Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
329 - 361
رہے ؟ تمہارے پاس تو مال سے بھرا گھر ہونا چاہئے تم نے مجھے دھوکے میں ڈالنا چاہا۔ یہ کہہ کرآپ نے وہ دراہم پھینک دیئے اور فرمایا:   مجھے میرا اصل  مال واپس کر دو۔ 
گھر کی مرمت نہ کرواتے : 
(11011)…حضرت سیِّدُنا عثمان بن زُفَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے چچا زاد نے مجھے بتایا کہ آپ کو اپنے والدسے وراثت میں20 دینار ملے جو آپ نے 20 سال میں کھائے ، ہر سال ایک دینار خرچ کرتے ، اسی سے کھانا کھاتے اور اسی سے صدقہ  کرتے اور ایک گھر وراثت میں ملا، آپ اس میں کوئی تعمیر نہیں کرواتے تھے جب بھی کوئی گوشہ ٹوٹ پھوٹ جاتا آپ اسے چھوڑ کر دوسرے گوشے میں منتقل ہو جاتے حتّٰی کہ جس کونے میں آپ رہ رہے تھے اس کے سوا سارا گھر ٹوٹ پھوٹ گیا۔ 
(11012)…حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکواپنی والدہ سے وراثت میں گھر اور کچھ دینار ملے ، آپ گھر کے کمروں میں منتقل ہوتے رہے جب بھی کوئی کمرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا آپ دوسرے کمرے میں منتقل ہو جاتے اور اس کی تعمیر نہیں کرواتے ۔ یہاں تک کہ گھر 
کے سب ہی کمروں میں رہے اور اپنے والد کی جانب سے بھی کچھ دیناروں کے وارث ہوئے تو انہی میں سے خرچ کرتے رہے حتّٰی کہ آخری دینار سے آپ کو کفن دیا گیا۔ 
20سالوں کے لیے 20دینار: 
(11013)…حضرت سیِّدُنا محمد بن زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ان کے کسی ساتھی نے بیان کیاکہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو اپنی لونڈی کی وراثت میں 20دینار ملے جو 20سال کے لیے آپ کو کافی ہوگئے حتّٰی کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ 
(11014)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَمْرورَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت محمد بن عامررَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ نے مجھ سے تجارت چھوڑ دینے کے متعلق مشورہ کیا تو میں نے اور حضرت محمد بن نعمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں اپنی ذات کے لئے اسے جاری رکھنے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے ہمارا دیا  ہوا مشورہ بغداد میں اپنے بھائی کو لکھ کر بھیجا، اس نے جواب میں لکھا:  تمہارے دونوں ساتھیوں نے تمہیں نصیحت نہیں کی، حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنا مال و اسباب بیچ دیا تو کسی نے ان سے کہا:  آپ اسے تجارت میں لگا دیتے تو آپ کو اس سے کچھ نہ کچھ نفع ملتا۔ آپ نے فرمایا:  نہیں، وہ مال یا مجھ سے آگے نکل جائے گا یا میں اس سے آگے نکل جاؤں گا۔ لہٰذاوہ اپنے مال کوایک ایک دینار کر کے خرچ کرتے رہے ، جب ان کا انتقال ہوا تو صرف ایک دیناربچا ہوا تھاجس سے آپ کے کفن کاانتظام کیا گیا۔ 
مختصر سازوسامان: 
(11015)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن صالح بن مسلم عِجْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مرضِ وفات میں ان کے پاس آیا، ان کے گھر میں فقط یہ چیزیں تھیں :  ایک تارکول مَلا ہوا مٹکا جس میں خشک روٹی ہوتی تھی، ایک لوٹا اور مٹی پر پڑی ایک بڑی شاہنجانی اینٹ تھی جسے آپ تکیہ بناتے تھے ، اسی سے ٹیک لگاتے اور اسی پر گال رکھتے ، آپ کے گھر میں  کوئی چٹائی نہ تھی نہ چھوٹی نہ بڑی۔ 
نحیف وکمزور ہونا: 
(11016)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن مُصْعَب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پشت میں ریڑھ کی ہڈی کو اس اخروٹ والے تھیلے سے تشبیہ دیتا ہوں جس سے اخروٹ ظاہر ہو رہے  ہوں(کمزوری کے سبب) آپ کی ریڑ ھ کی ہڈی بھی اسی طرح اُبھری ہوئی تھی۔ 
آپ عَلَیْہِ الرََّحْمَہ کا جود و کرم: 
(11017)…حضرت سیِّدُنا قَبِیْصَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک ساتھی نے ہمیں بتایا کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خاندان کی ایک عورت نے گھی سے ثریدبنا کر افطار کے وقت ایک لونڈی کے ساتھ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف بھیجا، آپ کے اہْلِ خانہ اور اس عورت کے درمیان رضاعی رشتہ تھا۔ وہ لونڈی ایک بڑے پیالے میں اسے لے کر آئی اور حجرے میں اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے اس میں سے کھانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ دروازے پر ایک سائل آکر کھڑا ہو ا، آپ اُٹھے اور وہ پیالہ اس سائل کو دیا اور اس کے ساتھ ہی دروازے پر بیٹھ گئے ، جب وہ کھاکر فارغ ہوگیا تو آپ اندر آئے ، پیالے کو دھویا پھر اپنے سامنے موجود چھوہارے کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اس لونڈی کا بیان ہے کہ میرے خیال میں آپ نے اسے رات کے کھانے کے لئے رکھا تھا۔ آپ نے وہ چھوہارے پیالے میں ڈالے اور پیالہ میری طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا:  اپنی مالکن کو میرا سلام کہنا۔ اس لونڈی کا بیان ہے کہ جو ہم لائے وہ آپ نے سائل کو دے دیا اور جس سے آپ افطار کرنا چاہتے تھے وہ ہمیں دے دیا ، شاید آپ نے بھوکے پیٹ ہی رات گزار دی۔ حضرت سیِّدُناقَبِیْصَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں آپ کو دیکھا کرتا تھا آپ انتہائی کمزور ہو چکے تھے ۔ 
کھانے پینے میں سادگی: 
(11018)…حضرت سیِّدُنا  ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روٹی تین حالتوں میں کھایا کرتے تھے ،  اولاً وہ روٹی تازہ گرم ہوتی پھر باسی  ہوجاتی اور آخر میں ایسی خشک ہو جاتی تھی کہ  آپ اسے اپنے مٹکے میں بھگویا  کرتے ، آپ کے پاس دو مٹکے تھے ایک پانی کا مٹکا اور دوسرا روٹی کا مٹکا، پانی کے مٹکے کو آپ نے زمین میں گاڑا ہوا تھا کہ کہیں اسے ہوا لگ کروہ ٹھنڈانہ ہو جائے ۔ 
64 سال عورتوں سے صبر: 
(11019)…حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں:  حضرت سیِّدُنا داود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 64 سال کنوارے رہے ۔ کسی نے آپ سے کہا:  آپ نے عورتوں سے  کیسے صبر کیا؟