Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
347 - 361
(11140)…حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کھیت کی کٹائی کر رہے تھے آپ نے کچھ ہی فصل کاٹی تھی کہ دو شخص آپ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے ، ان دونوں کے پاس کچھ سامان، نرم بستر اور زادِ راہ تھا، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا اور پوچھا:  کیا آپ ابراہیم بن ادہم ہیں؟  آپ نے فرمایا:  ہاں۔ وہ بولے :  ہم دونوں آپ کے والد کے غلام ہیں اور ہمارے  پاس مال اور بستر ہیں۔ آپ نے فرمایا:  مجھے نہیں معلوم تم کیا کہہ رہے ہو اگر تم سچے ہو تو آزاد ہو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمہارا ہے ، مجھے میرا کام کرنے دو۔ 
تحفے کے بدلے تحفہ: 
(11141)…حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ عسقلان میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکے ازہر نامی بھائی رہتے تھے ، انہوں نے لوگوں سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں پوچھا تو انہیں  بتایا گیا کہ آپ ساحِلِ سمندر پر واقع ایک پناہ گاہ میں ہیں اور بیمار ہیں، ازہر نے اونی چادر اپنی گردن پر ڈالی، پھر ساحل سمندر پر چلتے رہے یہاں تک کہ آپ کے پاس پہنچ گئے ۔ انہوں نے آپ کو بیماری کی حالت میں صرف ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے پایاتو کہا:  ابو اسحاق! میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ چادر لے لیں اور آدھی اپنے نیچے بچھا لیں اور آدھی اپنے اوپراوڑھ لیں۔ آپ نے فرمایا:  میں یہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا:  اگر آپ ایسا کریں گے تو مجھے خوشی ہو گی کیونکہ آپ کی اس حالت نے مجھے غمگین کر دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا:  کیا تم غمگین ہو گئے ہو؟ اچھا ٹھیک ہے اسے رکھ دو۔ ازہر کا بیان ہے کہ میں چادر رکھ کر اس ڈر سے چلا گیا کہ آپ اس کے بارے میں کوئی اور بات نہ کریں۔ کچھ دنوں بعد آپ آئے ، آپ نے میری چادر کو اُٹھایا اور اس کے نیچے کوئی چیز رکھ کر چلے گئے ، جب میں نے اپنی چادر اُٹھائی تو اس کے نیچے بالکل  نئی چپلوں پر لپٹا ہواروئی کا نیا عمامہ تھا پھر میں چل پڑا یہاں تک کہ شہر سے باہر آپ سے ملاقات ہو گئی ، آپ نے فرمایا:  میں نے لوگوں کا یہ معمول دیکھا ہے کہ وہ کچھ لیتے ہیں اور کچھ دیتے ہیں جو چیز تمہارے پاس  ہے اسے لے کر واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ میں واپس آ گیا۔ 
(11142)…حضرت سیِّدُنا احمد بن ابوحواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیبیان کرتے ہیں کہ میرے بھائی محمد نے مجھے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا داودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بغیر زین والے بار بردار عجمی گھوڑے پررملہشہرمیں داخل ہوئے تو کسی نے کہا:  آپ کی زِین کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا:  ابراہیم بن ادہم کی سخاوت اسے لے گئی۔ 
	حضرت سیِّدُنا احمد بن ابو حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے فرمایا: حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو انجیراورانگور سے بھرا تھال تحفے میں دیا گیا تو بدلے میں آپ نے گھوڑے  کی زین تھال میں رکھ دی اور ایک بار ٹوکری میں روٹیاں رکھ کرتحفہ دیا گیاتو بدلے میں آپ نے تیر رکھنے کا تھیلا اتارکر ٹوکری میں رکھ دیا۔ 
