ہمارے نزدیک بلند رتبہ تو وہ شخص ہے جو یہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے کہ جو دو روٹیاں وہ اپنے پیٹ میں داخل کر تا ہے وہ حلال کی ہیں یا نہیں؟پھر فرمایا: اے شقیق!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فقرا پر کیسا انعام فرمایا ہے کہ بروزِ قیامت وہ ان سے زکوٰۃ، حج، جہاد اور صلہ رحمی کے بارے میں کوئی حساب نہیں لے گا، سوال تو ان بے چاروں یعنی مالداروں سے ہو گا۔
ایک رات ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کے ساتھ:
(11103)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے خادم حضرت سیِّدُناابراہیم بن بَشَّار خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کا بیان ہے کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ ایک رات ایسی گزاری کہ ہمارے پاس روزہ افطار کرنے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی اور نہ ہم کوئی اور تدبیر کر سکتے تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مجھے پریشان و غمزدہ دیکھا تو فرمایا: اے ابراہیم بن بشار! اللہتعالیٰ نے دنیا وآخرت کی راحتوں اور نعمتوں میں سے فقرا اور مساکین کو کیسا انعام دیا ہے ، بروز قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ زکوٰۃ، حج، صدقہ، صلہ رحمی اور غمخواری کے بارے میں ان کا محاسبہ نہیں فرمائے گا بلکہ ان چیزوں کے بارے میں سوال اور محاسبہ تو ان بے چاروں سے ہو گا جو دنیا میں مالدار ہیں جبکہ آخرت میں فقیر ہوں گے ، دنیا میں عزت دار ہیں جبکہ قیامت کے دن ذلیل وخوار ہوں گے ، غم کرو نہ پریشان ہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رزق کی ضمانت ہے عنقریب وہ تمہارے پاس آ جائے گا، خدا کی قسم! بادشاہ اور مالدار تو ہم ہیں، ہم ہی تو ہیں جنہیں دنیا میں ہی بہت جلد راحت وسرور میسر ہے ، جب ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں ہوں تو ہمیں کچھ پروا نہیں ہوتی کہ ہم کس حال میں صبح وشام کر رہے ہیں۔ پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ، میں بھی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص ہمارے پاس آٹھ روٹیاں اور بہت ساری کھجوریں لے کر آیا اور ہمارے سامنے رکھ کر کہنے لگا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ، اسے کھا لیجئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے سلام پھیرا اور فرمایا: اے غمزدہ! کھانا کھا ؤ۔ اتنے میں ایک سائل آ گیا اور کہنے لگا: مجھے کچھ کھلاؤ۔ آپ نے تین روٹیاں اور کچھ کھجوریں سائل کو دے دیں اور تین روٹیاں مجھے عطافرمائیں جبکہ خود دو روٹیاں کھائیں اور فرمایا: غمخواری وبھلائی اہْلِ ایمان کے اخلاق میں سے ہے ۔
اصل راحت تو اللہوالوں کی ہے :
(11104)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن بشار رطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ میں، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم، حضرت سیِّدُنا ابو یوسف غَسولی اور حضرت سیِّدُنا ابوعبْدُاللہ سنجاری رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اسکندریہ جا رہے تھے ، جب ہم نہرِاردن سے گزرے تو آرام کی خاطر بیٹھ گئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خشک روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہمارے سامنے رکھ دیئے ، ہم نے وہ کھائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کیا، ہم میں سے ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکو پانی پلانے کے لئے کھڑا ہوا مگر آپ اس سے پہلے نہر میں داخل ہوگئے حتّٰی کہ پانی آپ کے گھٹنوں تک پہنچ گیا پھر آپ نے بِسْمِ اللہ پڑھ کر پانی پیا اس کے بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہا پھر آپ نے دوسری مرتبہ بھی بِسْمِ اللہ کہتے ہوئے پانی پیا اورپھر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہہ کر نہر سے باہر تشریف لائے اور پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ” اے ابو یوسف! اگر بادشاہ اور ان کے شہزادے ہماری نعمتوں اور لذتوں کو جان لیں تو وہ ہماری کم تھکاوٹ اور زندگی کے مزے دیکھ کر ہم سے اپنی تلواروں کے ساتھ ساری زندگی لڑتے رہیں۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا جعفررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے عرض کی: ابو اسحاق! لوگ راحت وسکون اور نعمتوں کی چاہت میں سیدھے راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ میری اس بات پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرا دیئے اورفرمایا: تم نے ایسی باتیں کہاں سے سیکھ لیں؟
جنت میں عمدہ مقام کے طالب:
(11105)…عباس بن فضل مَرعَشی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن ابو رَوَّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد سے میری ملاقات ہوئی تو ہم دونوں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے بارے میں گفتگو کرنے لگے ، حضرت سیِّدُنا عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پر رحم فرمائے !میں نے انہیں خراسان میں دیکھا کہ جب آپ سوار ہوتے تو سامنے بیس بیس خدمت گارموجود ہوتے تھے لیکن آپ نے وسط جنت کاعمدہ مقام طلب کیا۔
بُزرگوں کی دعاسے حسن ظن:
(11106)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن شمَاَّس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (میرے والد)حضرت سیِّدُنا ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اچھے انسان تھے ، مَکۂ مکرمہ میں ان کے ہاں ابراہیم کی(یعنی میری) ولادت ہوئی توانہوں نے ایک کپڑے میں اسے اُٹھایا اور اس وقت کے عبادت گزاروں اور زاہدوں کو تلاش کر کے ان سے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس بچے کے لئے دعا کیجئے ۔ لگتا ہے کہ ابراہیم کے حق میں ان میں سے کسی کی دعا قبول ہو گئی ہے ۔
(11107)…حضرت سیِّدُنا خَلَف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: میں ایک ساحل پر رہتا تھا، لوگ مجھ سے خدمت لیتے اور اپنے کاموں کے لئے بھیجا کرتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بچے میرے پیچھے پڑ جاتے یہاں تک کہ میری پنڈلیوں پر پتھر مارتے ، ایک مرتبہ میرے چند ساتھی آ گئے تو انہوں نے مجھے گھیر لیا اور میری عزت کی، جب وہاں کے لوگوں نے انہیں میری عزت کرتے دیکھا تو وہ بھی میری عزت کرنے لگے ، کاش! تم مجھے بچوں کے ہاتھوں پتھر کھاتا دیکھتے ، ان کا پتھر مارنا میرے ساتھیوں کے مجھے گھیر لینے سے زیادہ میٹھا لگتا تھا۔
تقوٰی سے شخصیت کی پہچان:
(11108)…حضرت سیِّدُنا رواد بن جراح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمغزّہ کے علاقے میں انگوروں کی باغبانی کیا کرتے تھے کہ ایک