Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
349 - 361
(11152)…حضرت سیِّدُنا احمد بن ابو حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں:  ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ  حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اور آپ کے ساتھی روم کی سرزمین میں تھے ، وہاں برف باری ہوئی تو آپ کے ساتھی خیموں میں چلے گئے جبکہ آپ باہر ہی رہے ، ساتھیوں نے آپ کو اندر بُلانا چاہا لیکن آپ نے انکار کر دیا، آپ نے اپنا سر اپنے اوپر موجودبالوں والے چمڑے میں کر لیا، جب بھی برف باری تیز ہوتی آپ اسے اُتار دیتے ، جب صبح ہوئی اور سورج طلوع ہوا تو آپ کے ساتھی خیموں سے نکل آئے اور کہنے لگے :  ابو اسحاق!یہ کیسی رات ہم پر گزری ہے ؟ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دوبارہ ایسی رات میں مبتلا نہ فرمائے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: بھلا اس جیسی رات اب کہاں نصیب ہو سکتی ہے ؟
ایک رات میں50بیگھہ زمین کی کٹائی: 
(11153)…حضرت سیِّدُنا ابو قتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم، حضرت سیِّدُنا ابو عثمان مَرجی، حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط اور حضرت سیِّدُناحُذیْفَہمَرعَشِیرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی نے میرے پاس چند روز قیام کیا اور فرمایا:  ہمارے لئے کوئی کھیت دیکھو جس کی ہم کٹائی کریں۔ میں جاگیردار کے پاس گیا اور اُس سے اِن کے لئے 50 بیگھہ زمین کی کٹائی50 درہم کے عوض قبول کی پھر میں ان سے ایک طرف  ہٹ کر بیٹھ گیا حتّٰی کہ سورج غروب ہو گیا، میں نے چاہا کہ ان کے ساتھ ہی رات گزاروں مگر انہوں نے مجھے منع کر دیا، میں انہیں کھیتوں میں چھوڑ کر لوٹ آیا، اگلی صبح جب میں ان کے پاس گیا تو تمام کھیت کی کٹائی ہو چکی تھی اور وہاں ایک بالی بھی کھڑی نہیں تھی، جاگیردار آیا تواس نے کہا: تم نے بہت اچھا کام کیا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں جزائے خیرعطا فرمائے ، کیا تم ایک اور کھیت کی کٹائی کرو گے ؟ انہوں نے کہا:  نہیں۔ پھر ان بزرگوں نے مجھے 40درہم دیئے اورخود10درہم رکھے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّہی بہترجانتاہے کہ اگرانہوں نے ایک بالی بھی اپنے ہاتھ سے کاٹی ہو۔ 
شاہوں کو نہ ملا ہمیں مل گیا: 
(11154)…حضرت سیِّدُنا سالم خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں بارش والے دن انطاکیہ میں ایک سڑک کے کنارے جا رہا تھاکہ وہاں مجھے ایک شخص سوتا ہوا نظر آیا، جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، دیکھا تو وہ حضرت سیِّدُنا ابرہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم تھے جو ایک چوغے میں تھے ۔ مجھ سے فرمانے لگے :  ابو محمد! بادشاہوں نے ایک چیزطلب کی مگر وہ انہیں نہ ملی جبکہ ہم نے اسے مانگاتو پا لیا اور وہ یہ(یعنی راحت) ہے جسے میری اس چادر کی حدود نے گھیر رکھا ہے ۔ 
تارکِ دنیا کے ساتھ لوگوں کا برتاؤ: 
(11155)…حضرت سیِّدُنا خلف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا:  ایک شخص میرے پاس کچھ دینار لا کر کہتاہے :  یہ لے لو۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے ان کی حاجت نہیں ہے ۔ کوئی گھوڑے پر زین رکھ کر اسے لگام لگا کر میرے پاس لاتا ہے اور کہتا ہے : میں آپ کو اس پر سوار کرنا چاہتا ہوں۔ میں کہہ دیتا ہوں کہ  مجھے اس کی حاجت نہیں ہے اورکوئی شخص جسے میں جانتاہوں کہ وہ قریشی یا عربی ہے وہ مجھ سے آ کر کہتا ہے : مجھے اپنی خدمت کا موقع دیجئے ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ میں ان کی  دنیا میں ان سے مقابلہ نہیں کرتا تو وہ مجھے غور سے دیکھنے لگے گویا میں زمین کا کوئی چوپایا ہوں یا ان کے پاس کوئی نشانی ہوں اور اگر میں ان سے کچھ لے لیتا تو وہ ضرور مجھے ناپسند جانتے اورمیں ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو ان فضولیات کو چھوڑنے پر تعریف نہیں کرتے ۔ پس اِن زمانے والوں کے نزدیک دنیا سے کچھ چھوڑنے والا ایسا ہوگیا ہے گویا اُس نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ 
زہد سے بھرپورجہاد: 
(11156)…حضرت سیِّدُنا احمد بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ہمارے ساتھ دو جنگوں میں شرکت کی، ہر ایک دوسرے سے زیادہ سخت تھی۔ (۱)…جنگِ عباس اَنطاکی اور (۲)…جنگِ مِحْکاف۔ لیکن دونوں جنگوں میں آپ نے اپنا حصہ لیا نہ مالِ غنیمت، آپ رومیوں کے مال سے کچھ نہ کھاتے تھے ، ہم عمدہ چیزیں، شہد اور مرغیاں لاتے مگر آپ کچھ نہ کھاتے اور فرماتے :  یہ حلال ہے لیکن میں  اس سے دور رہتا ہوں، آپ اپنے زادِ راہ سے ہی کھاتے اور روزے سے رہتے تھے ۔ آپ نے ایک غیر عربی گھوڑے پر سوار ہو کر جہاد کیا جس کی قیمت ایک دینار ہو گی، آپ نے اپنے گدھے کے بدلے وہ گھوڑا لیا تھا، اگر تم انہیں سونے یا چاندی کا گھوڑا بھی دیتے تو وہ ہرگز نہ لیتے بلکہ پانی کا گھونٹ بھی قبول نہ کرتے ۔ یوں ہی آپ نے دو سمندری جنگیں لڑیں مگرنہ ہی اپنا حصہ لیا اور نہ ہی تنخواہ لی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: غازی کو اِسی صفت پر ہونا چاہیے ۔ حضرت سیِّدُناعلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِینے کہا:  حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا وصال موسِمِ گرما میں دورانِ سفر پیٹ کی بیماری کے سبب ہوا۔ 
(11157)…حضرت سیِّدُنا اشعث بن شعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنگ میں گئے ، ہمارے ساتھ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمبھی تھے ، ہمیں اور ہمارے جانوروں کو بھوک نے ستایا تو مِصِّيصَہوالوں کو یہ خبر ملی، انہوں نے اشیائے خورد ونوش سے لدے خچر راستے پر بھیج دیئے ، میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو فرماتے سنا کہ’’کون ایسا تکلیف زدہ ہے جس نے لوگوں کو ہمارے حال کی اطلاع دی‘‘گویا آپ یہ چاہتے تھے کہ ہم مصیصہ میں داخل ہونے تک اسی حالت میں رہیں، جب لشکر داخل ہوا تو آپ جہاں سے آئے تھے وہیں چلے گئے اورمصیصہ نہیں گئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے مجھ سے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو تلاش کرو۔ میں نے انہیں تلاش کیا مگر وہ جا چکے تھے ۔ حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے مجھے کچھ زادِ راہ دے کر فرمایا: جاؤ یہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو دے دو۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے میری ملاقات انطاکیہ میں ہوئی، آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا:  تم آگئے ؟ میں نے کہا:  جی ہاں، ابو اسحاق نے مجھے بھیجا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے میں نے زادِ راہ ان کودیا  تو انہوں نے لے لیا، جب میں  لوٹنے لگا تو انہوں نے مجھے ایک تہبند دیتے ہوئے فرمایا:  یہ ابو اسحاق کو دے دینا۔ میں نے کہا:  آپ نے مصیصہ میں قیام کیوں نہیں کیا؟فرمایا: میں کس کے پاس ٹھہرتا؟ پھر آپ نے مصیصہ والوں کا ذکر کیا حتّٰی کہ حضرت سیِّدُناشریک بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا ذکر کیا تو فرمایا:  اگر پانچ درہم راستے میں تقسیم کئے