(9436)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیارشادفرماتے ہیں: جب کسی مرے ہوئے شخص کا تذکرہ ہوتو(اُس کے بارے میں)عام لوگوں کی باتوں کو اہمیت نہ دو بلکہ علم وعقل والے لوگوں کی باتوں کو اہمیت دو۔
بد مذہبی کے بہترین معالج:
(9437)…حضرت سیِّدُناعَمْرو بن حسانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (بدعقیدگی کے )بڑے اچھے معالج تھے ، جب بصرہ جاتے توحضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے فضائل بیان کرتے اورجب کوفہ جاتے توحضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فضائل بیان کرتے ۔
(9438)…حضرت سیِّدُناعطابن مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے مجھ سے فرمایا: جب تم ” شام “ میں ہوتوحضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے مناقب بیان کیاکرواورجب کوفہ میں ہوتوحضرت سیِّدُناابو بکراورحضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُمَاکے مناقب بیان کیا کرو۔
بغضِ صحابہ سے پاک سینہ:
(9439)…حضرت سیِّدُنا شعیب بن حَرْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عاصم بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے سامنے لوگوں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکاذکرکیااوران کی خوبیاں بیان کرنے لگے ، حتّٰی کہ انہوں نے 15خوبیاں شمار کیں تو حضرت سیِّدُنا عاصم بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تم بیان کر چکے ؟ اب سنو! میں ان کی ایک ایسی فضیلت کوجانتا ہوں جو ان تمام خوبیوں سے افضل ہے اور وہ حضراتِ صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے لئے ان کے سینے کا بغض سے پاک ہونا ہے ۔
دین وعقل میں کمزور شخص:
(9440)…حضرت سیِّدُنا حمزہ ثَقَفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے کہا: میں حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوحضرت سیِّدُناابوبکروعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے افضل نہیں سمجھتالیکن جومحبت میں حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے اپنے دل میں پاتا ہوں وہ ان دو حضرات کے لئے نہیں پاتا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: تم دین