میں نے حضرت سیِّدُنا محمد بن بشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دروازہ کیوں نہیں کھولا؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کے لئے دروازہ کھول دیا کرتے تھے تو پھر بہت زیادہ لوگ آپ کے پاس آتے اور آپ کو گھیر لیتے تھے چنانچہ آپ نے ان سب کو روک دیا، اب جو کوئی آتا تو آپ دروازے کے پیچھے سے ہی اس سے بات کرتے ۔
آپ کی والدہ نے آپ سے کہا: اگر تمہیں کسی چیز کی خواہش ہو تومیں بنا دوں؟ آپ نے کہا: امی جان! بہت اچھا کرکے کچھ بنائیے ، میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کی دعوت کروں۔ چنانچہ ان کی والدہ نے ان کے لیے بہت اچھا کھانا بنایا اور وہ خود دروازے پر بیٹھ گئے ، جو بھی مانگنے والا وہاں سے گزرتا اسے اندر بلا لیتے ، پھر انہیں کھانا پیش کر دیاتو والدہ نے کہا: اگر تم اسے کھا لیتے تو بہتر تھا۔ عرض کی: بھلا میرے سوا کس نے کھایا ہے ؟آپ نے بہت مجاہدہ کیا، والدہ کے انتقال کے بعد ان کا چھوڑا ہوا سارا مال تقسیم کر دیا حتّٰی کہ آپ کے پاس کچھ نہ بچا حالانکہ آپ کی والدہ کافی مال دار تھیں۔
(11034)…حضرت سیِّدُنا سُوَید بن عَمْرو کَلْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک ساتھی آپ کے پاس دو ہزار درہم لے کر آیا اور کہا: ابوسلیمان! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بن مانگے اور بغیر چاہت کے یہ چیز آپ تک پہنچائی ہے ۔ آپ نے فرمایا: یہ ان ہی لوگوں کے زیادہ لائق ہے جو اسے لیتے ہیں اس نے کہا: آپ اسے کیوں نہیں لیتے ؟آپ نے فرمایا: شاید اس کو نہ لینے میں ہی زیادہ نجات ہو۔
(11035)…حضرت سیِّدُنا مِسْعَر بِن کِدام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانایک آدمی کے ہمراہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے ، حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی خرابی صحت کا ذکر کیا تو حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: آپ پچھنے لگوا لیجئے ۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس حجام کو بھیج دو۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر میدانِ بِشرمیں آئے اورحجام سے کہا: حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جاؤ، ہم یہاں تمہارا انتظار کر رہے ہیں، حجام حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا اور آپ کو پچھنے لگا کرواپس چلا گیا، ان دونوں نے حجام سے پوچھا تو اس نے کہا: میں نے انہیں پچھنے لگائے تو وہ اُٹھے اور یہ دینار لا کر مجھے دے دیا۔ ان دونوں میں سے کسی نے کہا: ان کے پاس اس دینارکے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی، آپ کے پاس یہ دینارآپ کی زرخرید لونڈی کی قیمت سے بچ گیا تھا۔
غیرت مندی کا زبردست مظاہرہ:
(11036)…حضرت سیِّدُنااسحاق بن منصور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر بیان کرتے ہیں کہ جنیدحجام کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا، آپ کی زبان پر ایک چھالہ نکل آیا تھا، میں نے اسے پھاڑا اور تھوڑی سی دوا نکال کر ایک کپڑے میں ڈالی اور کہا: یہ دوا رات کو پھوڑے والی جگہ پر رکھ لینا۔ آپ نے فرمایا: وہ گدّا اُٹھاؤ۔ میں نے اسے اُٹھایا تو وہاں دینار رکھا تھا، آپ نے فرمایا: اسے لے لو۔ میں نے کہا: ابو سلیمان! اس دوا کی قیمت اتنی نہیں بلکہ ایک دانق ہے ۔ چنانچہ میں وہ دوا روشندان میں رکھ کر چلا گیا، پھر میں دو دن بعد واپس آیا تو دوا جوں کی توں رکھی تھی، میں نے کہا: سبحٰن اللہ، ابو سلیمان! آپ نے اس دوا سے اپنا علاج کیوں نہیں کیا؟ فرمایا: تم دینار نہیں لو گے تو میں بھی اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔
حضرت سیِّدُنا احمد بن سعید رِباطیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ” اگر تم دینار نہیں لو گے تو ہم بھی اس کا علاج نہیں کریں گے ۔ “
بلاعوض خدمت قبول نہ کی:
(11037)…حضرت سیِّدُنا ابو یعقوب یوسف قَواریری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ جنید حجام نے کہا: میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو پچھنے لگانے گیاانہوں نے مجھے دینار دیا اور کہا: اسے لے لو ورنہ پچھنے مت لگانا۔ یونہی میں حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے روٹی دی اور فرمایا: یہ لے لو ورنہ پچھنے مت لگانا۔
(11038)…حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن رَیَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا بیان ہے کہ ایک حجام نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پچھنے لگائے تو آپ نے اسے ایک دیناردے دیا حالانکہ آپ کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
بے مروت عابد نہیں ہوتا:
(11039)…(الف)حضرت سیِّدُنا ابوسعید سُکَّری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پچھنے لگوائے اور حجام کو ایک دینار دیا، آپ سے کسی نے کہا: یہ اسراف ہے ۔ آپ نے فرمایا: جس میں مروت نہیں اس کی کوئی عبادت نہیں۔
(11039)…(ب)حضرت سیِّدُناابونُعَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ مجھے جنید حجام نے بتایا: میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی داڑھ نکالی تو آپ نے مجھے ایک درہم دیا، میں نے کہا: اس کی اجرت تو صرف دو دانق ہے ۔ آپ نے فرمایا: اسے رکھ لو۔
راحت کے لئے دھوپ لینا پسند نہیں:
(11040)…حضرت سیِّدُناولیدبن عقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ایک مرتبہ سَرد دن میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہاگیا: آپ دھوپ میں آجائیں تو بہتر رہے گا۔ آپ نے فرمایا: میں دھوپ میں آنا تو چاہتا ہوں لیکن یہ ایسا قدم ہے جسے میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ چنانچہ آپ دھوپ میں نہیں آئے ۔
(11041)…حضرت سیِّدُناجَبْر بن مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیمار ہوئے تو ان سے کسی نے کہا: اگر آپ صبح کی ہوامیں نکلیں تو آپ کے دل کو راحت ملے گی۔ آپ نے فرمایا: مجھے اپنے ربّ سے حیا آتی ہے کہ میں اس طرف قدم بڑھاؤں جس میں میرے جسم کی راحت ہو۔
(11042)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مُصْعَبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیمار ہوئے ، لوگ آپ کی عیادت کرنے آئے تو بولے : ابوسلیمان! اگر آپ گھر کے صحن میں آجائیں تو آپ کو زیادہ راحت ملے گی۔ آپ نے فرمایا: مجھے ایسا کوئی قدم اٹھاناپسند نہیں جو میری بدنی راحت کی طلب میں لکھا جائے ۔