اور لگام لے لی۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے فرمایا: چار دانق کس کے حساب میں ہیں؟
مال دار بھی فقیر:
(11169)…مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمدمشق میں ایک بلند جگہ بیٹھے تھے کہ ایک خچر سوار نے آپ کے پاس آ کر کہا: ابو اسحاق!مجھے آپ سے ایک کام ہے ، میں چاہتا ہوں آپ وہ کام کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ہو سکا تو کر دوں گا ورنہ اپنا عذر بیان کر دوں گا۔ اس نے کہا: ملْکِ شام میں سردی شدید ہے میں آپ کے یہ دوکپڑے نئے کپڑوں سے بدلنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم مالدار ہو تو مجھے تمہاری بات قبول ہے اور اگر تم فقیر ہو تو مجھے قبول نہیں۔ اس شخص نے کہا: بخدا! میں بڑا مالدار اور بہت خرچ کرنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو میں صبح وشام تمہیں خچر پرسوار کیوں دیکھتا ہوں؟ اس نے کہا: مجھے کسی سے لینا کسی کو دینا ہوتا ہے اور کسی سے حساب برابر کرنا ہوتا ہے ۔ آپ نے اس سے فرمایا: اُٹھ جاؤ! تم فقیر ہو تم اپنی محنت وکوشش سے زیادہ کے طلبگار ہو۔
دین کے عوض انجیر نہیں خریدتے :
(11170)…حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن حبیب زَیَّات رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے عبْدُاللہ نامی شخص نے بیان کیا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ایک غلام کے پاس سے گزرے جس کے گریبان میں انجیریں لٹکی ہوئی تھیں، آپ نے اس سے فرمایا: اس میں سے ہمیں ایک دانق کی انجیر دے دو۔ اس نے انکار کر دیاتو آپ آگے بڑھ گئے ایک شخص نے انجیر والے کو دیکھا تو اس سے پوچھا: انہوں نے تم سے کیا کہا تھا؟ وہ بولا: انہوں نے کہاتھا کہ مجھے اس میں سے ایک دانق کی انجیر دے دو۔ اس شخص نے انجیر والے سے کہا: ان کے پاس جاؤ اور وہ جتنی انجیر چاہیں دے دو اور قیمت مجھ سے لے لینا۔ اس نے آپ سے مل کر کہا: چچا جان! ان میں سے جتنی انجیر لینا چاہتے ہیں لے لیں۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لَا نَبْتَاعُ التِّيْنَ بِالدِّينِیعنی ہم دین کے عوض انجیر نہیں خریدتے ۔
جوکہا وہ ہو گیا:
(11171)…حضرت سیِّدُنا ابو عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم، حضرت سیِّدُنا حذیفہ مرعشی، حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباطرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور اسحاق بن نَجِیْحکہیں جا رہے تھے ، ایک شہر کے پاس سے گزرے تو سب نے اسحاق بن نَجِیْح سے کہا: اس شہر سے ہمارے لئے کچھ سامان خرید لاؤ۔ انہوں نے جا کرکچھ سامان اور زرد رنگ کانمک خریدا، جب آپ آئے اور سامان کے ساتھ زرد نمک رکھا تو ان حضرات نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ اسحاق بن نَجِیْح نے کہا: میں وہاں سے گزرا، اس کی خواہش ہوئی تو خرید لیا۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ان سے فرمایا: تم اپنی خواہش نہیں چھوڑو گے حتّٰی کہ تم پر ایسی مصیبت آئے گی جس کی تمہیں طاقت نہ ہو گی۔ حضرت سیِّدُنا ابو عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بعد میں اسحاق بن نَجِیْح کو حُرّان میں دیکھا وہ بھاری بھرکم اور انتہائی موٹی گردن والا ہو چکا تھا۔
چار چیزوں سے اجتناب:
(11172)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دوست حضرت سیِّدُناابوولیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اور ان کے ساتھی چار چیزوں سے بچتے تھے : (۱)…پانی کی لذت سے (۲)…حمام سے (۳)…جوتے سے اور (۴)…وہ نمک میں مصالحے نہیں ڈالتے تھے ۔
