اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ذخیرہ ہو گا۔
(11028)…حضرت سیِّدُنا حفص بن عمر جُعْفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس گیا اور کہا: ابو سلیمان! آپ نے اپنے گھر کی ہر چیز حتّٰی کہ مٹی بھی فروخت کر دی ہے اور آدھی چھت کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اگر آپ اس چھت کو ٹھیک کر لیں تو یہ آپ کو گرمی، بارش اور ٹھنڈ سے محفوظ رکھے گی۔ آپ نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ معاف فرمائے ! بزرگانِ دین فضول گفتگو کو ناپسند کرتے تھے ، اے اللہ کے بندے ! یہاں سے چلے جاؤ، تم نے میرے دل کو غافل کر دیا ہے ، مجھے جلدی ہے کہ کہیں قلم خشک نہ ہوجائے اور نامَۂ اعمال لپیٹ نہ لیا جائے ۔ اس نے کہا: ابوسلیمان! مجھے پیاس لگی ہے ۔ فرمایا: جاؤ پانی پیو۔ وہ گھر میں گھومنے لگا، اسے پانی نہیں ملا تو آپ کے پاس آ کر کہنے لگا: ابو سلیمان! گھر میں کوئی گھڑا ہے نہ مٹکا۔ کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ معاف فرمائے !(پھر اشارہ کر کے فرمایا: )پانی وہاں ہے ۔ وہ پانی تلاش کرنے لگاتو وہاں اس گملے کومٹکا بنایا ہوا تھا جس میں مٹی بھری جاتی ہے ، اور پیالے کی تہہ میں کپڑے کاایک ٹکڑا تھا، اس نے وہ کپڑا لے کر اس کے ذریعے پانی لیا، پانی اتنا گرم تھا گویا جوش مار رہا ہو، وہ اسے حلق سے نہ اتار سکا توآپ کے پاس واپس آ کر کہا: ابو سلیمان! یہ گرمی ایسی ہے کہ اس کی شدت کی وجہ سے لوگوں کی کھالیں اترجائیں اور آپ کا مٹکا زمین میں دفن ہے اور پیالہ بھی ٹوٹا ہوا ہے ۔ کاش! چھوٹا مٹکا اور صراحی ہوتی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حیرہ شہر کا ٹھنڈا کنواں، کچا گھڑا، انگور کی بیل کا سجا ہوا سائبان، حسین لونڈیاں، دنیاوی ساز وسامان، درہم و دینار اور اضافی اشیا بھی ہوتیں؟ اگر میں دل کو مشغول کرنے والی ان چیزوں کو اختیار کرتا تو خود کو یہاں قید نہ کرتا میں نے اپنے نفس کو ان شہوات سے آزاد کر کے خود کو قید کر لیا ہے تاکہ میرامالک ومولا عَزَّوَجَل مجھے دنیا کی قید سے نکال کر آخرت کی راحت کی طرف لے جائے ۔ اس شخص نے کہا: ابو سلیمان! اس گرمی میں آپ کہاں سوتے ہیں، آپ کے پاس تو سونے کے قابل چھت ہی نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا: مجھے اپنے مولی عَزَّ وَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ وہ مجھے دنیا میں اپنے نفس کی راحت کے لئے ایک قدم بھی اُٹھاتا ہوا دیکھے حتّٰی کہ میرا مولی تبارک وتعالیٰ دنیا اور دنیا والوں سے مجھے راحت دے دے ۔ میں نے کہا: مجھے کوئی نصیحت کیجئے ۔ فرمایا: دنیا سے روزہ رکھو اور اپنی موت پر افطار کرو حتّٰی کہ موت کے
وقت جب خازنِ جنت حضرت رضوان عَلَیْہِ السَّلَامتمہارے پاس جنتی مشروب لائیں گے تو تم اسے اپنے بستر پر پیو گے تو دنیا سے تروتازہ ہو کر جاؤگے اور تمہیں حضرات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کے حوضوں میں سے کسی حوض کی محتاجی نہ رہے گی یہاں تک کہ تروتازہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔
حضرت سیِّدُنا حَفْص بن عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی اور حضرت سیِّدُنا محمد بن نضر حارثی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر اس کی اطاعت کرنے اور عبادت میں خود کو تھکا دینے والوں میں سے تھے ، جب آپ کا وصال ہوا تو حضرت محمد بن میمون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نامی کوفہ کی عبادت گزار شخصیت جن کی فضیلت لوگوں میں مشہور ہے نے خواب میں کسی منادی کو یہ ندا کر تے سنا : سنو! داود طائی اور محمد بن نضر حارثی نے اپنی مراد پالی ہے ۔
