لوگوں کی انہی باتوں میں رشک کرو جن کے سبب مُردوں پر رشک کرتے ہو، لوگوں سے ان کے اعمال کے مطابق محبت کرو، وہ فرمانبرداری کریں تو اُن کے ساتھ نرمی وعاجزی کرواور گناہ کریں تو اُن پرسختی کرو۔
(9463)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: تلاوت قرآن میں حسن و خوبی اس وقت آتی ہے جب اس میں زہد بھی شامل ہو جائے ۔
(9464)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہو تو یہ فضل ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے بُرا ہو تو یہ ظلم ہے ۔
(9465)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب بندہ چھپ کر کوئی عمل کرے تو شیطان اسے بہکاتا رہتا ہے حتّٰی کہ غالب آجاتا ہے اور اس کاوہ عمل علانیہ کیا جانے والا لکھ دیا جاتا ہے پھر شیطان اسے بہکاتا رہتا ہے تو بندہ آرزو کرتا ہے کہ اس عمل پر اس کی تعریف کی جائے تو اب وہ عمل علانیہ سے مٹا کر ریا میں لکھ دیا جاتا ہے ۔
(9466)…حضرت سیِّدُنامحمد بن عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَنَّاناپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنازائدہ بن قُدَامہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے پاس آئے توآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہانہیں دیکھتے ہی ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے ، کسی نے آپ سے پوچھا: ان کا کیا معاملہ ہے ؟تو آپ نے فرمایا: قاضی شریک(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)مال تقسیم کرنے پر مامور ہوئے تو انہوں نے اسے وکیل بنا دیا۔ پھر حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ان سے فرمایا: شریک کو اپنی میل وگندگی کے لئے تیرے سوا کوئی اور نہیں ملا؟
صحابہ کی افضلیت کے بارے میں موقف:
(9467)…حضرت سیِّدُنازیدبن حُبَابعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں: پہلے اپنے کوفی اصحاب کی طرح حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی رائے بھی یہی تھی کہ وہ حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو حضرت سیِّدُناابوبکراورحضرت سیِّدُناعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے افضل کہتے تھے پھرجب آپ بصرہ گئے تواس عقیدے سے رجوع کرکے حضرت سیِّدُناابوبکروعُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوحضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمپر فضیلت دینے لگے لیکن حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوحضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