Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
345 - 361
دشمنوں کو دیکھا تو دریامیں کود گئے اور ان کی جانب تیرنے لگے ، آپ کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا،  جب دشمنوں نے  یہ منظر دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے ۔ 
اعلیٰ درجے کی احتیاط: 
(11124)…حضرت سیِّدُنا بقیہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ایک ساتھی سے پوچھا:  مجھے بتاؤ کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی صحبت میں رہتے وقت تم پر سب سے زیادہ سخت معاملہ کون سا گزرا؟اس نے کہا: ایک دن ہم روزے کی حالت میں تھے مگر ہمارے پاس افطار کے لئے کوئی چیز نہیں تھی، میں نے ان سے عرض کی:  ابو اسحاق! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ہم بابِ رُستن پر جائیں اور وہاں فصل کاٹنے والوں  کے ساتھ مزدوری کریں؟انہوں نے فرمایا:  ٹھیک ہے ۔ لہٰذا ہم باب رُستن گئے تو ایک شخص نے آ کر مجھے ایک درہم اُجرت پر مزدور رکھ لیا، میں نے اس سے کہا:  میرے ساتھی کو بھی مزدوری پر رکھ لو۔ اس نے کہا:  تمہارا ساتھی کمزور ہے ، میں اسے مزدوری پر نہیں رکھنا چاہتا۔ میں اس سے اصرار کرتا رہا بالآخر اس نے حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو چار دانق مزدوری پر رکھ لیا، ہم روزے سے تھے ، جب شام ہوئی تو میں اس شخص سے مزدوری لے کر بازار گیا اور اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر باقی رقم صدقہ کر دی۔ اُس وقت  آپ نے فرمایا:  ہم نے اپنی اجرت تو پوری لے لی، کاش! مجھے معلوم ہوجائے کہ ہم نے اپنا کام بھی مکمل کیا  ہے یا نہیں؟ مجھے اس بات پر غصہ آ گیا، جب آپ نے مجھے غصے میں دیکھا تو فرمایا: غصہ مت کرو، تم مجھے ضمانت دے دوکہ ہم نے اس کا کام پورا کیا ہے ۔ جب میں نے یہ بات سنی تو آپ سے کھانا لے لیا اور وہ بھی صدقہ کر دیا۔ جب سے میں نے ان کی صحبت اختیار کی یہ بات مجھ پر سب سے زیادہ سخت گزری۔ 
کوئی تمہیں  فقیر نہ سمجھ لے : 
(11125)…حضرت سیِّدُنا ضمرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ہم حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھشام کے ساحلی شہرصورمیں آپ کی رہائش گاہ پر تھے ، آپ فصل کی کٹائی کیا کرتے تھے ، حضرت سیِّدُنا ابو الیاس سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن دروازے پراون کا جُبّہ پہنے بیٹھے ہوئے تھے توحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ان سے فرمایا:  سلیمان!اندر چلے جاؤ ایسا نہ ہوکہ یہاں سے گزرنے والا تمہیں فقیر سمجھ کر کچھ نہ کچھ دے جائے ۔ 
وطن کی محبت: 
(11126)…حضرت سیِّدُنا بقیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ کوفرماتے سنا: میں نے مسلسل عبادت کی تو  میں نے اپنے لئے سب سے سخت نفس کی وطن جانے کی خواہش کو پایا۔ 
(11127)…حضرت سیِّدُنا مَضاء بن عیسٰیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: میں نے وطن چھوڑنے سے زیادہ سخت  تکلیف کسی شے کے چھوڑنے میں نہ پائی۔ 
گزشتہ وآئندہ پر افسوس نہیں: 
(11128)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں: میں نے اپنے نفس سے زیادہ سخت دنیا کا کوئی معاملہ نہیں جھیلا کبھی وہ میرے خلاف ہوتا ہے اور کبھی میرے حق میں اور خدا کی قسم! میں نے اپنی خواہشات کے خلاف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مدد مانگی تو اس نے  میری مدد فرمائی اور میں نے بارگاہِ الٰہی میں نفس کے بُرے غلبے سے بچاؤ کا سوال کیا تو اس نے میرا سوال پورا کر دیا، پس خدا کی قسم! دنیاکا جو کچھ آگے آنے والا ہے اور جو کچھ پیچھے گزر چکا مجھے کسی پر کچھ افسوس نہیں۔ 
آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی عاجزی: 
(11129)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن بَشَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاربیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: میں نے ایک معاملے کے سوا کبھی اپنے ساتھیوں اور دوسرے لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالا۔ میں نے پوچھا: ابو اسحاق! وہ کون سا معاملہ تھا؟ آپ نے فرمایا: میں کٹائی کرنے والوں میں اپنی مزدوری اچھی طرح طے نہیں کر سکتا تھا لہٰذاوہ لوگ مجھے مزدوری پر رکھوا کر میرے لیے اجرت لیتے تھے ، بس میری طرف سے ان پر یہی بوجھ تھا۔ 
مٹی کھا کر گزارہ کرنے والے : 
(11130)…حضرت سیِّدُنا سعید بن حَرْبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مَکۂ مکرمہ آئے اور حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن ابو رَوَّاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ٹھہرے آپ کے پاس ہرنی کی کھال کا تھیلا تھا، آپ نے اسے کھونٹے  پر لٹکایا اور طواف کے لئے چلے گئے ، پھر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے گھر میں آئے تو پوچھا:  یہ تھیلا کس کا ہے ؟ لوگوں نے کہا: آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم کا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  شاید اس میں ملکِ شام کا کوئی پھل ہو گا، آپ نے اسے اُتار کر کھولا تووہ مٹی سے بھرا ہوا تھا، آپ نے وہ تھیلا باندھ کر واپس کھونٹے پر لٹکا دیا اور چلے گئے ، پھر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم آئے اور حضرت سیِّدُنا عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر نے انہیں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے عمل کے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا:  میں ایک مہینے سے یہی کھا رہا ہوں۔ 
(32-11131)…حضرت سیِّدُنا عطاء بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ مَکۂ مکرمہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا زادِ راہ گُم ہوگیا توآپ نے پندرہ دن مٹی پھانک کر گزارہ کیا۔ 
(34-11133)…حضرت سیِّدُنا ابو معاویہ اَسْوَدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم20 دن تک مٹی کھاتے رہے پھر فرمایا:  ابو