ایک رات داود طائی عَلَیْہ الرَّحْمَہکے ساتھ:
(11004)…حضرت سیِّدُناعبْدُاللہ اَعْرَج یاکسی اوربزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُناداود طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آیااورآپ کے ہمراہ نمازِمغرب اداکی، آپ نوافل مسجدمیں ادانہیں کرتے تھے لہٰذا میں آپ کے پیچھے چلنے لگا، آپ نے مجھے نیچے سے اوپرتک دیکھا، میں نے کہا: کیامیں آج رات آپ کامہمان بن سکتا ہوں؟ آپ اپنے کمرے میں چلے گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ اندرآگیا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جتنا چاہا آپ نے نماز پڑھی پھر دو خشک روٹیاں نکالیں اورمجھ سے فرمایا: قریب آؤاورکھاؤ، مجھے اس بات پررحم آیاکہ میں ان کے ساتھ کھانا کھاؤں، کھانا کھانے کے بعد آپ مشکیزے کے پاس آئے جو گرم موسم کے باوجود کمرے میں رکھا ہوا تھا آپ اس سے پانی پینے لگے ۔ میں نے کہا: ابو سلیمان! بہتر ہوتا اگرآپ کسی کو کہہ دیتے جو آپ کے لئے اس پانی کو ٹھنڈا کر دیتا؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ موسِمِ گرما میں جس کے لیے پانی ٹھنڈا کیا جائے اور موسم سرما میں گرم کیا جائے ایسا شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات کو ناپسندکرتاہے ؟ میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے ۔ فرمایا: دنیا سے روزہ رکھو اور آخرت میں اس سے افطارکرنا۔ میں نے کہا: مزید نصیحت کیجئے ۔ فرمایا: کراماً کاتبین ہی تم سے بات کریں(یعنی خلوت اختیار کرو)۔ میں نے کہا: اور نصیحت کیجئے ۔ فرمایا: اپنے والدین کے ساتھ حسْنِ سلوک کرو۔ میں نے کہا: مزید نصیحت کیجئے ۔ فرمایا: لوگوں سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو مگر ان کی جماعت سے الگ نہیں ہونا۔ اس کے بعد میں چلا آیا۔
ہردن سامان ِآخرت تیار کرو:
(11005)…حضرت سیِّدُنامحمدبن اِشکاب صَفَّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کا بیان ہے : حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گھر کے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ میں نے ایک دن حضرت سے کہا: ابو سلیمان! آپ اپنے اور میرے درمیان رشتے سے واقف ہیں لہٰذا مجھے نصیحت کیجئے ۔ یہ سن کر آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے پھر مجھ سے فرمایا: اے میرے بھائی! دن اور رات تو سفر کی منزلیں ہیں، جو لوگوں کے پاس ایک ایک کر کے آ تی رہیں گی حتّٰی کہ لوگوں کے آخری سفر پر ان کا اختتام ہو جائے گا لہٰذا اگرہر دن اپنی آخرت کے لیے زاد راہ آگے بھیج سکو تو ایسا کرو کیونکہ سفر چاہے جیسا بھی ہوعنقریب منقطع ہو جائے گا جبکہ موت اس سے بھی پہلے آنے والی ہے پس تم اپنے سفر کے لئے زادِ راہ لو اور جو عمل کرنا ہے کرلو، گویا موت تمہیں اچانک آنے والی ہے ، یہ نصیحت میں کر رہا ہوں حالانکہ مجھ سے زیادہ اس نصیحت کو ضائع کرنے والا اور کوئی نہیں۔ یہ فرما کر آپ چلے گئے ۔
متقین کی صحبت کا فائدہ:
(11006)…صالح بن موسٰی کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا: مجھے نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا: متقی لوگوں کی صحبت اختیار کرو کیونکہ یہ تم پر دنیا والوں سے کم بوجھ ڈالیں گے اوردنیا والوں سے زیادہ مددکریں گے ۔
(11007)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہا کرتے تھے : بے شک خوف کی کچھ علامتیں ہیں جو خوف والوں میں دکھائی دیتی ہیں اور اُس کے کچھ مقامات ہیں جنہیں محبت والے جانتے ہیں اور کچھ بے قراریاں ہیں جن کی بدولت شوق والے کامیاب ہوتے ہیں اور کہاں ہیں وہ لوگ؟ وہی لوگ کامیاب ہیں۔ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے فرمایا: جب تم ٹھنڈا پانی پیو گے ، لذت سے بھرپور عمدہ کھانا کھاؤ گے اور گھنے سائے میں چلو گے تو موت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری کو کب محبوب رکھوگے ؟ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی روپڑے ۔
آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کے معاشی معاملات:
(11008)…حضرت سیِّدُنا حفص بن عمر جُعْفِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَااپنی والدہ کے ترکہ سے چار سو درہم کے وارث ہوئے تو 30سال تک اسے کھا کر گزارہ کرتے رہے جب وہ ختم ہو گئے تو مکان کی چھت توڑ توڑ کر بیچنے لگے یہاں تک کہ لکڑیاں، چٹائیاں اور اینٹیں بھی بیچ ڈالیں حتّٰی کہ آدھی چھت باقی رہ گئی اور آپ کے گھر کی دیواریں ان معمولی عرزمی اینٹوں کی تھیں جن سے کوڑے خانے بنائے جاتے تھے اور گھر کا دروازہ درمیانے درجے سے بھی اتنا چھوٹا تھا کہ اگر کوئی لڑکا چھلانگ لگائے اندر پہنچ جائے ، ایک مرتبہ آپ کے ایک دوست نے آ کر کہا: ابو سلیمان! اگر آپ یہ اینٹیں مجھے دے دیں تو میں آپ کے لئے انہیں بیچ دوں؟ شاید ہم آپ کے لئے اس میں کچھ زیادہ منافع حاصل کریں جس سے آپ کو بھی فائدہ ہو۔ وہ اصرار کرتا رہا حتّٰی کہ آپ نے اینٹیں اسے دے دیں پھر اس معاملے میں غور کیا تو اگلے روز عشا کی نماز میں اس سے ملے اور فرمایا: مجھ وہ واپس لوٹا دیجئے ۔ اس نے کہا: میرے بھائی!آخر کیوں؟ فرمایا: مجھے ان میں نجاست شامل ہونے کا اندیشہ ہے ۔ یہ کہہ کر آپ نے وہ اینٹیں لے لیں۔
(11009)…حضرت سیِّدُنا حَفْص بن غِیاث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: آپ کے پاس اپنے غلام کی قیمت میں سے کتنی رقم باقی بچی ہے ؟ آپ نے کہا: اتنے اتنے دینار۔ اس واقعہ کے ایک راوی حضرت ابونُعَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میرے خیال سے وہ بارہ یا تیرہ دینار تھے ۔ حضرت سیِّدُنا حفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: وہ رقم دے دیجئے ، ہم آپ کے لئے اسے ایسے کام میں لگا دیں گے جس سے آپ کو نفع ملتا رہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو عافیت میں رکھے ، بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا، اس مال کو آپ نہ لیجئے کیونکہ آپ اسے اپنے گھر میں رکھ کرمجھ پر خرچ کرتے رہیں گے ۔
(11010)…حضرت سیِّدُنا عطاء بن مسلم حَلَبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 20 سال 300 درہم پر گزارہ کیا، اس رقم کو وہ اپنی ذات پر خرچ کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ان کے بھتیجے نے ان کے پاس آ کر کہا: چچا! کیا آپ کو تجارت ناپسند ہے ؟ فرمایا: ایسا نہیں ہے ۔ اس نے کہا: مجھے کچھ رقم دیجئے میں اس سے تجارت کروں گا۔ آپ نے اسے 60درہم دے دیئے ، وہ ایک مہینے کے بعد آپ کے پاس 120 درہم لایا اور کہنے لگا: یہ اس کا منافع ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تم پورا مہینہ درہم کا نفع درہم سے حاصل کرتے