Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
351 - 361
تھوڑا سا گوشت نہیں خریدا تھا؟ اس وقت لوگوں کے لئے گوشت ختم ہو گیا تھاجبکہ اس دن 15یا 20رطل (.9055کلو گرام یا .8777 کلو  گرام)گوشت کی قیمت ایک درہم تھی ۔ 
	حضرت سیِّدُنا خلف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:  میں نے یہ بات حضرت سیِّدُنا ابو الاحوص اور حضرت سیِّدُنا عمار بن سیف ضبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا  کو بتائی پھر میرے گھر پر ان دونوں کی دعوت کا وقت طے ہوا گوشت اور ثرید لایا گیا تو انہوں نے کھا لیا پھرایک بڑی کڑاہی لائی گئی جس میں گھی اور شکر ملے چاول تھے ۔ جب حضرت سیِّدُنا ابو الاحوص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے دیکھا تو فرمایا:  یہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا ادب ہے ۔ 
کھانے کے آداب: 
(11163)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: آدمی کی کم ظرفی یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے قبل کھانے سے ہاتھ اُٹھا لے ۔ 
(11164)…حضرت سیِّدُنا ضَمْرَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا نے صور شہر میں اپنے ساتھیوں کی دعوت کی اور خَلَّاد صَیْقَلی نامی شخص کو بھی بُلایا۔ اس نے کھانا کھا کر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا، اس پر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا:  اس نے دو بُرے کام کیے :  (۱)…بغیر اجازت کھڑا ہوا اور (۲)…اپنے ساتھیوں کوشرمندہ  کیا۔ 
(11165)…حضرت سیِّدُنا مَضاء بن عیسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے ساتھیوں پر روزے نماز کی وجہ سے نہیں بلکہ صدق و سخاوت کی وجہ سے بلند تھے ۔ 
درسِ مُساوات: 
(11166)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن قُدَیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس گھر میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص اندر آیا اور بولا:  ابراہیم! فِی اَمَانِ اللہ۔ آپ نے فرمایا:  کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا:  فلاں ساحل پر۔ آپ نے فرمایا:  ابن قدید کا تھیلا لے لو اور اس میں اپنا سامان رکھ لو۔ میں نے کہا:  ابو اسحاق!یہ میرے ساتھی کا تھیلا ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تم ایسے کی صحبت چاہو گے جواِس شخص سے زیادہ اپنی چیز کا حق دار نہیں۔ 
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن قُدید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  ایک دن میں آپ کے پاس گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کو تحفے میں مٹھائی دی گئی، گھر میں ہم کافی لوگ تھے ۔ آپ نے فرمایا:  اے ابن قدید! اسے چھوڑ دو ، میں اس میں سے  کچھ نہیں کھاؤں گا نہ تم کچھ کھانا، اسے ہمارے ساتھی کھالیں گے ۔ چنانچہ  ہمارے ساتھیوں نے اسے کھایا اور  ہم نے اسے چکھا بھی نہیں۔ 
فضول نظری سے اجتناب: 
(11167)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم کے دوست حضرت سیِّدُنا ابو یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا  فرماتے ہیں کہ ہم ایک گھر میں ٹھہرے تو میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے گھر کی چھت کے متعلق سوال کیا:  یہ کس چیز کی بنی ہے پتھر کی یا لکڑی کی؟ آپ نے فرمایا:  مجھے نہیں معلوم۔ پھر میں نے اس کنیز کے بارے میں پوچھا جو ہماری خدمت پر مامور تھی کہ وہ کالی ہے یا گوری؟ آپ نے فرمایا:  مجھے نہیں معلوم۔ 
کرامت : جانوروں کا اطاعت کرنا
(11168)…حضرت سیِّدُنا ابو محمد نَصْر بن منصور مِصِّیْصِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم مِصِّیْصَہ آئے اور حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے گھر آ کر انہیں بُلایا تو بتایا گیا کہ وہ باہر ہیں۔ آپ نے فرمایا:  جب وہ آئیں تو کہنا کہ آپ کے بھائی ابراہیم نے آپ کو بُلایا ہے ، وہ فلاں چراگاہ میں اپنے گھوڑے کو چرانے گئے ہیں۔ یہ کہہ کر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اس چراگاہ کی طرف چل پڑے ، وہاں لوگ اپنے جانور چرا رہے تھے ، آپ بھی اپنا گھوڑا چرانے لگے حتّٰی کہ شام ہو گئی، لوگوں نے کہا:  اپنے گھوڑے کو ہمارے چوپائیوں کے ساتھ ملا دو کیونکہ یہاں درندے آتے ہیں۔ آپ نے انکار کیااور ایک  کونے میں ہو گئے ۔ لوگوں نے اپنے گردآگ جلا لی، پھر وہ اپنے بدکے ہوئے گھوڑے کی لگام پکڑ کر آپ کے پاس لائے جسے دو بیڑیاں ڈالی ہوئی تھیں، وہ کہنے لگے :  ہمارے جانوروں میں بچے جننے والی عجمی گھوڑیاں یا دیگر گھوڑیاں ہیں، آپ اسے عاریۃً اپنے پاس رکھ لیجئے ۔ آپ نے فرمایا:  ان بیڑیوں کا کیا کام؟ پھر آپ نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کی اگلی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہاتھ رکھا تو وہ سکون سے کھڑا ہو گیا، لوگ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کیونکہ یہ ناممکن تھا۔ آپ نے ان سے فرمایا:  جاؤ۔ وہ لوگ گھوڑے والے معاملے اور درندوں سے بے خوفی پر آپ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے اور حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے جبکہ وہ لوگ دیکھتے رہے ۔ رات کا کچھ حصہ گزرا تو ایک ایک کر کے تین شیر آپ کے پاس آئے ، ان میں سے ایک شیر نے آگے بڑھ کر آپ کو سونگھا پھر آپ کے گرد چکر لگانے کے بعد ایک طرف جا کر بیٹھ گیا، دوسرے اور تیسرے شیر نے بھی پہلے شیر کی طرح کیا لیکن حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پوری رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے ۔ جب سحری کا وقت ہوا توآپ نے شیروں سے فرمایا:  یہاں کیوں آئے ہو؟ مجھے کھانا چاہتے ہو؟ جاؤ یہاں سے ۔ شیر وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے ، اگلے دن حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینے ان لوگوں کے پاس آ کر پوچھا:  کیا تمہارے پاس کوئی شخص آیا تھا؟ وہ بولے :  ہمارے پاس ایک دیوانہ آیا تھا پھر انہوں نے پورا واقعہ سنا کر حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے ان سے فرمایا:  جانتے ہو وہ کون ہیں؟ بولے :  نہیں۔ فرمایا:  وہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ہیں۔ پھر وہ لوگ حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے ہمراہ آپ کے پاس گئے اور سب لوگوں نے آپ کو سلام کیا، پھر حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی انہیں اپنے ساتھ لے کر گھر کی طرف چل پڑے ۔ ایک لگام فروش کے پاس سے گزرے تو حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے لگام کے بارے میں پوچھ کر ایک درہم اور دو دانق (یعنی کل آٹھ دانق) میں سوداطے کیااورحضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے فرمایا:  ہمیں یہ لگام چاہئے ۔ آپ نے لگام والے سے فرمایا:  یہ کتنے کی ہے ؟ اس نے کہا:  چار دانق کی۔ آپ نے اسے چار دانق دئیے