Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
39 - 361
وعقل  میں کمزورشخص ہو۔ 
(9441)…حضرت سیِّدُنا عبد الوہاب حَلَبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے بیتُ اللہ کے طواف کے دوران حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے اس شخص کے متعلق سوال کیاجوحضرت سیِّدُنا ابوبکروعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے محبت توکرتاہے لیکن وہ حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے جیسی محبت کرتا ہے ویسی ان دونوں سے نہیں کرتاتوآپ نے ارشاد فرمایا:  ایساشخص بیمار ہے اسے دوا کی حاجت ہے ۔ 
(9442)…کثیر حج کرنے والے بزرگ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن مُغِیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے پوچھا: کیامیں اس کے پیچھے نمازپڑھ سکتاہوں جس کاعقیدہ ہوکہ ایمان فقط اِقْرَارٌبِاللِّسان کانام ہے عمل کانہیں؟آپ نے فرمایا:  نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی عزت ہے ۔ (1)
(9443)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: محبَّتِ علی میں حدسے تجاوُزکرنے والوں نے ہمیں حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے فضائل بیان کرنے سے روک دیا ہے ۔ 
صحابہ کو عیب لگانے والا : 
(9444)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  جس نے حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو حضرت سیِّدُنا ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاپر فضیلت دی اس نے مہاجرین و انصار صحابَۂ کرام کو عیب لگایا اور مجھے اندیشہ ہے کہ اس وجہ سے اس کا کوئی عمل مقبول نہ ہو۔ 



________________________________
1 -   آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکایہ فرمان فِرقَۂ مُرْجِیَہ کے بارے میں ہے ، شیخ عبْدُالحق مُحَدِّثِ دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے کلام کا خلاصہ ہے کہ فرقہ مُرْجِئَہ والے عمل کو مرتبے کے اعتبار سے نیت اور عقیدے سے مؤخَّر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیت اور عقیدہ کافی ہے اگرچہ عمل نہ ہو نیزوہ عمل کو شرط قرار دیئے بغیر لوگوں کو اجر و ثواب کی امید دلاتے ہیں جبکہ ان کے برعکس اہلسنت وجماعت عمل کواس لحاظ سے مؤخَّر قرار دیتے ہیں کہ عمل کوحقیقَتِ ایمان میں داخل نہیں مانتے اور کبیرہ گناہوں کے مُرتکِب کے لئے عمل کے بغیررحمت اورمغفرت کی امیدرکھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ بندۂ مومن(گناہِ کبیرہ کامُرتکِب ہونے کے باوجود)ایمان سے خارج نہیں ہوتااورکبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کرنے والے ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے ، اللہتعالیٰ جسے چاہے گابخش دے گا۔ (ماخوذازتحصیل التعرف فی معرفۃ الفقہ والتصوف (مترجم بنام: تعارف فقہ وتصوف)، ص۲۷۲)
	حضرت سیِّدُناعباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہرسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: میری امت کے دوگروہ ہیں جن کااسلام میں کوئی حصہ نہیں مُرجِیَہ اورقَدرِیَّہ۔ (ترمذی، کتاب القدر، باب ماجاء فی القدریة، ۴ /  ۵۹، حدیث: ۲۱۵۶)