Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
336 - 361
سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
	حضرت سیِّدُنا داود بن نُصَیْر طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تابعین کی ایک جماعت سے احادیث روایت کی ہیں جن میں حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عُمَیْر، حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن ابو خالد، حضرت سیِّدُنا امام اعمش، حضرت سیِّدُنا حُمَید طویل رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی شامل ہیں اور آپ کی اکثر روایات حضرت سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ہیں نیز حضرت سیِّدُنامِصْعَب بن مِقْدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سب سے زیادہ روایات آپ سے مروی ہیں۔ 
	حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن عُلَیَّہ اور حضرت سیِّدُنا زافر بن سلیمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا آپ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ کا وصال   ۱۶۶؁ ھ اور ایک قول کے مطابق   ۱۶۵؁ھ میں ہوا۔ 
(11075)…حضرت سیِّدُناجابر بن سَمُرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ کوفہ کے کچھ لوگ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت حاضر ہوئے اورحضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شکایت کرتے ہوئے بولے :  خدا کی قسم! سعد بن ابی وقاص اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے ۔ آپ نے فرمایا:  ابو اسحاق (یعنی  حضرت سعد) کو میرے پاس بُلاؤ۔ جب وہ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ان لوگوں کا گمان ہے کہ آپ انہیں اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے ؟ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: میں تو انہیں رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نماز پڑھاتا ہوں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، پہلی دو رکعتوں میں قیام کو طویل کرتا ہوں اور آخری دو میں تخفیف کرتا ہوں۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ابو اسحاق!میرا آپ کے بارے میں یہی خیال تھا۔ 
بلا ضرورت سوال کی مذمت: 
(11076)…حضرت سیِّدُنا زید بن عُقْبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حَجاج بن یوسف نے کہا:  آپ مجھ سے سوال کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے کہا:  حضرت سیِّدُنا سَمُرہ بن جُنْدب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” سوال ایک طرح کی خراش ہے کہ آدمی اس سے اپنا منہ نوچتا ہے ، جو چاہے اسے اپنے منہ پر باقی رکھے اورجو چاہے نہ رکھے سوائے یہ کہ آدمی صاحبِ سلطنت سے اپنا حق مانگے یا ایسے امر میں سوال کرے کہ اُس سے چارہ نہ ہو۔  “  حجاج نے کہا:  میں سلطنت والا ہوں لہٰذا آپ اپنی حاجت بیان کیجئے ۔ آپ نے فرمایا:  میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے ۔ حجاج نے کہا:  ہم نے اس کے لئے 100دینار مقرر کئے ۔ (1)
بہترین علاج: 
(11077)…حضرت سیِّدُنا سَمُرہ بن جُنْدُب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کا ایک اعرابی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حجامہ کرنے والاحضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سینگ  سے پچھنے لگانے کے لئے استرے سے زخم لگا رہا تھا، اس نے عرض کی:  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کیا ہے ؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی ہے ؟ارشاد فرمایا:  یہ حجامہ ہے اور یہ لوگوں کے طریقَۂ علاج میں سب سے بہتر ہے ۔ (2)
	حضرت سیِّدُنا عبد الملک بن عُمَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی یہ حدیث صحیح ہے ، اسے حضرت سیِّدُنا امام شُعبہ، حضرت سیِّدُنا شیبان ، حضرت سیِّدُنا زُہَیْر، حضرت سیِّدُنا زائدہ ، حضرت سیِّدُناابو عَوانہ اور حضرت سیِّدُنا جریر نے حضرت سیِّدُنا عبْدُالملک بن عُمَیْررَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سے اسی طرح روایت کیا۔ حضرت سیِّدُنا عبد الملک بن عمیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوفہ کے بڑے تابعین میں سے ہیں، آپ نے 30صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ملاقات کا شرف حاصل کیا، ان میں سے بعض سے حدیثیں سنیں اوربعض کی فقط زیارت سے فیض یاب ہوئے ۔ 
(11078)…حضرت سیِّدُنا جَریر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت، شفیْعِ اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللهُیعنی جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس پر رحم نہیں فرماتا۔ (3)
قابلِ رشک لوگ: 
(11079)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  دو افرادکے سوا کسی پر رشک جائز نہیں۔ ایک وہ شخص جسے اللہ عَزَّ     وَجَلَّ مال دے کرنیک کاموں میں خرچ کرنے پر لگادے ، دوسرا وہ شخص جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ علم دے تووہ اس کے مطابق عمل  کرے اور لوگوں کو سکھائے ۔ (4)
	یہ حدیث پاک صحیح ہے اور حضرت سیِّدُنااسماعیل بن ابو خالد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد سے ثابت ہے ، اس حدیث  کو آپ سے حضرت سیِّدُنا شعبہ، حضرت سیِّدُنا ہُشَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا اور دیگر لوگوں نے روایت کیا ہے ۔ حضرت سیِّدُنااسماعیل بن ابوخالد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدنے 12صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ملاقات کی، جن میں کچھ سے آپ نے حدیث کا سماع کیا اور کچھ کی فقط زیارت کی۔ 
اہل یمن کی فضیلت: 
(11080)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  تمہارے پاس اہْلِ یمن آئے وہ ملائم طبیعت اور نرم دل ہیں، پیاراایمان  یمن والوں کا ہے اور حکمت تو یمنی ہے البتہ بے رحمی اور سنگدلی شور مچانے والے ان اونٹ والوں میں ہے جوجانبِ مشرق واقع قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مُضَر  سے تعلق 


________________________________
1 -   موسوعة للامام ابن ابی الدنیا، کتاب القناعة والتعفف، باب ذم المسالة   الخ ، ۲ / ۲۴۴، حدیث: ۲۱
2 -   مسند امام احمد، حدیث سمرة بن جندب، ۷ / ۲۵۲، حدیث: ۲۰۱۱۷
3 -   مسلم، کتاب الفضائل، باب رحمته  صلی الله علیه وسلم الصبيان    الخ ، ص۱۲۶۸، حدیث: ۲۳۱۹
4 -    معجم اوسط، ۱ / ۴۶۵، حدیث: ۱۷۱۲