جانتے کہ تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّاس بارے میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا؟ اور تم اس سے بھی بے خبر ہوکہ آئندہ زندگی میں تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے ؟ بے شک حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُاللہعَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی جان پر خوف کرتے ہوئے اپنے رب تعالیٰ سے یہ دعا کی:
وَ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ(۳۵) (پ۱۳، ابراھیم: ۳۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا۔
حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ عرض کی:
تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ(۱۰۱) (پ۱۳، یوسف: ۱۰۱) ترجمۂ کنز الایمان: مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قُربِ خاص کے لائق ہیں۔
حضرت سیِّدُناموسٰی کَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَام نے یوں عرض کی:
رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ(۱۷) (پ۲۰، القصص: ۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اے میرے رب جیساتونے مجھ پر احسان کیا تو اب ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔
اور حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے یوں عرض کی:
مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَاؕ (پ۹، الاعراف: ۸۹)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو ہمارا رب ہے ۔
یہ نُفُوسِ قُدْسِیہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام ہیں جو اپنی جانوں پر خوفزدہ رہے اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
بیتُ المقدس اور عَسْقَلان کا سفر:
(9428)…حضرت سیِّدُنامحمدبن یوسف فِریابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیْتُ المقدس آئے اور تین دن قیام فرمایا، بابِ رحمت اور حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی محراب کے پاس نماز ادا کی اور عسقلان میں 40 روز قیام فرمایا، عسقلان سے مدینہ منورہ جاتے وقت میں بھی ان کے ہمراہ تھا، آپ راستے میں اپنے خرچے کے پیسے نکالتے تو ان کے ساتھ ہم بھی پیسے نکالتے پھر آپ