نے وہ قراءت حضرت قاسم بن مَعْن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اسی طرح ذکر کی تو انہوں نے اسے حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف منسوب کیا، پھر جب میں آپ سے ملا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: تم نے اس غلطی کوآگے بیان کیوں کیا؟
(11068)…حضرت سیِّدُنا محمد بن بِشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمارے پاس شہرسے متصل گاؤں سے آئے تھے ، ہم آپ کا مذاق اُڑایا کرتے تھے اور آپ اپنے وصال سے پہلے ہم پر برتری وفوقیت لے گئے ۔
(11069)…حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے : کون حاضر ہو گا؟ کون حاضر ہو گا؟میں اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں تمہاری بات کا مطلب جاننے آیا ہوں۔ اس نے کہا: کیا تمہیں وہ شخص نظر نہیں آرہا جو کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کر رہا ہے اور انہیں اولیاءاللہ کے بلند مرتبوں کے بارے میں بتا رہا ہے ؟ اس کے پاس جاؤ شاید تم اس کے لوٹنے سے پہلے اس سے مل کر اس کی گفتگو سن سکو۔ میں اس کے پاس آیا تو لوگ اس کے ارد گرد کھڑے تھے اور وہ یہ شعر کہہ رہا تھا:
مَا نَالَ عَبْدٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مَنْزِلَةً اَعْلٰى مِنَ الشَّوْقِ اِنَّ الشَّوْقَ مَحْمُوْدُ
ترجمہ: کسی بندے نے شوق سے بڑامرتبہ رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ سے حاصل نہیں کیا، بے شک شوق قابلِ ستائش ہے ۔
پھروہ خطاب کرنے والے سلام کر کے نیچے اُتر آئے ، میں نے اپنے برابر والے سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: کیا تم انہیں نہیں جانتے ؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں۔ میں بڑامتعجب ہوا تو اس نے کہا: کیا تم اس پرمتعجب ہو جو تم نے دیکھا ہے ؟ خدا کی قسم! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا اس سے بڑامرتبہ اور اس سے زیادہ اجر ہے ۔ پھر حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اصل اشتیاق کسی غائب ہی کا ہو تا ہے ۔
شدّتِ غم:
(11070)…حضرت سیِّدُنا ابونُعَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک چیونٹی حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چہرے پر اوپر نیچے دائیں بائیں چکر لگا رہی تھی لیکن غم کی وجہ سے آپ کو اس کا احساس ہی نہیں تھا۔
(11071)…مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کسی کو ایک درہم دے کر بھیجا اور فرمایا: ایک دانق سے یہ خرید لینا، ایک دانق سے یہ خرید لینا حتّٰی کہ پورے درہم سے چیزیں خریدنے کو کہا، جب وہ شخص جانے لگا تو آپ نے فرمایا: واپس آجاؤ اور ہمارا درہم ہمیں واپس کر دو، ہمیں دین میں لطف اندوزی مناسب نہیں۔
فضولیات سے احتیاط:
(11072)…حضرت سیِّدُنا معاویہ بن عَمْرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس تھے کہ روشن دان سے دھوپ آنے لگی، حاضرین میں سے کسی نے کہا: اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ روشن دان بند کر دوں۔ آپ نے فرمایا: ہمارے اسلاف فضول نظری کو ناپسند کرتے تھے ۔
یونہی ایک اوردن ہم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس تھے ، وہاں ایک پوستین تھی جو پھٹ چکی تھی اور اس کے ریشے نکل رہے تھے ، حاضرین میں سے کسی نے کہا: اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے سی دوں؟ آپ نے فرمایا: ہمارے اسلاف فضول گفتگو کو ناپسند کرتے تھے ۔
ادب یاد دلانے والے کو دُعا:
(11073)…حضرت سیِّدُنا سعیدطَحَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا: ابو سلیمان!کیا آپ اپنی چپلیں اپنی دائیں جانب نہیں دیکھ رہے ، مناسب ہو گا کہ آپ انہیں اپنے سامنے یا اپنی بائیں جانب رکھ دیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری فَقَاہت میں برکت عطا فرمائے ۔
(11074)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن ادریسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو عُبَـیْدُاللہ بن عبْدُاللہ کے یہ اشعار پڑھتے سنا:
اَلَا اَبْلِغَا عَنِّيْ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ وَلَا تَدَعَا اَنْ تُثْنِيَا بِاَبِيْ بَكْرِ
فَقَدْ جَعَلَتْ تُبْدُو شَوَاكِلُ مِنْكُمَا كَاَنَّكُمَا لِيْ مُوْقَرَانِ مِنَ الصَّخْرِ
فَلَا تَدَعَا اَنْ تَسْاَلَا وَتُسَلِّمَا فَمَا حُشِيَ الْاِنْسَانُ شَرًّا مِنَ الْكِبْرِ
وَمَسَّا تُرَابَ الْاَرْضِ مِنْهَا خُلِقْ تُمَا فَفِيْهَا الْمَعَادُ وَالْمَصِيْرُ اِلَى الْحَشْرِ
وَلَوْ شِئْتُ اَدْلٰى فِيْكُمَا غَيْرُ وَاحِدٍ عَلَانِيَةً اَوْ قَالَ عِنْدِيْ فِي السِّرِّ
فَاِنْ اَنَا لَمْ اٰمُرْهُ وَلَمْ اَنْهَ عَنْكُمَا ضَحِكْتُ لَهُ حَتّٰى يَلِجَّ وَيَسْتَشْرِي
ترجمہ: (۱)…حضرتعِراک بن مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقکو میرا پیغام پہنچا دینا اور حضرت ابوبکر بن سُلیمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بھی تعریف کیے بغیر نہ چھوڑنا۔ (۲)…تمہاری شاخیں نکل چکی ہیں، تم پتھریلی زمین میں میرے لئے پھلدار درخت کی طرح ہو۔ (۳)…لہٰذاطلب اور اطاعت کو نہ چھوڑنا کیونکہ انسان میں آنے والی کوئی بُرائی تکبُّر سے بڑی نہیں۔ (۴)…اور زمین کی مٹی چھؤو اس سے تمہاری تخلیق ہوئی اور اسی میں لوٹنا اور محشر کی طرف جانا ہے ۔ (۵)…اگر میں چاہتا تو میرے پاس کئی لوگ اعلانیہ یا پوشیدہ تمہاری بُرائیاں کرتے ۔ (۶)… اگر میں نے انہیں حکم نہ دیا ہوتا اور تمہاری بُرائی سے نہ روکا ہوتا تو میں ان کے لئے
مسکراتا حتّٰی کہ وہ جھگڑاو فساد کرتے اور اس پر اَڑے رہتے ۔