میں نے کہا: ایسے نہ کہیئے ۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے نہ سنا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے (نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا قول بیان) فرمایا:
وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ(۱۱۲) اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ(۱۱۳) وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۱۱۴) (پ۱۹، الشعرآء: ۱۱۲ تا ۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان: مجھے کیا خبر اُن کے کام کیا ہیں اُن کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے اگر تمہیں حس(شعور)ہواورمیں مسلمانوں کو دُور کرنے والا نہیں۔
میں نے کہا: میری اور آپ کی مثال طبیب اوردواسازکی سی ہے ، میں طبیب ہوں جبکہ آپ دواساز ہیں ۔
فرقہ مرجیہ اور سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ الرَّحْمَہ:
(9456)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: فرقَۂ مرجیہ تین باتوں میں ہمارے مخالف ہیں: ہم کہتے ہیں کہ (۱)…ایمان قول و عمل کا مجموعہ ہے ۔ جبکہ وہ کہتے ہیں: ایمان قول کا نام ہے عمل کا نہیں۔ (1) (۲)…ہم کہتے ہیں کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ۔ (2)جبکہ وہ کہتے ہیں: ایمان گھٹتا بڑھتا نہیں ہے ۔ (۳)…ہم کہتے ہیں کہ ہم کلمَۂ طیبہ
________________________________
1 - اس پر حاشیہ روایت نمبر: 9442 کے تحت گزر چکا ہے ۔
2 - فقیہ اعظم ہند شارح بخاری حضرت سیِّدُنا شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیتحریر فرماتے ہیں: ایمان کے سلسلے میں کثیراختلافات ہیں۔ ان میں بنیادی اختلاف دو ہیں: اعمال واقوال ایمان کے جزہیں یا نہیں؟ایمان گھٹتا بڑھتا ہے یا نہیں؟امام مالک، امام شافعی، امام احمدوجُمْہُورمُحَدِّثِیْن اعمال واقوال کوایمان کاجزمانتے ہیں اورامام اعظم اور جمہور متکلمین ومحققین محدثین اعمال واقوال کو ایمان کاجز نہیں مانتے ۔ اسی کی فرع ایمان کے گھٹنے بڑھنے کا بھی مسئلہ ہے ۔ فریق اول کے نزدیک اعمال واقوال کی زیادتی سے ایمان بڑھتا ہے اور کمی سے گھٹتا ہے ۔ اور فریق ثانی کے نزدیک ایمان نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے ۔ صحیح اور راجح یہی ہے کہ اعمال واقوال ایمان کے جز نہیں اور ایمان نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے ۔ (نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری، ۱ / ۲۹۱)
خیال رہے کہ دین یاایمان کی مقدارمیں زیادتی کمی نہیں ہوتی یعنی کوئی آدھایاچوتھائی مسلمان نہیں ہوتاسارے پورے مؤمن ہوتے ہیں ہاں کیفیت میں فرق ہوتاہے بعض مومن بعض کامل مومن بعض اکمل یعنی کامل ترمومن۔ (مراٰۃ المناجیح، ۸ / ۳۶۳)