وہ اب  نبیذ نہیں پئیں گے ۔ (مسندامام احمد، ۳ /  ۶۰۷، حدیث: ۱۰۷۴۹)ایک روایت یہ ہے کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا عمار بن یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آکر دوا اور نبیذ پیا کرتے تھے پس جب آپ آخری مرتبہ آئے اور نبیذ پیش کی گئی تو آپ نے اسے پینے سے انکار کر دیا۔ (مسند ابن جعد، ۱ /  ۲۸۱، حدیث:  ۱۸۷۸)
	اور دوسری صورت کے متعلق بھی آپ سے ایک روایت منقول ہے ، چنانچہ، حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے نبیذ کی سبیل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اگر وہ نشہ دینے والی ہو تو نہ پیو۔ (حلية الاولیاء، ۷ / ۳۴، رقم: ۹۴۷۵)