Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
346 - 361
معاویہ! اگریہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ میری ٹوہ میں پڑیں گے تو میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملاقات تک یا پھر اس وقت تک مٹی کھا کر گزارہ کرتا جب تکمیرے لئے حلال اس طرح واضح نہہو جاتا کہ وہ کہاں ہے ؟
(11135)…حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھے بتایا کہ جب وہ قحط سالی میں مبتلا ہوئے تو چند دن تک ریت کو پانی میں بھگو کر کھاتے رہے ۔ 
عظیمُ الشان خیر خواہی: 
(11136)…حضرت سیِّدُنا سہل بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ تھا، آپ نے اپنا تمام زادِ راہ مجھ پر خرچ کر دیا، پھر میں بیمار ہو گیا تو مجھے کسی چیز کی خواہش ہوئی تو آپ نے اپنا گدھا لے جا کر فروخت کر دیا اور میری پسند کی چیز خرید لائے ، میں نے عرض کی:  ابراہیم!گدھا کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا:  بھائی! میں نے اسے فروخت کر دیاہے ۔ میں نے عرض کی:  میرے بھائی!ہم کس پرسوار ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا:  میرے بھائی! میری گردن پر۔ پھر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم انہیں اپنی گردن پر اُٹھا کر تین منزل تک لے کر گئے ۔ 
	حضرت سیِّدُنا امام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ان علمائے کرام میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے افضل کوئی نہیں کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہیں۔ 
لوگوں کی مدد کا جذبہ: 
(11137)…حضرت سیِّدُنا احمد بن فضل عکِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے والد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے قیساریہ میں باغبانی کی پیشگی اُجرت میں دینار حاصل کیا پھر آپ کو ایک عورت کی چیخ سنائی دی تو دریافت فرمایا:  اس عورت کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ زَچگی کے درد میں مبتلا ہے ۔ آپ نے پوچھا:  اس حالت میں اسے کن چیزوں کی حاجت ہے ؟ وہ بولے :  اس کے لئے آٹا، زیتون، گوشت اور شہد خریدا جاتا ہے ۔ چنانچہ آپ نے اپنا دینار اس طرح خرچ کیا کہ ایک ٹوکری خرید کر  اسے آٹے سے بھرا پھر زیتون، گھی، شہد اور گوشت خریدا اور یہ تمام سامان اپنی گردن پر اُٹھا کر اس کے دروازے تک لائے اور اُس کے گھر والوں سے کہا:  یہ لے لو۔ جب آپ نے اُن گھر والوں کو دیکھا تو اہْلِ قیساریہ میں سب سے زیادہ محتاج اور سب سے زیادہ عبادت گزار پایا۔ 
ادھار لے کر مدد فرمائی: 
(11138)…حضرت سیِّدُنا شقیق بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس تھے  کہ ایک مزدور وہاں سے گزرا تو آپ نے فرمایا:  کیا یہ فلاں نہیں ہے ؟ کسی نے کہا:  جی ہاں۔ آپ نے ایک شخص سے کہا کہ  اس کے پاس جا کر کہو : ابراہیم بن ادہم(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) نے پوچھا ہے کہ تم نے سلام کیوں نہیں کیا؟ اس شخص نے کہا:  خدا کی قسم! ایسی کوئی بات نہیں ہے ، بات یہ ہے کہ میری بیوی نے بچہ جنا ہے اورمیرے پاس کوئی چیز نہیں ہے پس میں پاگل کی سی کیفیت میں گھر سے نکلا ہوں۔ اس شخص نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو جا کر ساری بات بتائی تو آپ نے فرمایا: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن ہم اپنے ساتھی کے معاملے سے کیسے بے خبر رہ گئے اور  اسے یہ پریشانی لاحق ہو گئی؟ پھر فرمایا:  اے فلاں! جاکرباغ کے مالک سے دو دینار اُدھار لے لو اور بازار جا کر ایک دینار سے وہ چیزیں خریدو جن سے اس کے حالات بہتر ہو جائیں اور دوسرا دینار اسے دے دینا۔ راوی کہتے ہیں:  میں بازار گیا، ایک دینار سے تمام اشیائے ضرورت خریدیں پھر انہیں  لاد کر اس شخص کے گھر چلا گیا، جب اس کے دروازے پر دستک دی تو  اس کی بیوینے پوچھا:  کون ہے ؟ تو میں نے کہا:  میں فلاں سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا:  وہ موجودنہیں ہے ۔ میں نے کہا:  دروازہ کھولنے کی اجازت دو اورخودایک طرف ہو جاؤ۔ پھر میں نے دروازہ کھولا اور اونٹپر لدا تمام سامان گھر میں لے جا کر صحن میں رکھ دیا اور دینار اس عورت کو دے دیا۔ اس نے کہا: یہ سب کس نے دیا ہے ؟ میں نے کہا:  اپنے شوہر سے کہہ دینا کہ تمہارے بھائی حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے دیاہے اس عورت نے کہا:  اے اللہ!حضرت ابراہیم بن ادہم کو آج کے دن کی خاص جزا عطا فرما۔ 
اپنی حقیقت چھپانے کا اہتمام: 
(11139)…حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ ہم مِصِّیْصَہ شہر کی جامع مسجد کے پاس  بیٹھے ہوئے تھے ہمارے درمیان حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بھی موجود تھے اتنے میں خراسان سے ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا:  تم میں سے ابراہیم بن ادہم کون ہیں؟ لوگوں نے کہا:  یہ ہیں( یا شاید آپ نے خود فرمایا:  میں ہوں۔ )اس نے کہا:  آپ کے بھائیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ۔ آپ نے جیسے ہی اپنے بھائیوں کا سنا تو کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک طرف کو لے گئے اور پوچھا:  کیوں آئے ہو؟ اس نے کہا:  انہوں نے مجھ غلام سمیت گھوڑا، خچر اور 10 ہزار درہم آپ کے لئے بھیجے ہیں۔ آپ نے فرمایا:  اگر تم سچے ہو تو آزاد ہو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب تمہارا ہے ، جاؤ اور کسی کومت  بتانا۔ چنانچہ وہ شخص  چلا گیا۔ 
	حضرت سیِّدُناعلی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم جب غلّہ پیستے تو ایک پاؤں پھیلا کر اور دوسرا سمیٹ کر بیٹھتے اورپھیلائے ہوئے پاؤں کو نہ سمیٹتے اور نہ ہی سمیٹے ہوئے کو پھیلاتے تھے حتّٰی کہ دو مُد غلّہ پیس لیتے ۔ دو مُد سے فارغ ہو کر سمیٹے ہوئے پاؤں کو پھیلاتے اور پھیلائے ہوئے کوسمیٹ لیتے اور پھردو مُد غلّہ مزید پیستے ۔ 
دنیاسے بے رغبتی: