تین چیزوں سے دور رہو:
(9450)…حضرت سیِّدُنا احمد بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کسی نے نصیحت کرنے کو کہا تو آپ نے فرمایا: خواہشات، جھگڑے اور حاکم سے دور رہنا۔
(9451)…حضرت سیِّدُنامبارک بن سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْداپنے بھائی حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: اے ابو عبداللہ! لوگ ہمیشہ اسلام کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اسلام کیا ہے ؟ آپ نے اس سے فرمایا: جب تم صبح بازار جاؤ تو کسی معمولی مال بردار کو دیکھنا اور اس سے اس بارے میں پوچھنا وہ تمہیں اس بارے میں جو بتائے وہی اسلام ہے ۔
بتوں کا پجاری اور سعادت مندی:
(9452)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی بندے کو پسند نہ کرے تو اُس سے ناراض ہوجاتا ہے اور کسی کو پسندکرے تو اُس سے راضی ہوجاتا ہے اور ایک شخص بتوں کی پوجا کرتا ہے حالانکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سعادت مند ہوتا ہے (یعنی وہ موت سے پہلے ایمان لے آتا ہے )۔
(9453)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جب ہم کوئی سختی والی بات سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں اورجب نرمی والی بات سنتے ہیں تواہْلِ قبلہ کے لئے اس کی امیدکرتے ہیں، مُردوں پرکوئی حکم لگاتے ہیں نہ زندوں کا محاسبہ کرتے ہیں اورہمیں جس بات کا علم نہیں ہوتا اسے اُس کے جاننے والے علماکے حوالے کردیتے ہیں اوران کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے کو کم تر جانتے ہیں۔
(9454)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: ہر گمراہی مُزیَّن ہوتی ہے اپنا عقیدہ اس پر ظاہر نہ کرنا جو اسے ناپسند کرتا ہے ۔
(9455)…حضرت سیِّدُناشہاب بن خراش حوشبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا: کیا آپ مومن ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اِنْ شَاءَ اللہ۔ (1)
________________________________
1 - دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ692صفحات پرمشتمل کتاب’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ578‘‘پرشیخ طریقت، امیْرِاہلسنت، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہلکھتے ہیں کہ فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں: جس نے اپنے ایمان میں شک کیااورکہا: ’’میں مومن ہوں اِنْ شَآءَاللہ‘‘اگراپنے ایمان میں شک کی وجہ سے اس طرح کہاتوکفرہے اوراگراس وجہ سے سے کہاکہ معلوم نہیں میراخاتمہ ایمان پرہوگایاکفرپرتوکفرنہیں۔ (فتاوی ھندیة، کتاب السیر، باب الباب التاسع فی احکام المرتدین، ۲ / ۲۵۷)
(حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا)اس کلمہ(اِنْ شَاءَاللہ)سے مقصودہرحال میں یادِالٰہی اورہرمعاملہ مشیت خداوندی کے سپردکرناہے جیسے ربّ کریمعَزَّ وَجَلَّنے پیارے نبی حضرت سیِّدُنامحمدمصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوتعلیم فرمائی: وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ(۲۳) اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ٘- (پ۱۵، الکھف: ۲۳)ترجمۂ کنزالایمان: اورہرگزکسی بات کونہ کہناکہ میں کل یہ کردوں گا مگر یہ کہ اللہ چاہے ۔ (احیاء العلوم، ۱ / ۱۶۸ )