اللہ نے چاہا تو نماز کے بعد تم ہمیں اس کے پاس لے جانا، تم دیکھ رہے ہو کہ ہم دونوں بوڑھے ہیں اور کٹائی کرتے ہیں اور اچھا کام کرتے ہیں۔ اس نے کہا: جو اللہ تعالیٰ نے چاہا ہوگا۔ جب اس بوڑھے شخص نے نمازِ مغرب ادا کر لی اور ہم نے بھی اس کے ساتھ نماز پڑھ لی تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اس کے پاس گئے اور فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو اچھا بدلہ دے ! ہمیں اس نصرانی کے پاس لے چلو اور اس سے ہمارے بارے میں گفتگو کرو۔ اس نے کہا: سبحٰن اللہ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں عافیت عطا فرمائے ! ہمیں کچھ اور بھی نماز پڑھنے دو، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم خاموش ہو گئے اور پھر دونوں نے کچھ نماز پڑھی، نماز کے بعد آپ نے دوبارہ اس کے پاس جا کر کہا: چلو۔ چنانچہ،
ہم اس کے ساتھ نصرانی کے گھر پہنچے ، اس نے دروازہ کھٹکھٹا یا، نصرانی باہر آیا تو اس نے کہا: یہ دونوں بوڑھے مسافر ہیں اور فصل کی کٹائی بڑی اچھی کرتے ہیں۔ میں نے تمہارے کھیتوں کا ذکر ان سے کیا تھا، ان دونوں کھیتوں کے معاملے میں بستی والے تمہیں انکار کر چکے ہیں، مجھ امید ہے کہ یہ دونوں بوڑھے تمہاری مرضی کے مطابق فصل کاٹ دیں گے لہٰذا تم ان دونوں کو اپنے کھیت دکھا دو اور ان دونوں سے کام لے لو۔ اس نے کہا: جیسے تمہاری مرضی۔ پھرجبہم اس نصرانی کے ساتھ اس کے کھیت کی طرف جانے لگے تووہ ضعیف مُؤَذِّن اپنے گھر یا مسجد کو واپس ہونے لگا، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو تمہیں بھی اُجرت مل جائے گی۔ تووہ بھی ہمارے ساتھ ہولیا، چاندنی رات تھی، نصرانی نے اپنے کھیت دکھائے تو حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے کہا: ہم نے دیکھ لیا ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم تمہارا یہ کام اچھی طرح کریں گے ، تم ہمیں اپنی مرضی کے مطابق اُجرت دے دینا۔ اس نے کہا: بولو! کیا لوگے ؟ آپ نے فرمایا: ہم کچھ نہیں کہیں گے تم خود سوچ کر جو چاہے رکھ لو اور جو بھی اجرت دینی ہو وہ اس بوڑھے مُؤَذِّن صاحب کو دے دو وہ اس کے پاس رہے گی، اگر تم دیکھو کہ ہم نے تمہاری پسند کا کام کیا ہے تو تم مؤذن صاحب کو کہہ دینا یہ ہمیں ہمارا حق دے دیں گے اور اگر تمہیں کام پسند نہ آئے تو تمہیں اختیار ہو گااور تمہارا حق تمہارے پاس ہو گا۔ نصرانی بولا: میں تمہیں ایک دینار دوں گا۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے کہا: ہمیں منظور ہے ، تم وہ دینار بوڑھے مؤذن صاحب کو دے دو، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم آج رات ہی تمہارے کام کا آغاز کر دیں گے ۔ نصرانی نے دینار لا کر بوڑھے کو دے دیا اور ہم اس کے ساتھ مسجد آ گئے ، جب ہم عشاء کی نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے بوڑھے سے فرمایا: ہم تو بھول ہی گئے ہمارے پاس درانتیاں نہیں ہیں، اس نصرانی کے پاس یہ پیغام بھیج دو کہ وہ ہمیں دو درانتیاں دے دے ۔ بوڑھے نے کہا: میرے پاس درانتیاں ہیں میں تمہیں دے دوں گا۔ پھر اس نے کسی کواپنے گھربھیجا وہ دو نئی درانتیاں لے آیا۔
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: کھیت کی طرف چلتے ہیں۔ ہم وہاں آئے اور کھیت میں داخل ہوئے تو اس میں ایک جگہ کچھپانی بھی تھا ، آپ نے کھیت میں چار رکعت نماز پڑھی پھر فرمایا: ابو سلیمان!مسلمانوں میں ہم دونوں کتنے بُرے ہوں گے کہ ہماری رات نصرانی کے کام میں گزر رہی ہو اور ہم یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے نماز نہ پڑھ سکیں؟ میرا نہیں خیال کہ یہاں کبھی کسی نے نماز پڑھی ہو گی، ابو سلیمان! تمہیں دو میں سے کون سی بات زیادہ پسند ہے : تم یہاں اس جگہ نماز پڑھواور میں جا کر فصل کاٹتا ہوں یاتم جا کر فصل کاٹو اور میں اپنی طاقت کے مطابق نماز میں رہوں؟