تو تجھے آ کر بتا دے گا ۔ بوڑھے مُؤَذِّن نے کہا: میرے خیال میں تم نے منصفانہ بات کی ہے ہمارے ساتھ چلو۔ یہ کہتے ہوئے اس نے نصرانی کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا، ہم سب گئے اور پہلے کھیت پر آئے تو دیکھا کہ فصل کو اچھی طرح کاٹا گیا اور بڑے ہی عمدہ بنڈل بنا کرترتیب سے رکھا گیا ہے ۔ پھر ہم دوسری طرف والے کھیت میں داخل ہوئے تو وہاں بھی یہی معاملہ تھا۔ بوڑھا مؤذن اور نصرانی دونوں حیران ہو گئے ، نصرانی نے بوڑھے سے کہا: ان دونوں کو دینار دے دو اور میں انہیں ایک دینار اور دیتا ہوں۔ حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ بُرا لگا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ہمیں تمہاری اضافی رقم کی حاجت نہیں، ہمیں ایک ہی دینار دو۔ اس نے آپ کو دینار دے دیا۔
حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: ابو سلیمان! یہ دینار رکھو اور جان لوکہ اب تم بیْتُ المقدس میرے ساتھ نہیں جاؤ گے یا میں عَسْقَلان لوٹ جاتا ہوں اور تم بیْتُ المقدس چلے جاؤ یا میں بیْتُ المقدس جاتا ہوں اور تم عَسْقَلان لوٹ جاؤ۔ یہ سن کر میں رونے لگا اور کہا: ابو اسحاق! مجھے آپ کے ساتھ ہی جاناہے ۔ آپ نے فرمایا: نہیں، تم میرے سامنے بار بار دراہم کا ذکر کرتے رہے ، یہ دینارلو اور اپنے گھر جاؤ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں برکت عطا فرمائے ۔ میں دینار لے کر عسقلان لوٹ آیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیتُ المقدس کی طرف روانہ ہو گئے ۔
پورا رمضان نہ سوئے :
(11117)…حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم رمضان کے مہینے میں دن کے وقت فصل کی کٹائی کرتے اور رات میں نمازیں ادا کرتے تھے ، آپ نے 30 دن یوں گزارے کہ نہ رات کو سوئے نہ دن کو۔
ہر رات لیلۃُ القدر:
(11118)…حضرت سیِّدُنا ابو یوسف یعقوب بن مُغِیرہ غَسُولی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ ہم رمضان کے مبارک مہینے میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ کھیتی کاٹنے میں مشغول تھے ، کسی نے آپ سے کہا: ابواسحاق!اگر آپ ہمیں شہر لے چلیں اور ہم آخری دس روزے وہاں رکھیں تو ہو سکتا ہے ہم لیلۃ القدر پا لیں؟ آپ نے فرمایا: یہیں رہواور اچھی طرح کام کرو تمہارے لئے ہر رات لیلۃُ القدر ہے ۔
دُگنا کا م، آدھی اجرت:
(11119)…حضرت سیِّدُنا خَلْف بن تَمِیْم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے پوچھا: آپ یہاں سرزمیْنِ شام میں کتنے عرصے سے ہیں؟ فرمایا: 24 سال سے ہوں، ایک مرتبہ مجھے کھیت کی کٹائی کرنے والے عربی جوانوں کی طرف بھیجا گیا، وہ اپنے خیمے لگائے بیٹھے تھے ، مجھے کہنے لگے : نوجوان!آؤ، ہمارے ساتھ فصل کاٹو۔ میں ان کے ساتھ فصل کاٹنے لگ گیا، وہ لوگ مجھے کٹائی کی اجرت اتنی دیا کرتے جتنی وہ اپنے کسی ماہر شخص کو دیتے تھے ، میں نے دل میں سوچا: یہ ٹھیک نہیں کہ یہ ماہر لوگ مجھے گنجائش دیں جبکہ میں اچھی طرح کٹائی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں ان سے الگ ہو جاتاحتّٰی کہ جب وہ اپنے بستروں پر جا کر سو جاتے تو میں درانتی لے کر فصل کی کٹائی کرتا اور صبح ہوتی تو میں مناسب کٹائی کر چکا ہوتا، میں انہیں آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے سنتا، وہ کہہ رہے ہوتے : کیا یہ کھیتی کل کھڑی نہ تھی؟ اسے کس نے کاٹ دیا؟ ان میں سے کچھ نے کہا: ہم نے اسے رات کے وقت فصل کاٹتے ہوئے دیکھاہے ، میں نے انہیں یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ ہم اتنے کام کی طاقت نہیں رکھتے یہ تو دن، رات کٹائی کرتا ہے جبکہ اجرت ایک آدمی کے برابر ہی لیتا ہے ۔
(11120)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکے رفیق حضرت سیِّدُنا ہارونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہم غزہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ فصلوں کی کٹائی کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: ہارون!چلواس جگہ سے دور چلتے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ ایک چھوٹا لشکرافریقہ کی طرف بھیجا گیا ہے ۔ میں نے کہا: آپ کو اس لشکر سے کیا خوف ہے ؟ فرمایا: انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ ہم سے قریب ہے اور ہم اس بات سے محفوظ نہیں رہ سکتے کہ ان میں سے کوئی ہمارے پاس آ کر یہ پوچھے : ” ہم فلاں جگہ کس طرح پہنچیں؟ “ کیا ہم اس کی رہنمائی کریں گے ؟ ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم دور رہیں، ہم انہیں دیکھیں نہ وہ ہمیں۔
ظالموں کو راستہ نہ بتایا:
(11121)…حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فِلَسْطِیْنمیں اجرت پر کام کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ آبپاشی کر رہے تھے کہ ایک لشکر مصر کو جاتے ہوئے آپ کے پاس سے گزرا، آپ نے ڈول کی رسی کاٹ کراسے کنویں میں ڈال دیا تاکہ ان لوگوں کو پانی نہ پلا سکیں، وہ لوگ آپ کے سر پر چوٹیں مارتے ہوئے راستے کے بارے میں پوچھتے رہے مگرآپ ان کے سامنے گونگے بن گئے تاکہ انہیں راستہ نہ بتانا پڑے ۔ حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: یہ ورع وپرہیزگاری نہ میرے پاس ہے نہ تمہارے پاس۔
(11122)…حضرت سیِّدُنا احمد بن داود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ یزید نامی ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ انگور کے باغ کی نگرانی کر رہے تھے ، یزید بولا: ہمیں ان انگوروں میں سے کچھ دو۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کے مالک نے اجازت نہیں دی۔ یہ سن کر اس نے اپنے چابک کو پلٹا مارا اور آپ کے سفید بالوں سے پکڑ کرآپ کے سر کو جھنجھوڑنے لگا تو آپ نے اپنا سر جھکا کر فرمایا: مارو اس سر پر جولمبے عرصے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کانافرمان ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ شخص بے بس ہو گیا۔
شجاعت وبہادری:
(11123)…حضرت سیِّدُنا اشعث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو حضرت سیِّدُنا ابرہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کسی ساتھی نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے جب