Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
338 - 361
کی طرح اپنی کلائیاں نہ بچھائے ۔ (1)
اہل جنت کا کھانا پینا: 
(11089)…حضرت سیِّدُنا زیدبن اَرقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکرعرض گزارہوا: اے ابوالقاسم!کیاآپ یہ گمان کرتے ہیں کہ جنتی جنت میں کھائیں اورپئیں گے ؟ ارشاد فرمایا: ہاں اس ذات کی قسم جس کے قَبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! جنتیوں میں سے ہر ایک کو 100مردوں کے برابرکھانے ، پینے اورجماع کی طاقت اورشہوت عطاکی جائے گی۔ وہ بولا: توجوشخص کھاتاہے اسے (پاخانہ اور پیشاب) کی حاجت بھی ہوتی ہے جبکہ جنت تو پاکیزہ جگہ ہے اس میں کوئی گندگی نہیں؟ ارشاد فرمایا:  ان کی حاجت پسینہ ہو گا جو ان(کی جلدوں )سے کستوری کی طرح مہکتا ہوا نکلے گا تو پیٹ خالی ہو جائے گا۔ (2)
(11090)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرورِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حج و عمرہ کا تلبیہ ایک ساتھ کہتے ہوئے سنا ہے ۔ (3)
(11091)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لعاب شریف اپنے کپڑے میں ڈالا۔ (4)
(11092)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور نبیّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا نہ چاہتے تھے مگر دیکھ لیتے تھے اور آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا نہ چاہتے تھے مگر دیکھ لیتے تھے ۔ (یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آرام بھی فرماتے اور نماز بھی ادا کرتے ۔ )(5)
کریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کریمانہ زندگی: 
(11093)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی اپنی زوجہ یا خادم کو نہیں مارا اور راہِ خدا میں جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا نیز آپ نے اپنی ذات کو پہنچنے والی تکلیف کا کبھی بدلہ نہیں لیا البتہ! جب حُدودُ اللہ کو پامال کیا جاتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے بدلہ لیتے ۔ آپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جب بھی دو چیزوں میں اختیار دیا جاتا توان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر اس میں کوئی گناہ ہوتا تو سب لوگوں سے زیادہ آپ اس سے دور رہتے ۔ (6)
(11094)…اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ خلق کے رہبر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخربوزہ کھجور کے ساتھ تناول فرماتے تھے ۔ (7)
زیارتِ قبور کی اجازت: 
(11095)…حضرت سیِّدُنا ابو بردہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ تمام نبیوں کے سرور، محبوب ربّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو اپنی والدہ کی زیارتِ قبر  کا اذن دے دیا گیا ہے ۔ (8)
(11096)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ دوجہاں کے تاجور، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِذَا ارْتَفَعَتِ النُّجُوْمُ ارْتَفَعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ كُلِّ بَلَدٍ یعنی جب ثریا ستارے طلوع ہوتے ہیں تو ہر شہر  سے آفت اُٹھ جاتی ہے ۔ (9)
(11097)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ انہوں نے  مُعَلِّم کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے سنا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  ” لَبَّيْكَ عَمْرَةً وَحَجَّةً مَعًایعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں ایک ساتھ عمرہ اور حج کے لئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔  “ (10)
(98110)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایک ساتھ حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ 
٭…٭…٭…٭
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم
	ان بُزرگان دین میں سے ایک انتہائی محتاط ودور اندیش اور پختہ ارادے والے حضرت سیِّدُناابو اسحاق  ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بھی ہیں، آپ کو معرفتوں پر مدد ملی تو آپ نے 


________________________________
1 -   ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة، باب الاعتدال فی السجود، ۱ / ۴۸۱، حدیث: ۸۹۱
2 -   معجم اوسط، ۱ / ۴۶۷، حدیث: ۱۷۲۲، دون قولہ :  والجنة طیبة لیس فیھا اذی
3 -   مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۳۶۶، حدیث: ۱۲۸۹۷، بتغیرٍ قلیل
4 -   ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة، باب المصلی یتنخم، ۱ / ۵۳۹، حدیث: ۱۰۲۴
5 -   نسائی، کتاب قیام اللیل، باب ذکر صلاة رسول اللّٰه صلی الله علیه وسلم  باللیل، ص۲۸۴، حدیث: ۱۶۲۴
6 -   معجم اوسط، ۵ / ۳۷۳، حدیث: ۷۶۵۱
7 -   ابو داود، کتاب الاطعمة، باب فی الجمع بین لونین فی الاکل، ۳ / ۵۰۸، حدیث: ۳۸۳۶
8 -   ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الرخصة فی زیارة القبور، ۲ / ۳۳۰، حدیث: ۱۰۵۶
9 -   طب النبوی لابی نعیم، باب توقی الحركة    الخ ، جزء اول، ص۲۵۰، حدیث: ۱۴۰
10 -   ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب الاحرام، ۳ / ۴۲۰، حدیث: ۲۹۱۷ ، بتغیرقلیل