Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
333 - 361
(11043)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بنخُبَـیْقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے پاس عیادت کرنے آئے تو آپ نے حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا:  مجھ سے کم ملا کروکیونکہ میں لوگوں سے تعلقات ختم کر چکا ہوں۔ 
دنیا قید خانہ اورموت رہائی ہے : 
(11044)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن فَرَجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:  حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو کسی نے خواب میں دیکھا کہ آپ  حیرہ کے صحرا میں دوڑ ے چلے جا رہے ہیں۔ کسی نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ فرمایا:  ابھی قید سے چھوٹاہوں ۔ لوگوں نے غور کیا تو پتا چلا کہ آپ کے انتقال کا وقت وہی تھا۔ 
(11045)…حضرت سیِّدُنا حَفْص بن غِیاثرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں شریک ہوئے ، ہمارے ساتھ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تھے ، جب ہم نے نمازِ جنازہ ادا کر لی تو میت کو قبر میں رکھنے کے لئے لایا گیا، کپڑا اُٹھایا گیا اور اس کا کفن ظاہر ہوا تو حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک زور دار چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔  
(11046)…حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے کو گناہوں کی ذلت سے نکال کر تقوٰی کی عزت تک لے جاتا ہے تو اسے مال کے بغیر غنی کرتا، خاندان کے بغیر عزت عطا فرماتا  اور انسیت دینے والے کے بغیر انسیت عطا فرماتا ہے ۔ 
مردے منتظر ہیں: 
(11047)…حضرت سیِّدُنا بَکر بن محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے عرض کی:  مجھے نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا:  مُردوں کا لشکر تمہارا انتظار کر رہا ہے ۔ 
(11048)…حضرت سیِّدُناداودطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ہر نفس کو اس کی خواہش کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تو کبھی بھلائی کی خواہش ہوتی ہے اورکبھی برائی کی۔ 
نکاح نہ کرنے کی وجہ: 
(11049)…حضرت سیِّدُنا یعلیٰ بن عُبَیْدکے بھائی حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا  کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو نکاح کے معاملے میں ملامت کی گئی، ان سے کہا گیا:  آپ نکاح کیوں نہیں کرلیتے ؟ آپ نے فرمایا:  میرا کمزور دل جو ایک فکر کو سنبھال نہ سکے اس پر دو فکریں کیسے جمع ہو سکتی ہیں؟ 
(11050)…حضرت سیِّدُنا قاسم بن ضحاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک دن اپنے دوست حضرت  عقبہ بن موسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا:  عقبہ! وہ شخص غم سے کیسے رہائی پا سکتا ہے  جس کی مصیبتیں ہر وقت تازہ ہو رہی ہوں؟ یہ سنتے ہی حضرت سیِّدُنا عقبہ بن موسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بے ہوش ہو کر گر گئے ۔ 
(11051)…حضرت سیِّدُنا عبدالاعلیٰ بن زیاد اَسْلمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو نہرِ فرات کے کنارے حیرانگی کی حالت میں کھڑے دیکھا تو پوچھا:  ابوسلیمان! آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں کشتی کو دیکھ رہا ہوں کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم کی اطاعت میں دریا میں کیسے چل رہی  ہے ۔ 
آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی شب بیداری: 
(11052)…نخع قبیلے سے تعلق رکھنے والے عبادت گزار بزرگ حضرت سیِّدُنا سعیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی والدہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سعید بن علقمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاجن کا تعلق قبیلہ طے سے تھا فرماتی ہیں: ہمارے اور حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار تھی، میں اکثر رات میں آپ کی نہ تھمنے والی رونے  کی آواز سنتی تھی اور کبھی کبھی  رات کے درمیانی حصے میں آپ کو یہ کہتے ہوئے سنتی:  ” اے میرے مولیٰ! تیری یادنے میرے غم ختم کر دیئے ، ميری شب بیداری سے دوستی کروا دی اور تیرے دیدار کے شوق نے لذتوں و خواہشوں کو مجھ سے دور کر دیا ہے ، اے کرم فرما نے والے محبوب ومطلوب!میں تیری قید میں ہوں۔  “  جب صبح کے وقت آپ خوش الحانی کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت  کرتے تو مجھے لگتا گویا اس گھڑی دنیا کی تمام نعمتیں آپ کی سُریلی آواز میں سما گئی ہیں۔ آپ گھر میں اکیلے رہنے کے باوجود چراغ روش نہیں کرتے تھے ۔ 
(11053)…حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: حُسنِ ظن پر ہی اعتماد کیا جاتا ہے جبکہ غفلت نے اجسام پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ 
(11054)…حضرت سیِّدُنامحمد بن عبد العزیز تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا داودطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: آپ اس آیت کی قراءت کس طرح کرتے ہیں ” فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعٰنِ “  یا  ” تَرَی الْجَمْعٰن “ ؟آپ نے فرمایا:  ” اس کے علاوہ کوئی اور بات کرنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔  “ 
تیری اوقات ایک درہم کے برابربھی نہیں: 
(11055)…حضرت سیِّدُنا بُثَین طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُناداود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُناعَمْرورَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی گلی سے گزرے تو آپ نے وہاں ترتیب سے رکھی پکی ہوئی تازہ کھجوریں دیکھیں تو آپ کا دل کھجور کی خواہش کرنے لگا لہٰذا آپ نے ایک کھجور فروش  کے پاس جا کر کہا:  مجھ ایک درہم کی کھجور دے دو۔ اس نے کہا:  درہم کہاں ہے ؟ آپ نے کہا: کل دے دوں گا۔ اس نے کہا: چلے جاؤ۔ آپ کے کسی جاننے والے نے آپ کو دیکھا تو کھجور فروش کے پاس گیا اور اسے آپ کے بارے میں بتا یا اور 100درہم سے بھری ایک تھیلی نکال کر کہا: جاؤان سے ملو اگر وہ تم سے ایک درہم کی کھجور لے لیں تو یہ سب تمہارے ہیں۔ چنانچہ کھجور فروش آپ کے پاس پہنچا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے نفس سے فرما رہے تھے : تیری اوقات اس دنیا میں ایک درہم کے برابر بھی نہیں اور تو جنت میں جانا چاہتا ہے ؟ اس کھجور والے نے بہت کوشش کی کہ آپ واپس آکر کھجوریں لے لیں مگرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انکار کر دیا۔ 
دنیا والے قبر والوں کی طرح ہیں: