بھائی ہے ۔ میں جس شہر میں جاتا ہوں یہ آکر میرے ساتھ رہتا ہے ، مجھے انسیت پہنچاتا ہے اور میری مدد کر کے چلا جاتا ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے تھیلے میں دیکھنے والا شخص مدینہ شریف ہی میں فوت ہوگیا۔
ہرسال صحابی جن سے ملاقات:
(11174)…حضرت سیِّدُنا جَسْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ 150ھ ہجری میں حج پر گیا تو قمیص وچادر میں ملبوس کاندھے پر ڈنڈے کے ساتھ تھیلا لٹکائے ایک دراز قد ضعیْفُ الْعُمْر صاحب نے آپ سے مل کر آپ کو سلام کیا پھرراستے کی ایک جانب ہو کر ہمارے ساتھ چلنے لگے ، جب ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا توانہوں نے بھی ہماری ایک جانب پڑاؤ ڈالا، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ہم سے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ان سے کلام کرے نہ کچھ مانگے ، نہ ان سے کسی چیز کے متعلق پوچھے اور نہ ہی یہ پوچھے کہ وہ کون ہیں؟جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو ایک گھر میں گئے ، وہ ضعیْفُ الْعُمْر صاحب گھر کے آخری حصے میں واقع کمرے میں چلے گئے ، انہوں نے اپنا عصا روشندان میں رکھا اور اپنا تھیلااس پر لٹکا دیا، جب ہم اندر جاتے تو وہ باہر آجاتے اور جب ہم باہر نکلتے تو وہ اندر چلے جاتے ۔ ایک مرتبہ میرے پیٹ میں تکلیف ہوئی تو میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا، میں بیت الخلا میں تھا جو کھجور کی شاخوں سے ڈھکا ہوا تھا کہ اچانک وہ صاحب آگئے انہوں نے نظر گھما کر دیکھا تو انہیں کوئی نظر نہ آیا، پھر اپنا تھیلا لے کر اسے کھولا تو اس میں مینگنیاں تھیں وہ اس میں سے کھانے لگے (1)، میں نے کھنکھارا تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور اپنا تھیلا اور عصا لے کر چلے گئے ۔ رات کو جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو ان کی قراءت کی آواز نہ آئی تو وہ سمجھے ہم میں سے کسی نے ان سے بات کی ہے ۔ چنانچہ میں نے انہیں اصل بات بتائی توانہوں نے فرمایا: یہ ان جنات میں سے تھے جو حضورنَبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں وفد کی صورت میں آئے تھے اور وہ سات قاری تھے ، تین کا تعلق نصیبین سے جبکہ چارکا نینویٰ سے تھا ، جن کو تم نے دیکھا ہے ان کے سوا ان جنات میں سے کوئی نہیں رہا اور یہ مجھ سے ہر سال ملاقات کرتے اور میری واپسی تک میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
تَصَوُّف کی تعریفات
اِمام حافظ ابونُعَیْم اَحمدبن عبداللہاصفہانی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کی عادتِ کریمہ ہے کہ حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاءمیں کسی بزرگ کاتذکرہ کرتے ہیں تواکثر ان کی سیرت کومدِنظررکھتے ہوئے تصوُّف کی ایک تعریف بیان کرتے ہیں ساتویں جلد میں بیان کردہ تمام تعریفات کو یہاں ایک فہرست میں یکجاکردیاگیاہے
تعریف صفحہ نمبر
01 بقدرِضرورت پر اکتفا کرنے اور پاکدامنی سے مزین ہونے کا نام تصوف ہے ۔ 189
02 سخاوت اور وفا کا نام تصوُّف ہے ۔ 394
03 سبقت حاصل کرنے کے لئے تیز چلنے اور مالک حقیقی سے ملنے کے لئے دبلا ہو جانے کا نام تصوُّف ہے ۔ 414
04 دوسروں کی عزت کرنے ، خود کو خداعَزَّ وَجَلَّ کے حوالے کر دینے ، ہر وقت نگاہ باری تعالیٰ کی طرف رکھنے اور بندوں کے ساتھ نرمی رکھنے کا نام تصوُّف ہے ۔ 454
٭…٭…٭…٭
متروکہ عربي عبارت
(10628)…حدثنامحمدبن الحسين اليقطيني ثناابو الطيب الرسغني ثناسعيد بن رزيق ثنااسماعيل بن يحيى عن مسعر وحدثناابو احمد محمد بن احمد الحافظ ثناابو العباس ابراهيم بن محمد الفرائضي ثناسعيد بن محمد بن رزيق ثنااسماعيل بن يحيى التيمي ثنا مسعر عن القاسم بن عبدالرحمن عن سعيد بن المسيب عن زيد بن ثابت قال نام رسول الله صلى الله عليه و سلم على حصير فاثر في جنبه فقالت له عائشةرضي الله تعالى عنها يا رسول الله هذاكسرى وقيصر في ملك عظيم وانت رسول الله لا شيء لك تنام على الحصير وتلبس الثوب الرديء فقال لهارسول الله صلى الله عليه و سلم يا عائشة لو شئت ان تسير معي الجبال ذهبا لسارت ولقداتاني جبريل بمفاتيح خزائن الدنيا فلم اردها ارفعي الحصير فرفعته فاذا تحت كل زاوية منها قضيب من ذهب ما يحمله الرجل فقال انظري اليها يا عائشة ان الدنيا لا تعدل عند الله من الخير قدر جناح بعوضة ثم غارت القضبان غريب من حديث اسماعيل تفرد به اسماعيل بن يحيى.
(10331)…حدثنامحمد بن ابراهيم ثناابو عروبة الحراني ثنااسماعيل بن احمد بن داود السليمي ثناابو قتادة ثناشعبة عن عطاء بن السائب عن البختري قال خطب علي فقال الاان خير هذه الامة بعد نبيهاابو بكر وعمر فقام رجل فقال وانت ياامير المؤمنين فقال نحن اهل بيت لا يوازينا احد.غريب من حديث شعبة عن عطاء تفرد به أبو قتادة.
ماٰخذ و مراجع
قرآن پاک کلام باری تعالٰی ٭…٭…٭…٭
________________________________
1 - جنات کے وفود آنے کی رات حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ☜ سے ارشادفرمایا: یہ علاقہ نصیبین کے جنات تھے ، انہوں نے مجھ سے اپنے توشہ کاسوال کیاتومیں نے انہیں توشہ دے دیا۔ حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے انہیں کیاتوشہ دیا؟ ارشادفرمایا: میں نے ہر ہڈی، گوبراورلیدکوان کاتوشہ بنادیا ہے ، وہ جو بھی ہڈی پائیں گے پہلے کی طرح گوشت سے بھر پور ہوگی اورجوبھی گوبرپائیں گے اس میں وہ اناج پائیں گے جواس پراس وقت تھاجب اسے کھایاگیاتھا۔ پس آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہڈی اورگوبرسے استنجاکرنے سے منع فرمادیا۔ (مسندامام احمد، مسندعبداللّٰہ بن مسعود، ۲ / ۱۸۱، حدیث: ۴۳۸۱)