فرمایا: میں نے اپنی بلوغت کے وقت سے ایک سال تک ان کی خواہش کو برداشت کیا پھر ان کی خواہش میرے دل سے چلی گئی۔ حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فرمایا: ہماری رائے یہ ہے کہ جس نے اپنی بلوغت کے بعد ایک سال تک عورتوں سے یوں صبر کیا کہ حلال اورحرام کے اعتبار سے ان کی پہچان نہ رکھی اسے ان سے قربت کی خواہش نہیں رہتی۔
نفس کے زبردست محاسب:
(11020)…حضرت سیِّدُنا ولید بن عقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے 60روٹیاں پکائی جاتی تھیں، جنہیں وہ ایک تھیلے میں ڈال کر لٹکا دیتے تھے ، ہر رات پانی اور نمک کے ساتھ دو روٹیوں سے افطار کرتے تھے ایک رات آپ نے اپنی افطاری لی اور اس کی طرف دیکھنے لگے ۔ آپ کی سیاہ فام لونڈی آپ کو دیکھ رہی تھی وہ اُٹھی اور ایک طَباق میں چندکھجوریں لے آئی، آپ نے اس سے افطار کیا پھر ساری رات عبادت کی اور صبح روزہ رکھا، جب افطار کا وقت آیاتو آپ نے اپنی روٹی، نمک اور پانی لیا۔ حضرت سیِّدُنا ولید بن عقبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ آپ کے پڑوسی نے مجھے بتایاکہ میں نے سنا کہ حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے نفس کو ملامت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے : تو نے کل کھجورکھانے کی خواہش کی تو میں نے تجھے وہ کھلا دی، آج رات بھی تو نے کھجور کی تمنا کی ہے ، سن لے !داود جب تک دنیا میں ہے کھجور چکھے گابھی نہیں۔ حضرت سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق اپنی روایت میں بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ نے اپنے وصال تک کبھی کھجورنہیں چکھی۔
اپنے وصال تک نمک نہیں چکھا:
(11021)…حضرت سیِّدُنا محمد بن بِشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں مسجد میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس گیاتوان کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی، پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑااورمجھے اپنے گھر لے گئے ، پھرایک بڑے مٹکے کے پاس آئے ، اس سے ایک خشک روٹی نکالی اور اسے پانی میں ڈبو دیا، پھر فرمایا: آئیے کھانا کھا ئیے ۔ میں نے کہا: ” بَارَكَ اللهُ لَكَ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو برکت عطا فرمائے ۔ “ پھر آپ نے اسے کھایا تو میں نے کہا: ابو سلیمان!آپ کچھ نمک بھی لے لیتے ۔ آپ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: میرا نفس نمک کے لئے مجھ سے جھگڑ رہا ہے اوراب داودجب تک دنیا میں ہے نمک نہیں چکھے گا۔ حضرت سیِّدُنا محمد بن بشر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے وصال تک نمک نہیں چکھا۔
گاجر اور کھجور نہ کھانے کی قسم:
(11022)…حضرت سیِّدُنا حماد بن ابوحنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَافرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس گیا تو دروازہ بندتھا، میں نے انہیں یہ فرماتے سنا کہ تو نے گاجر کی خواہش کی تو میں نے تجھے کھلا دی، اب تجھے گاجر اور کھجور کی خواہش ہو گئی ہے ، میں قسم کھاتا ہوں کہ تو اسے کبھی نہیں کھائے گا۔ چنانچہ میں نے ان سے اجازت لی اور سلام کر کے گھر میں داخل ہوا تو پتا چلا کہ وہ اپنے نفس پر عتاب کر رہے تھے ۔
(11023)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن حَسَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دروازے پرآیا، جیسے ہی اندر جانے لگا تو میں نے اندر سے ان کی آواز سنی وہ اپنے نفس سے مخاطب تھے مگر میں سمجھا ان کے پاس کوئی شخص ہے جس سے وہ گفتگو کر رہے ہیں لہٰذا میں کچھ دیر دروازے پر کھڑا رہا پھر میں نے اجازت مانگی تو انہوں نے فرمایا: آجاؤ۔ جب میں اندر آیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس آنے کے لئے اجازت کیوں لی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو گفتگو کرتے سنا تو سمجھا آپ کے پاس کوئی شخص ہے جس سے آپ جھگڑ رہے ہیں ۔ فرمایا: نہیں بلکہ میں تو اپنے نفس سے جھگڑ رہا تھا، کل مجھے کھجور کھانے کی خواہش ہوئی تو میں کھجور خریدنے نکلا جب میں کھجورلے آیا تومجھے گاجر کی خواہش ہوئی چنانچہ میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے وعدہ کیا کہ میں کھجور اور گاجر نہیں کھاؤں گا حتّٰی کہ اس سے جا ملوں۔
کبھی کھجور نہیں کھاؤں گا:
(11024)…حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن مِقْدام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھے درہم دے کر بھیجا کہ میں اس سے آپ کے لئے کھجوریں خرید لوں، پھر جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ میرے ساتھ آکر بیٹھ گئے اور فرمایا: تم نے کھجور یں کہاں سے خریدی تھیں؟ میں سمجھا آپ ان کا عیب بیان کریں گے ، میں نے کہا: ابو سلیمان! ان میں کیا خرابی تھی؟ خدا کی قسم! میں نے آپ کے لیے سب سے اچھی کھجوریں خریدیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ مجھے اچھی لگیں لہٰذا میں نے قسم کھالی کہ آئندہ کبھی کھجور نہیں کھاؤں گا۔
روٹی گھول کر پینے کی حکمت:
(11025)…حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن رَیَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی دایہ نے کہا: ابو سلیمان! کیا تمہیں روٹی کھانے کا جی نہیں کرتا؟ آپ نے کہا: روٹی کھانے کے بجائے گھول کر پینے سے 50آیات پڑھنے کا وقت مل جاتا ہے ۔
(11026)…حضرت سیِّدُنا عامر بن اسماعیل اَحْمسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا: مجھے کسی نے بتایا ہے کہ آپ یہ باسی روٹیاں سخت کر کے کھاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سُبْحٰنَ الله!بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ میں آزماچکا ہوں کہ سخت کے بجائے نرم روٹی کھانے سے مجھے 200 آیات کی تلاوت کا وقت مل جاتا ہے ۔ لیکن میرے لئے پکانے والا کوئی نہیں ہے اسی لئے میری روٹیاں اکثر باسی ہو جاتی ہیں۔
یتیموں سے خیرخواہی:
(11027)…حضرت سیِّدُنا حماد بن ابوحنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانے فرمایا: حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی لونڈی نے آپ سے کہا: کیا میں آپ کے لئے چربی والا گوشت پکا دوں؟ آپ نے فرمایا: پکا دو۔ چنانچہ وہ پکا کر آپ کے پاس لائی تو آپ نے اس سے پوچھا: بنو فلاں کے یتیموں کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا: وہ اپنی اسی حالت پر ہیں۔ فرمایا: یہ جا کر انہیں دے دو۔ لونڈی نے کہا: میں نے یہ کھانا آپ کو اس لئے دیا ہے کہ آپ یہ روٹی پانی میں ڈبو کر نہ کھائیں۔ آپ نے فرمایا: اگر میں اسے کھاؤں گا تو یہ بیتُ الخلاء میں جائے گا اور اگر وہ یتیم کھائیں گے تو یہ