مجھے ان کی بات اچھی لگی اور میں نے کہا: میں یہاں نماز پڑھتا ہوں آپ جا کر فصل کاٹیے ۔ حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اپنے کپڑے اوپر چڑہا کر کمر سے باندھے اور درانتی لے کر چلے گئے ، میں نے وہیں کچھ نماز پڑھی اور پھر سر رکھ کر سو گیا ، رات کے آخری حصے میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا: ابو سلیمان! میں تمہیں سوتا ہوا دیکھ رہا ہوں اٹھو صبح ہو چکی ہے اور ابھی فجر طلوع ہورہی ہے ، میں نصرانی کا کام پورا کر چکا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے دونوں کھیتوں کی تمام فصل کاٹ لی ہے ؟ آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہماری مدد فرمائی ہے ۔ پھر ہم نے وہاں پانی سے وضو کیا اور کچھ دیر بیٹھ گئے حتّٰی کہ جب صبْحِ صادق کا وقت ہوا تو ہم نے جا کراس بوڑھے مُؤَذِّن کے ساتھ نماز ادا کی، جب اس نے سلام پھیر لیا تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس کے پاس جا کر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَيْك۔ اس نے کہا: وَ عَلَيْك السَّلَام۔
آپ نے فرمایا: ہم نصرانی کے کام سے فارغ ہو گئے ہیں اور ہم نے ساری فصل کاٹ دی ہے اور مناسب طریقے سے اس کے بنڈل بنا دیئے ہیں۔ اس نے کچھ دیر سر جھکانے کے بعد سر اُٹھایا اور کہا: شیخ! میرے خیال میں آپ نے نصرانی کو، خود کو اور اپنے ساتھی کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے کیونکہ یہ کام پانچ دن اور پانچ راتوں میں بھی مکمل نہیں ہو سکتا اور آپ کہہ رہے ہو کہ ہم نے یہ کام ایک رات میں ہی کر لیا ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: سُبْحٰنَ اللہ! جھوٹ بہت بُری شے ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں عافیت عطا فرمائے ! اگر تم مناسب سمجھو تو ہمارے ساتھاس نصرانی کے پاس چلو تاکہ وہ اپنے کھیتوں میں جائے ۔ اگر وہ دیکھے کہ کام اسی طرح ٹھیک ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمارا حق دینا تم پر لازم ہوتا ہے تو ہمارا حق دے دینا اور اگر اس میں خرابی ہو تو ہمیں ہمارا حق نہ دینا اور اگر ہم پر تاوان لازم ہو گا تو ہم تاوان بھی دیں گے ۔ بوڑھے نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر تا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لے کر ہمارے ساتھ چلو۔
ہم نصرانی کے پاس پہنچے ، وہ اپنے گھر سے نکلا تو مؤذن نے کہا: یہ بوڑھے سمجھتے ہیں کہ یہ تمہارا کام مکمل کر چکے ہیں اور انہوں نے اچھی طرح فصل کی کٹائی کر دی ہے اور مناسب طریقے سے اس کے بنڈل بنا دیئے ہیں۔ یہ سن کر نصرانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگااور اپنی مٹھی میں خاک لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اُس نے ایک مٹھی مٹی لے کر سر پر ڈالیاور اپنی داڑھی نوچتے ہوئے اس بوڑھے کو ملامت کرتے ہوئے کہنے لگا: تم نے مجھے دھوکا دیا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے فرمایا: اے نصرانی! ایسے نہ کر، ہمارے ساتھ چل اور ملامت اور بُرا بھلا کہنے میں جلدی نہ کر ، اگر تو اسے اپنی پسند کے مطابق پائے تو ہمارا حق دے ورنہ تجھے اپنے معاملے کا اختیار ہے ۔ آپکی گفتگو سن کر وہ اور زیادہ رونے اور اپنی داڑھی نوچنے لگا اور بیٹھ کر کہنے لگا: یہ تم کیا کہہ رہے ہو، تم نے مجھے اور میرے اہل وعیال کو برباد کر دیا۔ اِسی دوراناس بستی کا ایک شخص وہاں سے گزرا توحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: اس شخص کومیری طرف سے ایک درہم دے کر تفتیش کروا لو، یہ کھیت میں جا کر دیکھ آئے گا کیونکہ مجھے یہ کسان لگ رہا ہے ، اگر یہ کٹائی میں خرابی یا اچھائی دیکھے گا