Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
350 - 361
جائیں تو شریک آ کر اس میں بھی آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے ۔ 
کمزوروں اور فقرا سے اچھا سلوک کرو: 
(11158)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن بشار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا:  سخاوت، جود و کرم، بھائی چارہ اور باہمی محبت سب جا چکا ہے ۔ جوشخص لوگوں کو اپنا مال اور کھانا پینا نہ دے سکے اسے چاہئے کہ اُن کے ساتھ خندہ پیشانی اور حُسنِ اخلاق سے پیش آئے ۔ کثرتِ مال کے سبب ایسے نہ ہو جانا کہ اپنے فقرا کے سامنے تکبر کرو، اپنے کمزوروں کی طرف مائل  ہی نہ ہو اور اپنے مسکینوں کے ساتھ کشادگی نہ کرو۔ 
	ایک مرتبہ فرمایا:  حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم نے اپنے بیٹے سے فرمایا: تین چیزوں کا پتا تین موقعوں پر ہی لگتا ہے : (۱)…بردباری کا غصے کے وقت(۲)…بہادری کا جنگ میں دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت اور (۳)…بھائی چارے کا ضرورت کے وقت۔ 
(11159)…حضرت سیِّدُنا ابو عثمان صَیَّادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دعوت دی، دعوت میں حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مبارک اور حضرت سیِّدُنا مَخْلَد بن حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَابھی شریک تھے ، حضرت سیِّدُناا براہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم تھوڑا تھوڑا کھانے لگے ، جب سب لوگ چلے گئے تو دعوت دینے والا آپ کے گھر آیا، اس نے دیکھا کہ آپ بیٹھے ثرید کھا رہے ہیں، اس نے کہا:  ابو اسحاق!آپ کھانا کم کیوں کھا رہے تھے ؟ آپ نے فرمایا: تم  نے تو کھانا تیار کیا مگر وہاں تھوڑے ہاتھ زیادہ ہوگئے تھے ۔ 
دعوت میں احتیاط  ودانشمندی: 
(11160)…حضرت سیِّدُنا علی بن بَکَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھے ، حضرت سیِّدُنا مخلد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور کچھ لوگوں کو کھانے کی دعوت دی، میں اسے ان کی دانشمندی سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ  اچھا نہیں سمجھا کہ ہمیں دن کے وقت یا عشاء کے بعد بلائیں لہٰذا آپ نے ہمیں نمازِ مغرب کے بعد ہی بُلا لیا تاکہ ہم اپنی نماز سے غافل نہ ہوں، دعوت میں آپ نے ہمارے سامنے دو پیالے رکھے جن میں موٹی موٹی بوٹیاں تھیں ۔ اس  دوران آپ اور آپ کے ساتھی ہمارے پاس کھڑے ہو کر ہمیں پانی پلاتے رہے پھر آپ  نے ہمارے سامنے تربوز رکھا۔ 
	حضرت سیِّدُنا علی بن بَکَّار بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:  یہ دعوت بَکْربن خُنَیْس کے گھر میں ہوئی، میں پوری دنیامل جانے سے زیادہ اِس دعوت سے خوش ہوں اور مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے اس کھانے کی بدولت جنت میں داخل فرمائے گا۔ 
(11161)… شعیب بن واقد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اذنہ سے حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کو کہلوایا:  ” ہم سے مل کر زادِ راہ ساتھ لے جاؤ۔  “ 
دعوت میں کم کھایا: 
(11162)…حضرت سیِّدُنا خلف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آتا اور انہیں سلام کر کے بیٹھ جاتا تھا لیکن آپ ہم سے گفتگو نہیں کرتے تھے ، ایک دن مجھے اس بات کا ملال ہوا تو میں نے حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی سے عرض کی: ابو اسحاق! ہم حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکے پاس آتے ہیں مگر یہ ہم سے گفتگو نہیں کرتے ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اِن کے دوست ہیں، آپ ہی انہیں کہہ دیجئے کہ میرے لیے کچھ کشادگی فرمائیں اور مجھ سے گفتگو کر لیا کریں۔ حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق نے مجھ سے فرمایا:  کیا تم ان کے پاس جاتے ہو؟ میں نے کہا:  جی ہاں۔ فرمایا: میں اور حضرت مَخْلَد(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)بھی ان کے پاس جاتے ہیں اور ان سے آداب اور اخلاق سیکھتے ہیں تم بھی ان کے پاس یہی سیکھنے جایا کرو۔ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس جا کر کہا:  میں چاہتا ہوں کہ آج رات آپ اور ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی میرے پاس روزہ افطارکریں۔ جب میں نے حضرت سیِّدُناابواسحاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقکاذکرکیاتوآپ مجھ سے خوش  ہوئے اور فرمایا: ٹھیک ہے ۔ پھر میں نے حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق کے پاس جا کر کہا:  میں نے آج رات حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکواپنے ہاں آپ کے ساتھ افطارکی دعوت دی ہے ، میں چاہتا ہوں کہ آپ نمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد انہیں ہاتھ سے پکڑ کر میرے گھر لے آئیں۔ آپ نے حامی بھر لی۔ میں نے جا کر مزید 10کے قریب دوستوں کو دعوت دے دی جن میں شعیب بن واقد بھی تھے ۔ چنانچہ جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم اور حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا تشریف لے آئے  تو میں نے ان کے سامنے ایک بڑا پیالہ رکھا جس  میں ثرید اور تھوڑا تھوڑاگوشت  لگی ہڈیاں تھیں، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم تھوڑا تھوڑا لے کر یہ ظاہر کرنے لگے گویا آپ کھانا کھا رہے ہیں، مجھے ان کا ایسا کرنا اچھا نہیں لگا، جب پیالہ اُٹھا لیا  گیا تو میں نے غلام سے کہا:  وہ طباق لاؤ جس میں کشمش، انجیراور چھوہارے ہیں۔ میں نے وہ تھال رکھامزید کوئی کھانا پیش نہیں کیا۔ چنانچہ سب کھانا کھا کر چلے گئے تو چند دن بعد شعیب بن واقدنے مجھ سے کہا: کیا تمہیں اس پر تعجب نہیں ہوتاکہ جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم تنہابَکْربن خُنَیْس کے گھر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو وہ لوگ کھانا کھا چکے تھے ، برتن میں بچا کچا سرکہ اور روغَنِ زیتون تھا، آپ آگے بڑھ کر دو زانو بیٹھے اور برتن اُٹھاکر نوش فرمالیا تو میں نے کہا:  آپ مجھے یہ بتائیے کہ ایک شخص نے آپ کو ثرید اور گوشت کی دعوت دی تو آپ نے تھوڑا کھایااور اب یہاں آکر سرکہ و زیتون کھا رہے ہیں؟
	حضرت سیِّدُنا خلف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: چنددن بعد جب میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کچھ بے تکلف اور مانوس ہو گیا تو میں نے کہا: مجھے اپنے بارے میں کچھ بتائیے کیونکہ شعیب بن واقد نے مجھے بتایا ہے : اس رات آپ میرے یہاں سے اپنے ساتھیوں کے پاس گئے ، وہ کھانا کھا چکے تھے پھر آپ نے  وہ برتن اٹھایا جس میں سرکہ  اورروغَنِ زیتون بچاہواتھا تو آپ نے اسی کو نوش فرما لیا  جبکہ  آپ نے میرے ہاں زیادہ نہیں کھایا؟ اس پر آپ نے فرمایا:  تم اپنے بارے میں بتاؤ! جب تم نے اپنے ہاں لوگوں کو جمع کیا تھا تو کیا تم نے دو درہم کا