Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
334 - 361
(11056)…حضرت سیِّدُنا ابو محمدصَدَقَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے   کہ ہم کوفہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے ، تدفین کے وقت آپ ایک کونے میں بیٹھ گئے ، دیگر لوگ بھی آپ کے پاس آکر بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا: جو وعدۂ عذاب کا خوف رکھتا ہے اس کے لیے دور بھی نزدیک ہوتا ہے ، جس کی امیدیں زیادہ ہوں اس کا عمل کمزور  ہو جاتا ہے ، پیش آنے والاہر معاملہ قریب ہی ہے ، اے میرے بھائی!یاد رکھو جو چیز تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یاد سے غافل کرے وہ تمہارے لئے منحوس ہے ، جان لو! دنیا والے قبر والوں کی طرح ہیں کہ جو کچھ آگے کے لئے جمع کر کے رکھتے ہیں اس پر خوش ہوتے ہیں اور جوپیچھے چھوڑجاتے ہیں اس پر افسوس کرتے ہیں۔ البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ جس چیز پر قبر والے افسوس کرتے ہیں دنیا والے اس کی خاطر باہم قتل و غارتگریکرتے ، ایکدوسرے سے مقابلہکرتے اوراسکے لیے قاضیوں(ججوں)کے ہاں مقدمہ بازی کرتے ہیں۔ 
(11057)…حضرت سیِّدُنا اسحاق بن خَلَفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چاندنی رات میں غور و فکر میں مشغول تھے ، اِسی حالت میں اٹھے اورچھت پر چلنے  لگے حتّٰی کہ پڑوسی کے گھر میں جا گرے حالانکہ آپ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ پڑوسی بناکپڑوں  ہی کے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور آپ کو چور سمجھ کر تلوار تھام لی۔ جب اس نے آپ کو دیکھا تو واپس پلٹا، کپڑے پہنے ، تلوار رکھی اورآپ کا ہاتھ پکڑکر آپ کو آپ کے گھرپہنچادیا۔ جب حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:  مجھے پتا ہی نہیں چلا۔ یا (فرمایا:  )احساس نہیں ہوا۔ 
عظیم نصیحت: 
(11058)…حضرت سیِّدُنا ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے بھائی حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ نصیحت کی: اس بات کا خیال رکھنا کہ کہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں اس جگہ نہ دیکھے جس  سے تمہیں منع کیا ہے اور وہاں سے غیر حاضر نہ پائے جہاں کا تمہیں حکم دیا ہے اور اس سے حیا کرو کہ وہ تم سے قریب اور تم پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ 
حُکّام کی قربت کے خطرات: 
(11059)…حضرت سیِّدُنا سِنْدَوَیْہ فَتَّالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا:  آپ اُس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو حکمرانوں کے پاس جا کر انہیں بھلائی کا حکم دیتا اور بُرائی سے منع کرتا ہے ؟ فرمایا:  مجھے اس پر کوڑے  کا خوف ہے ۔ سائل نے کہا:  وہ طاقتور ہے ۔ فرمایا:  مجھے اس پر تلوار کا خوف ہے ۔ سائل نے کہا:  وہ طاقتور ہے ۔ فرمایا:  مجھے اس پر خود پسندی کے پوشیدہ مرض کا خوف ہے ۔ 
نماز میں یَکسوئی: 
(11060)…حضرت سیِّدُنا ابو خالد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں اور میرے والد کسی کام سے یا پھر بغرضِ سلام حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس گئے ، میں نے دیکھا تو وہ  نماز پڑھ رہے تھے ، نماز  والی جگہ کے اوپر سے چھجے کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کرآپ کے قریب آگرا لیکن میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے بچنے کی کوشش کی نہ ہی آپ گھبرائے بلکہ اپنی نماز میں ہی متوجہ رہے ۔ 
غیبی چراغ: 
(11061)…احمد بن شُراعہ نامی شخص کا بیان ہے : میں رات کے وقت زمین میں پانی لگا رہا تھا کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی قبر کے پاس ایک چراغ دیکھا، میں اسے قریب سے دیکھنے گیا تو وہ اچانک غائب ہو گیا، میں دوبارہ پانی لگانے میں مصروف ہوگیاتوپھر چراغ نظر آیا، میں آگے بڑھا تو وہ غائب ہو گیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر میں جاکرسوگیا تو خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے :   ” قبر کے پاس پانی مت  لگانااور نہ ہی اس کے قریب جانا۔  “ پھر میں نے وہاں کا رُخ نہیں کیا اور بیمار پڑ گیا۔ سیف بن ہَناس طائی کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ احمد بن شراعہ کو  تپ دق کامرض  ہو گیا حتّٰی کہ اس کا انتقال ہو گیا۔ 
(11062)…حضرت سیِّدُنا ابو عَبْلہ عبد العزیز بن محبوب بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا دواد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آیا تو عبادت خانے کے صحن میں ان کے لیے ایک پیالہ رکھا ہوا تھا ،  میں نے وہ اٹھا کر پی لیا ، آپ نے مجھ سے فرمایا:  بھتیجے ! آئندہ  بغیر اجازت ہر گز نہ پینا۔ 
	ایک بار کسی شخص نے اپنا کھجور کا درخت کاٹا تو لوگ اس کا ایک خوشہ لے آئے ، آپ نے پوچھا:  یہ کیا!۔ بتایا گیا کہ ایک شخص نے اپنا کھجور کا درخت کاٹا ہے ۔ اس پر فرمایا: کھجوریں تیار ہونے کے باوجود کاٹ دیا!!!۔ 
تعریف پرردِّعمل: 
(11063)…مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خبر ملی کہ کسی حاکم کے پاس آپ کا تذکرہ ہوا تو اس نے آپ کی تعریف کی ہے ۔ آپ نے فرمایا: لوگوں کے درمیان پردہ رکھا گیا ہے ، اگرہمارے اندر پائی جانے والی برائیوں سے تھوڑابھی لوگوں کومعلوم ہوجائے توکبھی بھی کوئی زبان ہمیں بھلائی کے ساتھ یاد نہ کرے ۔ 
(11064)…حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  گناہوں نے ہمیں چھوڑدیا ہے کیونکہ ہمیں لوگوں میں زیادہ بیٹھنے سے حیا آتی ہے ۔ 
(11065)حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ہمارے ان اعمال کا راستہ تو مایوسی ہے لیکن دل امیدِرحمت کے مشتاق ہیں۔ 
(11066)…حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  بے شک غم کے اثرات ہوتے ہیں۔ 
غلطی آگے نہ بڑھائی جائے : 
(11067)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن ادریسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میرے  سامنے تلاوت کی تو ایک قراءت میں غلطی واقع ہوئی، میں