(11143)…حضرت سیِّدُنامحمد بن خلف عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ سیِّدُنارَوَّاد بن جَرَّاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ ایک غزوہ میں گیا، میرے گھوڑے کی زین گم ہو گئی تو میں نے پوچھا:  میری زین کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا:  حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس تحفہ لایا گیا، اس کا بدلہ دینے کے لیے انہیں کوئی چیز نہیں ملی تو انہوں نے آپ کے گھوڑے کی زین لے کر اسے دے دی۔ 
	راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا رَوَّاد بن جَرَّاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو اس بات پر خوش ہوتے دیکھا اور آپ نے فرمایا:  میں نے خواب دیکھا کہ میں اور حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ایک لحاف میں ہیں اور آپ نے مجھے اس لحاف میں ڈھانپ لیا ہے ۔ کچھ عرصے بعدمیرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا:  حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے آپ کو سلام کہاہے اور فرمایاکہ یہ تہبند آپ پہن لیں۔ میں نے تہبند لے لیا اور مجھے اپنا خواب یاد آگیا۔ 
(11144)…حضرت سیِّدُنا احمد بن ابوحواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ میں نے مروان سے کہا:  مجھے حضرت سیِّدُنامضاء بن عیسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو بلند مرتبہ سچائی اور سخاوت کے ذریعے ہی ملا ہے ۔ مروان نے کہا: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بہت زبردست سخی تھے ۔ 
جذبَۂ ایثاروخدمتِ خلق: 
(11145)…حضرت سیِّدُنا احمد بن ابوحواریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھی حضرت سیِّدُنا ابو ولید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدیاکسی اور سے سنا کہ جب تھیلے میں کچھ آٹا رہ جاتا تو آپ وہ تھیلا اپنے ساتھیوں کے لئے چھوڑ دیتے اور دیوار کے بنانے میں مشغول ہو جاتے ۔ مزید فرماتے ہیں: مجھے اتنا معلوم ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوولید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد نے فرمایا: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھیوں نے کہا:  آؤ!ہم برتن میں موجود ساری روٹیاں کھا لیتے ہیں تاکہ جب ابراہیم بن ادہم (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم)آئیں اور انہیں کچھ نہ ملے تو اگلی رات جلدی آجائیں، یعنی  روٹیاں ختم ہونے سے پہلے لوٹ آئیں گے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عشاء کے بعد دیرسے آیا کرتے تھے ۔ لہٰذا ان لوگوں نے برتن میں موجود تمام روٹیاں کھائیں اور چراغ بجھا کر سو گئے جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے آ کر خالی برتن دیکھا تو فرمایا:  اِنَّا لِلَّہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن یہ لوگ بغیر کھائے سو گئے ؟ چنانچہ آپ نے پتھر رگڑ کر چراغ روشن کیااورآٹا گوندھ کر ان کے لئے ٹوکری بھر کر روٹیاں بنائیں پھر انہیں جگاتے ہوئے کہنے لگے :  اُٹھ جاؤ، اُٹھ جاؤ !کیا تم رات کو سونے سے پہلے رات کے کھانے کا بندوبست نہیں کرتے تھے ؟ان لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہنے لگے :  دیکھو ہم نے ان کے ساتھ کیا کرنے کا سوچا تھا اور انہوں نے کیا کر دکھایا؟
(11146)…حضرت سیِّدُنا ابوولید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد کا بیان ہے کہ بسا اوقات حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمبیٹھ جاتے اورہمیں کھلانے کے لیے صبح سے شام تک چلغوزے چھیلتے رہتے تھے ۔ آپ اور آپ کا ایک ساتھی غلہ پیستے تھے اور چکی میں لگی لکڑی میں ایک گانٹھ تھی تو آپ اس گانٹھ والی جگہ پر ہاتھ رکھتے اور اپنے ساتھی کے لئے ہموار جگہ چھوڑ دیتے تھے ، پیستے وقت اپنا ایک پاؤں پھیلا دیتے اور جب تک پیس نہ لیتے اس پاؤں کونہ سمیٹتے ۔ 
لذیذکھانا نہ کھایا: