Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
35 - 361
کو بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ، توبہ کرنے والوں کے لئے رحیم ہے ، حلم والا محبت والا  ہے اوراس کی ڈھیل  دیکھ کر گناہوں پر دلیرنہ  ہونا کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَامکے لئے بھی کسی گناہ، حرام کھانے اور ظلم سے راضی نہیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  
یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱) (پ۱۸، المؤمنون: ۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔
	 پھر ایمان والوں سے ارشاد فرمایا: 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ (پ۳، البقرة: ۲۶۷)	ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو۔
	پھراس بات کا مطلق حکم دیا: 
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) (پ۲، البقرة: ۱۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگوکھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔
	اے میرے بھائی!غورکروکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّاپنے انبیاعَلَیْہِمُ السَّلَام، مؤمنین اورمشرکین کسی کے لئے بھی حرام کھانے پر راضی نہیں، گناہ صغیرہ کوہلکانہ جاننا، بلکہ تم یہ دیکھ لوکہ تم نافرمانی کس کی کررہے ہو؟اس ربِّ عظیم کی نافرمانی کر رہے ہو جو صغیرہ گناہ پر پکڑ فرمالیتا ہے اور کبیرہ سے درگزرفرمادیتا ہے ۔ سب سے بڑا عقلمند وہ ہے جوکسی گناہ کے سبب جنت میں داخل ہوجائے اس طرح کہ گناہ سرزد ہونے کے بعد اس نے ہمیشہ اسے یاد رکھا پھر ہمیشہ اس گناہ کی وجہ سے اپنی جان پر خوف محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ دنیا سے چلا گیا اور جنت میں داخل ہو گیا اور سب سے بڑا احمق وہ ہے جو کسی نیکی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو جائے یوں کہ نیکی کرنے کے بعد اس نے اسے ہمیشہ یاد رکھا اورہمیشہ اس کا چرچا کرتا رہااور اس کے ثواب کی امید رکھی مگراپنے گناہوں کو ہلکا جانا  حتّٰی کہ دنیا سے چلا گیا اور جہنم میں داخل ہوگیا۔ 
	اے میرے بھائی!عقل مندی اختیار کرو اورتم اپنی لغزشوں اورسابقہ کوتاہیوں سے خوفزد ہ رہو، تم نہیں