(11147)…حضرت سیِّدُنا جامع بن اعین فراء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی نے ستو اور کھجور سے بھرا تھیلا اور بھنا ہوا گوشت دے کر مجھے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی طرف بھیجا جو چراہ گاہ میں گھوڑے چرا رہے تھے ۔ اور کہا: یہ ابراہیم بن ادہم (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) کو دے دینا اور انہیں میرا سلام کہنا۔ لہٰذا میں نمازِ عصر کے بعد آپ کے پاس گیا اس وقت آپ جنگل میں تھے ، میں نے وہاں اپنے گھوڑے کو دیکھا اور بیٹھ گیا، جب سورج زرد ہوا تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم باہر آئے ، آپ کے کاندھوں پرعبا تھی اورآپ صوف کا جُبّہ زیبِ تن کیے ہوئے تسبیح پڑھ رہے تھے ، ساتھیوں نے کہا: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم تشریف لا چکے ہیں۔ انہوں نے آپ کے لئے ایک مٹھی جَو اور عجوہ کھجور کو پکا کران سے تین ٹکیاں تیارکی ہوئی تھیں۔ میں نے کھڑے ہوکرسلام کیااوراپنے بھائی کا سلام بھی پہنچایا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: انہیں ان کے بھائی کا گھوڑا دکھا ؤکہ یہ خوش ہو جائیں۔ میں نے کہا: میں اسے دیکھ چکا ہوں۔ پھر میں نے ان کے سامنے تھیلا رکھتے ہوئے کہا: میرے بھائی نے آپ کے لئے یہ تحفہ بھیجا ہے ۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: یہ کب سے آئیں ہیں؟ انہوں نے کہا: عصر کے بعد۔ آپ نے فرمایا: تو تم نے اسے کھا کیوں نہیں لیا؟پھر فرمایا: چادر بچھاؤ۔ چادر بچھ جانے کے بعد آپ نے تھیلا اس پر اُلٹ دیااور فرمانے لگے : فلاں کو بُلاؤ، فلاں کو بُلاؤ۔ پھر ان سے فرمایا: کھاؤ۔ اور خود کھڑے ہو کر انہیں بار بار کھانے کو کہتے رہے ۔ میں نے ان کے ساتھیوں سے کہا: میرے بھائی نے یہ تحفہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکے کھانے کے لئے بھیجا تھا اور تم نے ان کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ وہ بولے : حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
الْاَکْرَم ہلکے کوٹے ہوئے نمک کے ہمراہ فقط جَو کی تین ٹکیاں کھاتے ہیں پھر ہمیں نمازِ عشا پڑھا کر صبح تک رکوع و سجود اور فکرِ آخرت میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ ہمیںفجر کی نماز بھی عشاء کے وضو سے پڑھاتے ہیں۔
خیر خواہی اور خود داری :
(11148)…حضرت سیِّدُنا خلف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے سمندری جہاد کیاتو آپ کومالِ غنیمت سے اپنے حصے کے تین دینار ملے ، آپ نے دینار لانے والے شخص سے کہا: انہیں اس چٹائی پر رکھ دو۔ اس نے رکھ دیئے تو مجھ سے فرمایا: یہ دینار لے جاؤ اور ابو محمد خیاط کو دے دو اور ان سے کہنا کہ میں نے آپ کو اپنے اوپر قرض کا تذکرہ کرتے سنا تھا ان دیناروں سے اپنا قرض ادا کر دو۔ میں وہ دینار لے کر گیا اور ان سے کہا: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھے یہ دینار دے کر آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ ان سے اپنا قرض ادا کر دیں۔ حضرت سیِّدُنا محمدخیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ دینار انہیں واپس کر دینا کیونکہ مجھے ان سے ہمدردی ہے کہ ان کے کپڑوں میں پائی جانے والی جوئیں انہیں کھا گئی ہیں، کیا میں ایسے دینار لے لوں جو میرے پاس باقی نہیں رہیں گے ؟میں وہ دینار لے کر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی خدمت میں آیا اور آپ سے کہا: انہوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: انہیں چٹائی پر رکھ دو۔ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک بوڑھے شخص نے کہا: ابو اسحاق! میں بال بچوں والا ہوں۔ یا کہا: مجھے ان کی ضرورت ہے ۔ آپ نے فرمایا: وہاں سے اُٹھا لو۔ لہٰذا وہ دینار اس بوڑھے نے لے لئے ۔
(11149)…حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم مرعش جا رہے تھے ، میں بھی آپ کے ہمراہ تھا، میں نے اپنا زادِ راہ ان کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے گمان نہیں تھا کہ تم میرے ساتھ یہ کرو گے اگر یہ کام تمہارے علاوہ بھی کوئی کرتا تو تمہیں چاہئے تھا کہ تم مجھے اس سے روکتے ۔ پھر آپ نے اپنادراز آستین والا جبہ اور جسم پر موجودقمیص اُتاری پھر جُبّہ پہن کر قمیص مجھے دے دی اور فرمایا: یہ فلاں کو پہنچا دینا کیونکہ وہ ہم سے زیادہ حُسنِ سلوک کا حقدار ہے ۔
رقم گم ہو جانے پر شکر:
(11150)…حضرت سیِّدُنا عطاء بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھی کا بیان ہے : ہم ایک پہاڑ کی طرف گئے تو ہمیں اُن لوگوں نے مزدوری پر رکھ لیا جو لکڑی کاٹ کر اُس سے پیالے اور تیر بناتے تھے ۔ پس ہم سامان اُٹھاکر سُلَمِیَّہ کے بازار لے آئے پھر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بستی میں چلے گئے اور میں نے سامان اُٹھایا اور اسے 30 دینار میں فروخت کر دیا، وہ دینار میری آستین سے کہیں گر گئے پھر عُبَـیْدُاللہ بن صالح کی زوجہ اسماء کاغلام مجھے ملاتو اس نے مجھے پہچان لیا اور بولا: یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے اسے پوری بات بتائی تو وہ گیا اور 200 دینار لے کر آیا اور کہنے لگا: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کہاں ہیں؟ میں نے کہا: بستی میں۔ وہ بولا: ان کے پاس چلو۔ جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو آپ کا سر سائے میں تھا اور پاؤں دھوپ میں۔ میں نے کہا: دینارگم ہو گئے ہیں۔ آپ نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ عَافَانَامِنْهَا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے جس نے ہمیں ان دیناروں سے عافیت عطا فرمائی۔ پھرغلام نے عرض کی: یہ 200 دینار اسماء خاتون نے آپ کے لئے بھیجے ہیں۔ آپ نے اسے ڈانٹا اور سر اٹھا کر فرمایا: خدا کی قسم! ان دیناروں کا کھو جانا مجھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہے ۔
طویل سفر کے باوجود پاؤں کو آرام نہ دیا:
(11151)…حضرت سیِّدُنا ابو ولید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ ایک جنگ میں شرکت کی، میرے پاس دو گھوڑے تھے جبکہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پیدل تھے ، میں نے آپ کو سوار کرنا چاہاتوآپ نے انکار کر دیا، میں نے قسم کھائی تو آپ سوار ہوکر زین پر بیٹھ گئے پھر یہ کہتے ہوئے اُتر گئے کہ میں نے تمہاری قسم پوری کر دی ہے ۔ پھر ہم اس لشکر میں 36 میل تک چلے اور آپ پیدل ہی چلتے رہے ، جب ہم نے پڑاؤ ڈالا تو آپ سمندر پر گئے اور اپنے پاؤں بھگو کر آئے پھر چت لیٹے اور اپنے دونوں پاؤں اُٹھا کردیوار سے ٹکا دیئے ۔ یہ سخت ترین عمل تھا جو میں نے آپ کوکرتے دیکھا۔
برف باری میں نفس کو سزا: