Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
341 - 361
مرتبہ باغ کا مالک اپنے دوستوں کے ساتھ آیا اور بولا: ہمارے کھانے کے لئے انگور لے آؤ۔ آپ نے اسے خافونی نامی انگور لاکر دیئے ، تو وہ کھٹے نکلے ۔ وہ بولا:  کیا تم نے ان انگوروں میں سے کچھ کھایا ہے ؟ آپ نے کہا: نہ میں نے ان میں سے کچھ کھایا ہے اور نہ ہی اوروں میں سے ۔ وہ بولا:  کیوں نہیں کھایا؟ آپ نے کہا:  کیونکہ آپ نے مجھے کسی انگور کا مالک نہیں بنایا۔ وہ بولا: اچھا مجھے انار لا  دو۔ آپ نے اسے انار لا کر دیا تو وہ بھی کھٹا نکلا، مالک بولا:  کیا تم نے اس میں سے کچھ کھایا ہے ؟ آپ نے کہا:  نہ میں نے ان میں سے کچھ کھایا ہے اور نہ ہی اوروں میں سے ، میں نے اسے خوب لال سرخ دیکھا توسمجھا کہ یہ میٹھا ہو گا۔ مالک بولا:  اگر تم ابراہیم بن ادہم ہو تو یہ بات غلط نہیں۔ جب آپ نے دیکھا کہ لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں تو آپ اپنی اُجرت لئے بغیر ہی وہاں سے روانہ ہو گئے ۔ 
کام میں ذمہ داری کا مظاہرہ:  
(11109)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن سالِم عکِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے ، آپ نے عسقلان میں ایک نصرانی کے باغ کی دیکھ بھال کا کام کیا اس باغ میں انواع و اقسام کے درخت تھے ، ایک مرتبہ نصرانی کی بیوی بولی:  سُنیے !اس شخص کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا، میرا گمان ہے کہ یہ وہی نیک شخص ہے جس کا لوگوں میں چرچا ہے ۔ اس کے شوہر نے کہا:  تو نے اسے کیسے پہچانا؟ وہ بولی: میں انہیں صبح کا کھانا دیتی ہوں تو رات کو بھی ان کے پاس موجود پاتی ہوں اور رات کا کھانا دوں تو صبح تک ان کے پاس موجود ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہانتہائی ذمہ داری سے کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ 
(11110)…حضرت سیِّدُنا فضیل بن سالم عَکِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ پہرہ دینے کی غرض سے عکّہ قبیلے کی دیوار پر چڑھاآپ دو کنگوروں کے درمیان دیوار پر یوں بیٹھ گئے جیسے کوئی اپنی سواری پر بیٹھتا ہے پھر مجھے ڈانٹنے والے کے  انداز میں لیٹنے کو کہا۔ میں لیٹ تو گیا مگر مجھے نیند نہیں آئی، پھر میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگا تاکہ آپ کے منہ سے نکلنے والے کلمات سن سکوں مگر مجھے آپ کے پیٹ سے شہد کی مکھی کی طرح بھنبھناہٹ ہی سنائی دی۔ آپ جمعہ کی رات پہرہ نہیں دیا کرتے تھے ، میں نے عرض کی:  آپ جمعے کی رات پہرہ کیوں نہیں دیتے ؟ فرمایا:  لوگ شَبِ جمعہ کی فضیلت پانے میں رغبت رکھتے ہیں لہٰذا وہ اپنا پہرہ خود ہی دیتے ہیں پس جب وہ اپنا پہرہ خود دیتے ہیں تو ہم سو جاتے ہیں اور جب وہ سو رہے ہوتے ہیں تو ہم پہرہ دیتے ہیں۔ 
کام کاج میں لوگوں کی مدد: 
(11111)…حضرت سیِّدُنا سہل بن بِشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم میرے پاس سے گزرے ، میں سوکھی لکڑیوں کے ٹکڑے کررہا تھا اور اس کام نے مجھے تھکا دیا تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا:  اے محمد!کیا اس کام نے آپ کو تھکا دیا ہے ؟ میں نے کہا:  جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:  تو آپ یہ  کام ہمیں کرنے کا حکم دیجئے ؟ میں نے کہا:  ٹھیک ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ ہمیں کلہاڑی دیں گے ؟ میں نے کہا:  جی ہاں۔ پھر آپ نے لکڑیاں اپنی گردن پر رکھیں اور کلہاڑی لے کر چلے گئے ۔ میں اسی حال پر تھا کہ اچانک دروازہ کھلا کیا دیکھتا ہوں کہ لکڑیاں دروازے پرٹکڑے ٹکڑے ہوئی پڑی ہیں اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کلہاڑی رکھی، دروازہ بندکیا اور روانہ ہو گئے ۔ 
	 حضرت سیِّدُنا سہل بن بِشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو لوگوں کے گھروں کے سامنے کھڑے ہو کر باآوازِ بلند فرماتے : کیا کوئی غلّہ پسوانا چاہتا ہے ؟تو کوئی عورت یا بوڑھا ٹوکری نکال کر  رکھ دیتا، آپ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان چکی رکھ لیتے اوراس وقت تک نہ سوتے جب تک وہ  غلہ بلا اجرت پیس کر نہ دے دیتے ، پھر اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ آتے ۔ 
(11112)…حضرت سیِّدُنا علی بن بَکَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم زمین سے خوشے اُٹھانے کے بجائے کھیت کی کٹائی کرنا پسند کرتے تھا جبکہ حضرت سیِّدُنا سلیمان خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زمین سے خوشے اٹھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے اور اُٹھا لیا کرتے تھے ، دونوں حضرات تقریباً ہم عمر تھے ، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم زیادہ فقیہ تھے اور عرب کے قبیلے بنو عجل سے تعلق رکھتے تھے اور اعلیٰ حسب والے تھے ، آپ جب کوئی کام کر لیتے تو رجزیہ نظم پڑھتے اور فرماتے : 
اِتَّخِذِ اللهَ صَاحِبَا		وَدَعِ النَّاسَ جَانِبَا
ترجمہ:  لوگوں کو ایک طرف کر کے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو دوست بنا لو۔
	آپ سردی کے موسم میں چمڑے کی عبا(جُبّہ) پہنتے جس کے نیچے کوئی قمیص نہ ہوتی تھی اس کے علاوہ موزے  اور عمامہ بھی نہیں پہنتے تھے اور گرمیوں میں چار درہم مالیت والے دو کپڑے پہنتے جن میں سے ایک کو تہبند بنا لیتے اور دوسرا اوڑھ لیتے تھے ، سفرو حضر ہر حال میں روزے سے ہوتے ، رات کو نہ سوتے اور غور وفکر  میں مشغول رہتے ، جب کھیتی کی کٹائی سے فارغ ہوتے تو اپنے ساتھی کو بھیجتے وہ کھیت کے مالک سے حساب کتاب کرتا پھر وہ درہم لے کر آتا تو آپ اسے ہاتھ تک نہ لگاتے بلکہ اپنے ساتھیوں سے فرماتے :  ” یہ درہم لے جاؤ اور جو دل چاہے کھاؤ۔  “  اگر کھیت  کی کٹائی کا  کام نہ ہوتا تو باغات اور کھیتوں کی دیکھ بھال پر مزدوری کرتے تھے اور آپ بیٹھ کر ایک ہی ہاتھ سے دو مد گندم پیستے تھے ۔ حضرت سیِّدُناابراہیم بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  دو مُد سے مراد دو قفیز ہیں(مد اور قفیز دو پیمانوں کے نام ہیں)۔ 
رزقِ حلال کے لئے ہجرت: 
(11113)…حضرت سیِّدُنا خلف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے عرض کی:  آپ ملکِ شام میں کتنے عرصے سے قیام پزیر ہیں؟ آپ نے فرمایا:  24 سال سے ، میں یہاں جہاد کے لئے آیا تھانہ ہی سرحد کی حفاظت کے لیے ۔ میں نے پوچھا:  پھر آپ کس لئے آئے تھے ؟ فرمایا:  حلال روٹی سے پیٹ بھرنے کے لئے ۔ 
آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَہکے ساتھ سفر کی روداد: