رکھتے ہیں۔ (1)
اُمَّت کے لئے خاص دعا:
(11081)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبیّ رحمت، شفیْعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کی خصوصاً ایک مقبول دعا ہے اور میں نے اپنی وہ دعا اپنی اُمَّت کی شفاعت کے لئے بچا رکھی ہے ۔ (2)
(11082)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ رحمتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: نماز کو مختصر رکھا کرو کیونکہ تمہارے پیچھے کمزور، بوڑھے اورحاجت والے بھی ہوتے ہیں۔ (3)
ممنوع سرگوشی:
(84-11083)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ معلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین افرادہو تواپنے ساتھیکو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اسے غمگین کرے گی(4)۔ (5)
سب سے زیادہ خسارہ پانے والے :
(11085)…حضرت سیِّدُنا ابو ذرغفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکَعْبَۃُاللہ کے سائے میں تشریف فرما تھے اور ارشاد فرما رہے تھے : ربِّ کعبہ کی قسم!وہ سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں۔ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کون لوگ ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ زیادہ مال والے ہیں(پھر دائیں، بائیں، آگے اورپیچھے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: )سوائے ان کے جو اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قَبضۂ قدرت میں میری جان ہے !جو بھی ایسے اونٹ یا گائے یا بکریاں چھوڑ کر مرا جن کی اس نے زکوٰۃ نہ دی تھی تویہ جانورقیامت کے دن پہلے سے زیادہ بڑے اورموٹے ہوکرآئیں گے اوراپنے مالک کو سینگوں سے ماریں گے اورکُھروں سے روندڈالیں گے اور جب ایک گزرے گا تو پہلے والا پھر روندنے کے لئے آجائے گا اور لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک اسے یونہی عذاب ہوتا رہے گا۔ (6)
تقدیر ہمیشہ غالب رہتی ہے :
(11086)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ صادق ومَصْدُوْق نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہرایک کا مادۂ پیدائش 40دن یا 40رات اپنی ماں کے پیٹ میں جمع رکھاجاتا ہے پھر اتنے ہی دن وہ جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے ، پھر اتنے ہی وقت تک وہ گوشت کا لوتھڑا بن کر رہتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے ، پھراسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے کہ ” وہ اس کاعمل، موت، رزق اور خوش بخت یا بد بخت ہونا لکھ دے ۔ “ اور بے شک کوئی شخص جنتیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ جہنمیوں والے کام کرتے ہوئے جہنم میں چلا جاتا ہے اور کوئی شخص جہنمیوں والے کام کرتا ہے حتّٰی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر تقدیر غالب آتی ہے اور وہ جنتیوں والے اعمال کرتا ہوا جنت میں چلا جاتا ہے ۔ (7)
افضل مسلمان:
(11087)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے میل جول رکھے اوراُن کے تکلیف دینے پر صبر کرے وہ اُس مومن سے افضل ہے جولوگوں سے میل جول رکھے نہ اُن کے تکلیف پہنچا نے پرصبر کرے ۔ (8)
سجدے میں اعتدال:
(11088)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مُعَلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے اورکُتّے
________________________________
1 - معجم اوسط، ۱ / ۴۶۹، حدیث: ۱۷۲۹
2 - مسلم، کتاب الایمان، باب اختباء النبی صلی الله عليه وسلم دعوة الشفاعة لامته، ص۱۲۸، حدیث: ۱۹۸
3 - مسند امام احمد، مسند ابی ھریرة، ۳ / ۶۱۶، حدیث: ۱۰۷۹۷
4 - خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ عمل جائز ہے لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اپنے گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا حاضر ہوئیں حضور نے انہیں مرحبا کہا اور ان سے کچھ سرگوشی فرمائی۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۵۵۷)
5 - مسلم، کتاب السلام، باب تحريم مناجاة الاثنين دون الثالث بغير رضاه، ص۱۲۰۱، حدیث: ۲۱۸۴
6 - مسلم، کتاب الزکوة، باب تغليظ عقوبة من لا يؤدی الزكاة، ص۴۹۵، حدیث: ۹۹۰
7 - بخاری، کتاب التوحید، باب قوله تعالى : ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا المرسلين ، ۴ / ۵۶۰، حدیث: ۷۴۵۴
مسلم، کتاب القدر، باب كيفية خلق الآدمی الخ ، ص۱۴۲۱، حدیث: ۲۶۴۳
8 - سنن کبری للبیھقی، آداب القاضی، باب فضل المؤمن القوی الذی الخ ، ۱۰ / ۱۵۳، حدیث: ۲۰۱۷۴