فضول نظری سے اجتناب:
(11029)…حضرت سیِّدُنا عُباءہ بن کُلَیْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: اگر آپ حکم کریں تو کمرے کی چھت میں مکڑی کے بُنے ہوئے جالے صاف کر دیئے جائیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں فضول دیکھنا ناپسندیدہ چیز ہے ۔ پھر فرمایا: مجھے کسی نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے گھر میں زندگی بسر کی اور کئی سال اسے دیکھا نہ اس کی طرف توجہ کی۔
(11030)…حضرت سیِّدُنا ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 13دینار کے وارث ہوئے تو اس سے 20 سال تک کھایا، نہ کبھی عمدہ کھانا کھایا اور نہ ہی نرم لباس پہنا۔
(11031)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مُصْعَب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر پھٹا ہوا جبہ دیکھا گیا تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اسے سی کیوں نہیں لیتے ؟ فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ فضول دیکھنے کی ممانعت ہے ۔
(11032)…حضرت سیِّدُنا بَکر بن محمد عابدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: کیا آپ دن بھر میں ایک روٹی کھاتے ہیں؟ فرمایا: جی ہاں اور دو بھی کھا لیتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ کا پیٹ بھر جاتا ہے ؟فرمایا: جی ہاں۔
(11033)…حضرت سیِّدُناحَمَّادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیِّدُناداودطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا: ابو سلیمان! آپ تھوڑی سی دنیا پر راضی ہو گئے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے بھی کم پر راضی ہوا ہے ؟وہ شخص جو آخرت کے بدلے پوری دنیا ملنے پر راضی ہو گیا۔ حضرت سیِّدُنا حماد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد نے آپ سے کہا: آپ میرے اور اپنے درمیان رشتہ اُخوت سے واقف ہیں، آپ مجھ سے اپنی کسی خواہش کا اظہار کیجئے تو مجھے خوشی ہو گی۔ آپ نے فرمایا: مجھے برنی کھجوروں کی خواہش ہے ۔ انہوں نے برنی کھجور کی کئی ٹوکریاں لا کر آپ کے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیں، آپ نے اس میں سے ایک کھجور بھی نہیں کھائی حتّٰی کہ ان میں کیڑے پڑگئے ۔
آپ کے ساتھ گھر میں آپ کی لونڈی رہتی تھی، ایک دن آپ نے اس سے کہا: میرا دودھ پینے کا جی کر رہا ہے ، روٹی لو اور اس سے دوکاندار کے پاس جا کر دودھ خرید لو اور دوکاندار کو یہ نہ بتانا کہ کس نے منگوایا ہے ۔ وہ گئی اور دودھ لے آئی ، وہ لونڈی آپ کے لئے ہر پندرہ دن میں ایک مرتبہ روٹی پکایا کرتی تھی، آپ نے دودھ نَوش فرما لیا، بعد میں دوکاندار بھانپ گیا کہ یہ لونڈی حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے دودھ لیتی ہے لہٰذا اس نے آپ کے لئے بلاعوض دودھ دے دیا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس لونڈی سے فرمایا: کیا دوکاندار کو معلوم ہو گیا کہ تم کس کے لئے دودھ لیتی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے کہہ دیاکہ ابو سُلیمان کے لئے لیتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: اسے اُٹھا لو۔ پھر آپ نے اسے نہیں پیا۔
ایک دن حضرت سیِّدُنافُضَیْلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہآپ کے پاس آئے لیکن آپ نے دروازہ نہ کھولاتووہ دروازے کے باہر بیٹھ گئے اور آپ اندر اور یہ باہر بیٹھے روتے رہے مگر دروازہ نہیں کھولا۔