حکایت: پُراسرار ساتھی کا پُراسرار تھیلا
(11173)…حضرت سیِّدُناابو حفص عمر بن عیسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس کے والد نے بتایا کہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ہمراہ مکہ مکرمہ گیا، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم جب مَکہ مکرمہ جاتے توعوامی راستہ اختیار نہیں کرتے تھے ۔ ہم چار ساتھی تھے ، ہم راستے سے ہٹ کر سفر کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے ۔ ہم نے کرائے پر ایک گھر لیا اور اس میں ٹھہرگئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: ہم چار افراد ہیں، روزانہ ہم میں سے ایک شخص گھر کے کام کاج، سامان کی درستی، افطار اوردیگر ضروریات کے انتظام کا ذمہ دار ہو گا اور باقی تین افراد مسجد جائیں گے اورپھر اپنی حاجتوں کے لئے قُبا اور شہدا کے قبرستان جائیں گے ۔ راوی کابیان ہے کہ ایک دن ہم گھرمیں بیٹھے تھے کہ گندمی رنگت والاایک شخص نئی قمیص، پاؤں میں موزے ، سر پر عمامہ سجائے اور سامان کا تھیلا اٹھائے ہمارے پاس آیا اورسلام کر کے بولا: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکہاں ہیں؟ ہم نے کہا: وہ اسی گھر میں رہتے ہیں، کسی کام سے گئے ہوئے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ شخص ہم سے کوئی بات کیے بغیر چلا گیا، کچھ دیر بعدحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم واپس آئے تو وہ شخص بھی ان کے ساتھ تھا اور سامان کا تھیلا اس کی گردن پر تھا۔ آپ نے فرمایا: یہ ہمارے گھر میں چند روز رہے گا۔
جب ہم صبح یا شام کا کھانا کھانے لگتے تو وہ شخص اپنا سامان لے کر ایک طرف ہوجاتا ، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کسی بھی وقت اسے کھانے کی دعوت نہ دیتے اورنہ ہی یہ پوچھتے کہ ہمارے ساتھ کھانا کیوں نہیں کھا رہے ؟ تین دن بعد اس نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے کہا: میں جانا چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: کس وقت جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: آج رات کو۔ پھر وہ باہر نکلا تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بھی اس کے ساتھ گئے ۔ ہمارے ایک ساتھی نے کہا: اس شخص کا کوئی تو قصہ ہے جبھی حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نہ اُسے کھانے کی دعوت دیتے اور نہ ہی وہ ہمارے ساتھ کھاتا، بس اس تھیلے کی طرف ہی متوجہ رہتاہے ، خدا کی قسم! میں اسے ضرور کھول کر دیکھوں گا کہ اس میں کیا چیز ہے ؟ اس نے کھولا تو اس میں ہڈیاں تھیں، اس نے تھیلے کو واپس باندھ دیا، اس شخص نے آ کر تھیلا لیا اوراُس پربندھی رسی کو ناپسندیدگی سے دیکھاپھر ہمارے چہروں کا جائزہ لیتا ہوا چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد ہمارے ایک ساتھی نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے کہا: ابو اسحاق! یہ شخص جو ہمارے ساتھ تھا اس کا معاملہ بڑا ہی عجیب تھا: یہ ہمارے ساتھ کھانا کھاتا تھا نہ آپ اسے کھانے پر بُلاتے تھے ، فلاں نے جا کر اس کے تھیلے میں دیکھا تو اس میں ہڈیاں تھیں۔ یہ سن کر آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیااور اِس حرکت پر اس شخص سے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: میرا نہیں خیال کہ اس کے بعد کسی سفر میں تم میرے ساتھ رہ سکو گے ، تم نے اس کے تھیلے میں کیوں دیکھا؟ وہ جنات میں سے ہے اور ہمارا دینی