Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
342 - 361
(11114)…حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دوست نے بتایا کہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ بیت المقدس سے روانہ ہوا، راستے میں ہماراتوشہ ختم ہوگیاتوہم کانٹے داردرخت کیرب اوردوسرے درختوں کی شاخیں کھانے لگے  حتّٰی کہ ہمارے حلق کُھردرے ہو گئے اور ہم مشقت میں پڑ گئے تو میں نے کہا:  ہم بستی میں جاتے ہیں ہو سکتا ہے ہمیں کوئی کام مل جائے گا، جب ہم بستی میں گئے تو وہاں ایک نہر دیکھی، آپ نے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے جبکہ میں کام تلاش کرنے لگا، میں نے لوگوں سے چار درہم کی اُجرت پر گری ہوئی دیوار کی مرمت کی ذمہ داری لے لی اور آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے جا کر کہا: میں نے کام کی ہامی بھر لی ہے ۔ چنانچہ وہ تو جوانوں کی طرح کام میں لگ  گئے جبکہ میں بوڑھے شخص کی طرح کام کرنے لگا۔ وہ لوگ ہمارے لئے ناشتہ لے کر آئے ، میں نے کھانے کے لیے جلدی سے ہاتھ دھوئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا دن طلوع ہوتے ہی یہ کھانا بھی تمہاری اجرت میں طے تھا؟ میں نے کہا:  نہیں۔ آپ نے فرمایا:  صبر کرو یہاں تک کہ تم اپنی اُجرت لے کر اس سے کھانا خریدو۔  لہٰذا جب ہم کام سے فارغ ہو ئے تو درہم لئے اور خرید کر کھانا کھایا پھر ہم وہاں سے آگے بڑھ گئے ، راستے میں ہمیں بھوک لگی توہم حِمْص شہر کی ایک بستی میں آئے ، وہاں چھوٹی نہر گزر رہی تھی، آپ نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ ہمارے ایک طرف ایک گھر تھا جس میں ایک کمرہ تھا، کمرے میں رہنے والا ہمیں  دیکھ رہا تھا کہ جب سے ہم آئے ہیں کھانا نہیں کھایا ہے لہٰذا اس نے ہمارے پاس ایک بڑا پیالہ بھیجا جس میں ثرید اوربھیگی ہوئی روٹیاں تھیں، وہ ہمارے سامنے رکھ دیا گیا، آپ نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا:  کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا:  گھر والے نے ۔ فرمایا:  اس کا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا:  فلاں بن فلاں۔ پھر ہم دونوں نے کھانا کھایا اس کے بعد ہم انطاکیہ کی ایک وادی میں پہنچے ، فصل کاٹنے کا وقت آچکا تھا لہٰذا ہم نے تقریباً 80 درہم کے عوض فصل کاٹی پھر میں نے سوچا کہ میں اس میں سے آدھی رقم(اپنا حصہ) لے کر واپس چلا جاتا ہوں کیونکہ مجھ میں ان کے ساتھ رہنے کی طاقت نہیں ہے لہٰذا میں نے کہا:  میں بیت المقدس واپس جانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے اب میرے ساتھ نہیں رہنا۔ یہ فرما کر آپ انطاکیہ میں داخل ہوئے اور ان درہموں سے دو بڑی چادریں خرید یں اور مجھ سے فرمایا:  جب تم اس بستی میں جاؤجہاں ہم نے کھانا کھایا تھا تو فلاں بن فلاں کے بارے میں معلوم کر کے اسے یہ چادریں دے دینا۔ یہ فرما کر آپ نے بقیہ درہم بھی میرے حوالے کر دیئے اور خود خالی ہاتھ ہو گئے ۔ جب میں نے وہ چادریں اس شخص کے حوالے کیں تو اس نے پوچھا:  یہ کس نے بھیجی ہیں؟ میں نے کہا:  حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ۔ اس نے کہا:  کون ابراہیم بن ادہم؟ تو میں نے اسے بتایا کہ جن دو شخصوں کے لئے کھانا بھیجا گیا تھا ان میں سے ایک حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم تھے تو اس نے وہ چادریں لے لیں اور میں بیت المقدس کی طرف روانہ ہو گیا، وہاں کچھ عرصہ رہ کر لوٹا اور اس شخص کے بارے میں معلوم کیا تو کسی نے مجھے بتایا: اس کا انتقال ہو چکا ہے اور اسے انہی دو چادروں میں کفن دیا گیا ہے ۔ 
کمزور کسانوں سے تعاون : 
(11115)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن سالِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو دیکھا جب آپ فصل کاٹتے تو آپ کے ساتھ کام کرنے والے کمزور لوگ آپ سے مدد مانگتے ، آپ ان کے حصے کی کٹائی کرتے پھر بھی اپنی جگہ میں ان سے آگے بڑھ جاتے تھے ۔ چنانچہ آپ کھیتی کاٹ لینے کے بعد اپنے ساتھیوں کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے اور خود کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے پھرجو کچھ کھیتی ساتھیوں کے سامنے بچی ہوتی اُسے کاٹنے لگ جاتے جبکہ ساتھی بیٹھے رہتے ، پھر دورکعت نماز ادا کر کے واپس اپنی جگہ آ کر فصل کاٹتے ۔ 
توکل و غَنا کی داستان: 
(11116)…حضرت سیِّدُنا علی بن محمدمُعَلِّم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمیہاں غار میں رہا کرتے تھے ، ایک دن بازار گئے ، بازار کی کشادہ جگہ میں خراسان کے ایک بوڑھے شخص کا ایک باغیچہ تھاجن کی کنیت ابو سلیمان تھی، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ان سے پوچھا:  آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا:  بیْتُ المقدس۔ آپ نے فرمایا:  ابو سلیمان! بخدا! میرا ارادہ بھی بیْتُ المقدس جانے کا ہے ۔ انہوں نے کہا:  ابو اسحاق!کیا ہم ساتھ ہی چلیں؟ آپ نے فرمایا: جی ٹھیک 
ہے ۔ پھر حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا  کے ساتھ اپنے گھر گئے اور ایک صراحی نکالی جس کا سرا بندھا ہوا تھا اور اس میں روٹیوں کے ٹکڑے تھے ، انہوں نے وہ ٹکڑے اپنے تھیلے میں رکھے اور صراحی کوواپس رکھ کر دروازہ بند کیا اور ساتھ چلنے کو کہا۔ بیان کرتے ہیں : ہم چل پڑے اور بازار سے نکلنے ہی والے تھے  کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: ابو سلیمان!میں پچھنے لگوانا چاہتا ہوں۔ پھر آپ نے پچھنے لگوائے ، جب پچھنے لگانے والا فارغ ہوگیاتو آپ نے حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ
 رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن سے فرمایا:  کیا آپ کے پاس کچھ ہے ؟انہوں نے کہا:  جی ہاں۔ پوچھا:  کیا ہے ؟تو انہوں نے ایک تھیلی نکالی جس میں اٹھارہ درہم تھے ، آپ نے فرمایا:  یہ پچھنے لگانے والے کو دے دو۔ میں نے کہا:  ابو اسحاق! کیا یہ تمام درہم اِسے دے دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے کہنے کے مطابق سارے دے دو۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی عادت تھی کہ جو کہہ دیتے اس سے پھرتے نہیں تھے ۔ چنانچہ میں نے وہ درہم دے دیئے اور ہم وہاں سے نکل گئے ، جب ہم نے ایک یا دو میل کا فاصلہ طے کر لیا تو میں نے کہا:  ابو اسحاق! وہ درہم ہم نے اس لیے اپنے پاس رکھے تھے کہ اپنے بچوں اور گھر والوں کے لئے بیْتُ المقدس سے کچھ خرید کر لے جائیں گے مگر آپ کے کہنے پر ہم نے وہ سارے درہم پچھنے لگانے والے کو دے دیئے ، میں آپ سے گھبرا گیا تھا، بخدا! ان دراہم  کے علاوہ میرے پاس اور کوئی شے نہیں۔ مگرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے ایک مرتبہ پھردراہم کاذکر کیامگر آپ بدستور خاموش رہے اور جواب نہ دیا۔ 
	 ہمیں راستے کی ایک جانب بستی دکھائی دی تو آپ نے فرمایا:  ابو سلیمان! میرے خیال میں اس بستی میں رات گزارنی چاہئے ۔ مجھے یہ رائے پسند آئی لہٰذا ہم اس کی طرف چل پڑے جب ہم بستی میں داخل ہوئے تو سورج ڈوب چکا تھا اورمُؤَذِّن اذان دینے کے ارادے سے بیٹھا ہوا تھا، ہم اسے سلام کر کے مسجد میں داخل ہو گئے ، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے پوچھا:  تم کون ہو؟ کیا تم یہیں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا:  جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:  ہمیں یہاں کی ایسی فصل کے بارے میں بتاؤ جسے ہم کاٹ سکیں۔ حالانکہ لوگ فصلوںکی کٹائی کر چکے تھے ، بوڑھے مُؤَذِّن نے کہا:  بستی والے کٹائی کر چکے ہیں اور میری معلومات کے مطابق ایک نصرانی کے دو بڑے کھیت ہی باقی رہتے ہیں۔ آپ نے اس سے فرمایا:  اگر