Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
37 - 361
 رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہوہ پیسے ایک شخص کو دے دیتے تھے تاکہ وہ ہم پر خرچ کرے اور جب ہم اپنا دسترخوان لگاتے تو جس کی جو طلب ہوتی آپ اُسے وہ عطا فرماتے حتّٰی کہ کچھ نہ بچتا تھا، پس  ہم میں سے بعض افراد جب انہیں ایسا کرتے دیکھتے تو اپنی روٹی اٹھاتے اور ایک طرف جاکر کھانے لگتے ۔ 
(9429)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: ہماری رائے میں انسان کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی غار میں رہے ۔ 
خفیہ تدبیر:  
(9430)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: لوگ ہمارے نزدیک مومن مسلمان ہوتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں کیا ہیں؟
(9431)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: لوگ نکاح، طلاق اوردیگراحکام کے معاملے میں ہمارے نزدیک مومن ہیں لیکن عنداللہ وہ کیا ہیں یہ ہم نہیں جانتے ، ہم تو گناہ گار لوگ ہیں۔ 
بدمذہبی سے نفرت: 
(9432)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  کسی نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا: ایک شخص تقدیر کا منکر ہے ، کیا میں اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں؟تو آپ رَحْمَۃُ  اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اسے امام نہ بناؤ۔ اس نے کہا:  گاؤں میں بس وہی امام ہے اس کے سوا اور کوئی امام نہیں ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے با آوازِ بلندفرمایا:  اسے امام نہیں بناؤ ، نہیں بناؤ ۔ 
(9433)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی (کیونکہ بدعتی اسے اچھا سمجھتا ہے )۔ 
(9434)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  ابلیس کوگناہ سے زیادہ بدعت پسند ہے کیونکہ گناہ سے توبہ کر لی جاتی ہے جبکہ بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی۔ 
(9435)…حضرت سیِّدُناسفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  جس نے کسی بدمذہب کی بات توجہ سے سُنی وہ اللہتعالیٰ کی امان سے نکل گیا۔