Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
45 - 361
پر فضیلت دینے لگے ۔ (1)
حق مولا علیکَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ساتھ ہے :  
(9468)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جس سے بھی جنگ کی آپ اُس سے زیادہ حق پر تھے ۔ 
(9469)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: جس نے یہ کہاکہ ” حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمحضرت سیِّدُناابوبکراورحضرت سیِّدُناعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے مقابلے میں خلافت کے زیادہ حق دار تھے  “ تواس نے حضرت سیِّدُناابوبکر ، حضرت سیِّدُناعمر، حضرت سیِّدُناعلی اورمہاجرین وانصارصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو غَلَط قراردیااورمجھے نہیں معلوم کہ اس کاعمل آسمان کی طرف بلندہوتابھی ہے یا نہیں۔ 
(9470)…حضرت سیِّدُناحفص بن غیاث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا:  ابو عبداللہ! لوگ مہدی کے خلاف بہت باتیں کر رہے ہیں، آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اگر وہ تمہارے دروازے سے گزرے تو تم  اس سے کچھ 



________________________________
1 -    ” شرح عقائدنسفیہ “ میں ہے کہ(حضرت سیِّدُنا ابو بکر و عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے بعد)حضرت سیِّدُناعثمان ذُوالنُّورَینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے افضل ہیں اس لئے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی  حضرت سیِّدَتُنا رقیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح آپ کے ساتھ کیا تھا، جب اُن کاوصال ہواتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی دوسری شہزادی حضرت سیِّدَتُناام کلثومرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو آپ کے  نکاح میں دے دیا، پھر جب ان کا بھی وصال ہوگیا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اگر میرے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی تم سے کر دیتا۔ حضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعداللہعَزَّ   وَجَلَّ کے بندوں اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مخلص صحابہ میں سب سے افضل حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہیں اور ہم نے اپنے اسلاف کواسی عقیدے پرپایا اورظاہرہے کہ اگراس پر کوئی دلیل نہ ہوتی تووہ یہ حکم ہرگزنہ لگاتے ۔ (شرح عقائد نسفیہ، ص۳۱۹)
	جہاں تک حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکامعاملہ ہے توان کا رجوع ثابت ہے جیسا کہ امام ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاپنی کتاب  ” اَلْمُنْتَقٰی مِنْ مِنْہَاجِ الْاِعْتِدَال “  میں رقم طراز ہیں:  کوفی علما کا ایک گروہ حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر فضیلت دیتا تھا، حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بھی ایک قول یہی تھا ۔ مگر منقول ہے کہ انہوں سے اس قول سے رجوع کر لیا ، جب حضرت سیِّدُنا ابو ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے آپ سے ملاقات کی اورفرمایا:  ” جس نے حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوحضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپرفضیلت دی اس نے مہاجرین و انصار صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو عیب لگایا۔  “ (المنتقی من منھاج الاعتدال، ص۸۱)