انہیں پا لیا، آپ کواسرار ورموز کی راہوں پر ڈالا گیا تو آپ عبادت گزار بن گئے ، آپ ہاتھ سے نکل جانے والی اور ہر اعلیٰ وگھٹیاشے سے بے نیاز تھے ، حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شریعت آپ کا راستہ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسند آپ کا مرجع تھا، آپ جوڑنے والے مبارک شخص کو پسند کرتے تھے اور فتنہ پرور جھگڑالو کو ناپسند کرتے تھے ۔
منقول ہے کہدوسروں کی عزت کرنے ، خود کو خداعَزَّ وَجَلَّ کے حوالے کر دینے ، ہر وقت نگاہ باری تعالیٰ کی طرف رکھنے اور بندوں کے ساتھ نرمی رکھنے کا نام تصوُّف ہے ۔
باشاہی سے درویشی تک:
(100-11099)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے خادم حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن بَشَّار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی: ابو اسحاق!آپ کے معاملے کی ابتدا کیسی تھی یہاں تک کہ آپ اس بلند مقام تک پہنچ گئے ۔ آپ نے فرمایا: اس کے علاوہ کوئی اور بات کرناتمہارے لئے بہتر ہے ۔ میں نے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ! آپ کا فرمان بجا ہے لیکن مجھے اس بارے میں بتائیے شایدکسی دن اس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں نفع دے ۔ میں نے آپ سے دوسری بار سوال کیا تو آپ نے فرمایا: تجھ پر افسوس!ذِکْرُاللہ میں مشغول ہو جاؤ۔ میں نے آپ سے تیسری بارپوچھااور کہا: ابو اسحاق، کاش! آپ بتا دیتے ۔ آپ نے فرمایا: میرے والدکا تعلق بلخ سے تھا اور وہ خراسان کے بادشاہ اور بہت مال و دولت والے تھے ، ہمیں شکار کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا اور میرے ساتھ میرا کتا بھی تھا، میں شکار کو تلاش کر رہا تھا کہ اسی دوران ایک خرگوش یا لومڑی نے چھلانگ ماری، میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی تو مجھے اپنے پیچھے سے یہ آوازسنائی دی: ” تجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ “ یہ سن کر میں رُکا اور اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگا لیکن مجھے کوئی نظرنہیں آیا، میں نے کہا: ابلیس پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہو۔ میں نے پھر اپنے گھوڑے کو حرکت دی تو اس سے زیادہ اونچی آواز سنی کہ ” اے ابراہیم! تجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیااور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ “ میں رُک گیا اور اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگا لیکن مجھے کوئی دکھائی نہیں دیا، میں نے کہا: ابلیس پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہو۔ پھر میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی تو میری زین کے اُبھرے ہوئے کنارے سے آواز آئی: ” اے ابراہیم! تجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیااور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ “ میں رُکا اور کہا: میں باز آیا، میں باز آیا، میرے پاس تمام جہانوں کے ربّ کی طرف سے ڈرسنانے والا آیا ہے ۔ خدا کی قسم!میرے رب کی حفاظت کی بدولت میں نے اس دن کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کی۔ پھر میں واپس اپنے گھر آیا گھوڑے سے اترا اور پھر اپنے والد کے چرواہوں کے پاس گیا ان میں سے ایک سے جبّہ اور چادر لے کر اپنے کپڑے اسے دے دیئے اور عراق کا رُخ کیا اورمختلف راستوں سے ہوتا ہوا عراق پہنچ گیا وہاں چند روز کام کیامگر مجھے کوئی خالص حلال چیز نہ ملی تو میں نے بعض مشائخ سے حلال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اگر تم حلال چاہتے ہو تو شام کے شہروں میں چلے جاؤ۔ لہٰذا میں نے شام کے شہروں کی راہ لی اور منصورہ نامی شہر چلا گیااسے مِصِّیْصَہبھی کہاجاتاہے ، میں نے وہاں چند روز کام کیا لیکن وہاں بھی خالص حلال چیزنہ پائی تو میں نے بعض مشائخ سے پوچھا تو انہوں نے مجھے فرمایا: اگر تم خالص حلال چاہتے ہو تو طَرسُوس چلے جاؤ۔ کیونکہ وہاں جائزاشیاء اور کثیر روزگارہے ، میں نے طَرسُوس کا رُخ کیا اور وہاں کچھ دن کام کیا۔ میں باغات کی دیکھ بھال کرتااور کھیتی کاٹتا تھا۔
ایک دفعہ میں بابُ الْبَحْر (جگہ کا نام)میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے اپنے باغ کی دیکھ بھال کرنے کی بات طے کی۔ چنانچہ میں کئی باغوں میں کام کرتا ، ایک مرتبہ باغ کا نگران اپنے ساتھیوں سمیت آیا اور اپنی نشست پر آکر بیٹھتے ہی بلند آواز سے پکارا: اوباغبان!۔ میں نے کہا: میں یہاں ہوں۔ اس نے کہا: جاؤ اور تمہاری نظر میں جو بڑے اور عمدہ انار ہوں وہ ہمارے لئے لے آؤ۔ میں گیا اور بڑے بڑے انار لے آیا، نگران نے ایک انار لے کر چیرا تو اسے کھٹا پایا تو مجھ سے کہنے لگا: باغبان! تم ہمارے باغ میں اتنے عرصے سے کام کر رہے ہو، ہمارے پھل اور انار کھاتے رہے ہواس کے باوجود تمہیں کھٹے میٹھے کی پہچان نہیں ہے ؟ میں نے کہا: بخدا! میں نے تمہارے پھلوں میں سے کچھ نہیں کھایا اور نہ ہی مجھے کھٹے میٹھے کی پہچان ہے ۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: کیا تم اس کی گفتگو نہیں سن رہے ؟ پھر مجھ سے کہنے لگا: کیا تو خودکو ابراہیم بن ادہم سمجھتا ہے ؟ بس اتنا کہنے کے بعد وہ چلا گیا ۔ دوسرے دن جب اس نے مسجد میں لوگوں کو میرا یہ واقعہ بتایا تو کچھ لوگوں نے مجھے پہچان لیا پھر وہ بہت سارے لوگوں کے ساتھ میری طرف آنے لگا تو انہیں دیکھ کر میں ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا اور لوگ باغ میں داخل ہونے لگے میں اُس بھیڑ میں شامل ہوکر وہاں سے نکل گیا۔ یہ میرا ابتدائی معاملہ اور طَرسُوس سے نکل کر رِمال کے شہروں کی طرف آنے کا واقعہ تھا ۔
حضرت سیِّدُنا یونس بن سُلَیمان بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس قصے میں مزید یہ بھی بیان کیا کہ’’جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے گھوڑے کوایڑ لگا نے لگے تو اچانک آپ نے اوپر سے ایک آواز سنی: اے ابراہیم!یہ کیا بے کار کام میں پڑے ہو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف لوٹنا نہیں ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو اور محتاجی والے دن کے لئے زادِ راہ لو۔ “ یہ سن کر آپ گھوڑے سے اُترے اور دنیا چھوڑ کر آخرت کے لیے عمل میں مشغول ہو گئے ۔
(11101)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم خراسان سے 60نوجوانوں کے ہمراہ حصولِ علم کی خاطر نکلے میرے سوا ان میں سے کوئی بھی تعلیم مکمل نہ کرسکا۔
حلال روزی کا اہتمام:
(11102)…حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے ملکِ شام میں ملاقات کی تو ان سے کہا: اے ابراہیم! کیا آپ نے خُراسان کو چھوڑ دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: مجھے جینے کا مزا ملک شام میں ہی ملا ہے ۔ میں اپنے دین کی خاطر ایک چوٹی سے دوسری چوٹی اور ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ فرار ہوتا رہتا ہوں، مجھے دیکھنے والوں میں سے کوئی مجھے دیوانہ کہتا ہے تو کوئی سامان اٹھانے والا قُلی کہتا ہے ۔ پھر فرمایا: اے شقیق! ہمارے نزدیک حج یا جہاد کے سبب فضیلت پانے والا بلند مرتبہ نہیں بلکہ