کے اقرارکے سبب مومن ہیں(حقیقَتِ حالاللہ عَزَّ وَجَلَّہی جانتا ہے )۔ جبکہ وہ کہتے ہیں: ہمعنداللہ مومن ہیں۔ (1)
(9457)…حضرت سیِّدُناسفیانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے فرمایا: قرآن مجیدسے دورفرقۂ مرجیہ سے زیادہ کوئی نہیں۔
(9458)…مُؤَمَّل بن اسماعیل کا بیان ہے : عبْدُالعزیز بن ابوروّادکاانتقال ہوا میں ان کے جنازے میں موجود تھا، جب جنازے کو (حرم کے ایک دروازے ) باب صفا کے پاس رکھا، لوگوں نے صفیں بنا لیں، اتنے میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیتشریف لائے تولوگوں نے کہنا شروع کر دیا: سفیان ثَوری آگئے ، سفیان ثَوری آگئے ۔ حتّٰی کہ آپ صفوں کو چیرتے ہوئے جانے لگے اور لوگ آپ کو دیکھتے رہے آپ جنازہ چھوڑ کر آگے نکل گئے اور نماز جنازہ نہ پڑھی کیونکہ عبد العزیز بن ابو روّاد پر مُرجی ہونے کا الزام تھا۔
(9459)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: سامان اٹھانے والوں، گھر میں رہنے والی عورتوں اور مدرسے میں پڑھنے والے بچوں والا عقیدہ رکھنا تم پر لازم ہے یعنی اقرار اور عمل کا مجموعہ ایمان ہے ۔
قرآن کو مخلوق ماننا کفر ہے :
(9460)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: ” جس نے قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) “ (یعنی قرآنِ کریم)کو مخلوق سمجھا اُس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کفر کیا۔
تعریف کے باوجود بُراانسان:
(9461)…یحییٰ بن مُتَوکِّل کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جس کے تمام پڑوسی اس کی تعریف کرتے ہوں وہ بُرا انسان ہے ۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کیسے ؟آپ نے فرمایا: وہ انہیں گناہوں میں مبتلا دیکھ کراُن پر غیرت نہیں کھاتااور ان سے مسکرا کر ملتا ہے ۔
تلاوتِ قرآن اور زہد:
(9462)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: قراءت زہدکے ساتھ ہی درست ہے ، زندہ
________________________________
1 - اس مقام کی تفصیل ووضاحت کے لئے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ احیاء العلوم مترجم، جلد1، صفحہ 384تا394کا مطالعہ فرمالیجئے ۔